نماز سے گناہوں کے ختم ہونے کی مثال

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیٔ اکرم ﷺ موسم سرما میں باہر نکلے اور درختوں کے پتے جھڑ رہے تھے آپ نے ایک درخت کی دوشاخیں پکڑ کر انہیں ہلایا ۔ان سے پتے جھڑنے لگے۔ آپ نے فرمایا: اے ابو ذر ! میں نے کہا حاضر ہوں اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ نے فرمایا: مسلمان بندہ اگر نماز پڑھتا ہے، اللہ کی رضا مندی کا ارادہ کرتا ہے تو جس طرح اس درخت سے پتے گر رہے ہیں اسی طرح اس سے گناہ گرجاتے ہیں (احمد)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! تاجدار کائنات ﷺ نے کتنی بہترین مثال بیان فرمائی ۔ اگر کوئی حسّاس ہے اور اسے گناہوں کی خلِش دل میں محسوس ہوتی ہے ۔ اور یقیناً جو مومن ہوگا اسے گناہوں کی چبھن دل میں محسوس ہو گی ہی ۔ تو اسے تسلی دی جا رہی ہے کہ اگر اقامتِ صلوٰۃ کا خیال رکھتے ہوئے پنجوقتہ نماز کی پابندی کرے تو اللہ اس کے گناہوںکو اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح درخت کی شاخوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ اللہ ہمسب کو اقامت ِصلوٰۃ کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔