اسلام کی اخلاقی قدریں

مفکر اسلام علامہ قمرالزماں خاں اعظمی ( جنرل سکریٹری ورلڈ اسلامک مشن لندن)

انسان اس عالم رنگ و بو میں اسباب و وسائل حیات کا محتاج بنا کر بھیجا گیا اور اس کا یہی احتیاج اس کو ایک دوسرے سے انتہائی شدید وابستگی پر مجبور کرتا ہے اور پھر یہ وابستگی انسان کے اس جذبۂ انس و محبت کو ابھارتی ہے جس کے بغیر انسانیت کا تصور بھی ناممکن ہے تعلقات کی دنیا میں انسان کے اسی جذبۂ انس و محبت کو اخلاق حسنہ کا محرک کہتے ہیں جس کے ذریعہ انسان ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اور اس طرح سے انسان کا وہ نظامِ تعاون و تمانع وجود پذیر ہوتا ہے جو انسانیت کی اِساس ہے اب اس صورت میں اگر ہم یہ کہیں کہ اخلاق حسنہ ہی انسانیت کی روح اور اس کی دوسری تعبیر ہیں تو ہمارا یہ دعویٰ واقعے کے عین مطابق ہوگا۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ انسان اگر پھول ہے تو اخلاق حسنہ رنگ و بو،انسان اگر مجسمہ ہے تو اخلاق حسنہ اس مجسمے کی روح، انسان اگر ایک صورت ہے تو اخلاق حسنہ اسی صورت کی زندہ حقیقت،جس طرح سے ایک پھول بغیر رنگ و بو کے بیکار، ایک جسم بغیر روح کے نا قابل التفات اور ایک صورت بغیر حقیقت کے زندہ اور متحرک نہیں رہ سکتی ویسے ہی ایک انسان بغیر اخلاق حسنہ کے کاغذی تصویر کے علاوہ کچھ بھی نہیں ،یہی وجہ ہے کہ حیات انسانی کے تمام شعبوں پر اخلاق حسنہ کے انمٹ اور لا فانی نقوش ثبت ہیں،خواہ وہ حیاتِ انسانی کی اطاعت و عبادت کا شعبہ ہو ،خواہ اقتصادیات و معاشیات کا،خواہ سیات و مدنیت عامہ کا شعبہ ہو،خواہ معاشرت و معاملات کا ،ان تمام شعبہائے حیات کو اخلاق سے گہری وابستگی ہے …… ا خلاق حسنہ ان تمام شعبوں کی بقا ء اور ترقی کی ضامن اور اخلاق رذیلہ ان کی تباہی و تنزلی کی محرک ہے۔اخلاق حسنہ ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے کہ جس کی عظمت کا انکار ابتدائے آفرینش سے لیکر آج تک معاشرئہ انسانی کے ایک فرد نے بھی نہیں کیا ،آج ہر شئی کے متعلق انسان کی دو رائیں ہیں ،کوئی کہتا ہے زمین متحرک اور گول ہے ،کوئی کہتا ہے زمین ساکن اور مسطح ہے ،کوئی کہتا ہے کہ آسمان انسان کی حد نظر کا نام ہے ،کوئی کہتا ہے ایک ناقابل خرق التیام جسم ہے ،کوئی کہتا ہے انسان مجسمئہ شہوانیت ہے ،کوئی کہتا ہے انسان مجسمۂ روحانیت ہے اور کوئی کہتا ہے کہ ان دونوں کے حسین امتزاج کا نام ہے ،کوئی انسان، روح کو ایک خارجی حقیقت تصور کرتا ہے ،کوئی محض مادے کی ترقی یافتہ شکل قرار دیتا ہے مگر اخلاق اور صرف اخلاق ایک ایسی قوت ہے جس کے بارے میں دنیا کا کوئی انسان اختلاف کی جرأت نہیں رکھتا ۔اخلاقی قدروں کا حامل تو بہرحال اخلاق کی تعریف کریگا لیکن اگر آپ کسی ایسے انسان سے سوال کریں جو معاشرے کا سب سے گرا ہوا فرد ہو جس کا کردار اخلاقی کمزوریوں کا مجموعہ ہو تو وہ بھی یہی کہے گا کہ سچائی امانت ،دیانت،سخاوت ، صبر و شکر ،عفو و درگزر،حلم و بردباری یہ سب اچھی عادتیں ہیں اور جھوٹ و فریب اور مکاری،کینہ وظلم، حسد وچغلی یہ سب بری عادتیں ہیں۔اخلاق ایک ایسی طاقت ہے جس کے آگے ہر طاقت کو سرنگوںہونا پڑتا ہے وہ اپنے اندر ایک حیرت انگیز تسخیری صلاحیت رکھتا ہے جس کے ذریعہ سے وہ شے کو مسخر کرلیتا ہے ،جس مقام پر ساری مادی طاقتیں جواب دے جاتی ہیں وہاں صرف اخلاق کے ذریعہ سے انسان غالب و سرفراز ہوتا ہے ،انسان اپنی مادی طاقتوں کے سہارے پیروں میں زنجیریں تو پہنا سکتا ہے مگر دلوں کو نہیں جیت سکتا مگر اخلاق ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعہ سے انسان صاحب خلق کے پاس خود پابہ زنجیر ہو کر چلا آتا ہے اور اپنی متاع جان نچھاور کردیتا ہے ۔لوگ کہتے ہیں اسلام تلوار سے پھیلا ،میں عرض کروں گا ہاں اسلام تلوار ہی سے پھیلامگر لوہے کی صیقل شدہ تلوار سے نہیں جو انسان کا خون چاٹ کر اسے فنا کے گھاٹ اتار دیتی ہے بلکہ اخلاق کی بے مثال تلوار سے ،جو انسان کے قلب و جگر سے پار ہوکر اس کو منزل حیات سے آشنا کرتی ہے اور اس کو انسانیت کا صحیح مفہوم سمجھاتی ہے۔

اسلام میں اخلاق حسنہ کا مقام: یوں تو تمام مذاہب ِعالم نے اخلاق کی تعلیم دی ہے اور دنیا کے سامنے اخلاق کا کوئی نہ کوئی تصور ضرور پیش کیاہے مگر اخلاق کی جو ہمہ گیر تعلیم اسلام دیتا ہے دنیاکے سارے مذاہب اس سے خالی ہیں،اسلام نے اخلاقِ حسنہ کوبلند ترین مقام عطا فرمایا یہاں تک کہ آقا ئے دو جہاںا نے ارشاد فرمایا کہ میری بعثت کا مقصد اخلاق کی تکمیل ہے۔ ارشاد ہوتاہے:’’ بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الَاَخْلاَقِ‘‘ یعنی میں اس لئے مبعوث کیا گیا ہو ںتاکہ اخلاق حسنہ کی تکمیل کروں،حدیث پاک کے الفاظ بتا رہے ہیں کے اسلام سے پہلے اخلاق حسنہ کی تکمیل نہیں ہوئی تھی بلکہ ہر ہر قوم کوان کی محدود معا شرتی زندگی کے مطابق انہیں اخلاقی قدروں سے روشناس کرایا گیا تھا مگر چونکہ آقائے دوجہاں کی ذات اقدس پردین پاک کی تکمیل ہوئی اسی لئے آپ کو دنیا کا سب بڑا معلّمِ اخلاق بنا کر بھیجا گیا۔

قران کریم ارشاد فرماتا ہے’’ وَاِنّکَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِیْمٍ ‘‘یعنی آپ ہی خلق عظیم کی بلندیوں پر فائز ہیں پھر اس عظیم ترین معلّم اخلاق ا نے اخلاق کی ہرہر قدر کو نکھارا اور سنوارا اور دنیاکے سامنے ایک مکمّل ترین نظامِ اخلاق کی صورت میں پیش فرمایا جس کو دیکھ کر دنیا کے ہر با شعور نے اس کی عظمت کا اعتراف کیا،آقائے دو جہاںا نے فرمایا: راستے سے تکلیف دہ شئے کا ہٹا دینا بھی ایمان کا جزہے نیز آپ نے ہرمسلمان کو حکم فرمایا کہ وہ ان اخلاق حسنہ اور اوصاف جمیلہ کو اختیارکریں جو اسلام کی روح اور معیا رتکمیل ایمان ہیںچنانچہ آپ نے ارشاد فرمایا: ’’لایبلغ الانسان حقیقتہ الایمان یحبب للناس مایحبّ نفسہ من الخیر‘‘یعنی انسان ایمان کی حقیقت کو اس وقت پائے گا جب وہ لوگوں کیلئے بھلائی میں سے وہی پسند کرے جو اپنے نفس کیلئے پسند کرتا ہے۔

آقائے دو جہاںﷺ نے اخلاق حسنہ کی ہر ہر قدر کو اسلام کیلئے مشروط فرمایا،آپ نے ارشاد فرمایا ’’ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے لوگ محفوظ رہیں بعض جگہ آپ نے اخلاق حسنہ کو جنت میں جانے کا واحد ذریعہ قرار دیا ،آپ نے ارشاد فرمایا :تم جنت میں نہیں جا سکتے جب تک مو من نہ بنو اور تم مومن نہیں بن سکتے جب تک آ پس میں محبت نہ کرو ،کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتا دوں کہ اگر تم اسے اختیار کر لو تو باہم محبت سے رہنے لگو ؟آپس میں سلام کو رواج دو حتیٰ کہ جب آپ کسی قوم سے بیعت لینے اوراطاعت کا اقرار کراتے تواخلاقی قدروں ہی کی پابندی کا حکم دیتے چنانچہ اسلام کی سب سے پہلی اجتماعی بیعت ، بیعت عقبہ اولیٰ ہے جس کی شرائط مندرجہ ذیل اخلاقی قدریں تھیں ۔

(۱)ہم خدائے واحد کی عبادت کریں گے اور شرک نہ کریں گے ۔

(۲)ہم چوری اور زنا کاری نہ کریں گے۔

(۳)ہم اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے ۔

(۴)ہم کسی پر تہمت نہ لگائیں گے نہ عیب کریںگے۔

(۵)ہم اپنے نبی کی اطاعت کریں گے۔

آپ نے اخلاقی قدروں کے حامل کو مومن اور بد اخلاق کومنافق فرمایا۔ چنانچہ آپ نے متعددمقامات پر ارشاد فرمایاکہ مومن وہ ہے جووعدہ وفا کرے جب گفتگوکرے تو اس کی زبان سے سچ ہی نکلے،جب اس کو امانت دار بنایا جائے تو امین ثابت ہو۔آپ نے ارشاد فرمایا جو بے وفائی کرے ،جھوٹ بولے،خیانت کرے ،غیبت اور چغلی کرے وہ منافق ہے۔حتی کہ بغیر محاسن اخلاق کو اپنائے ہوئے محض نماز اور روزہ بھی کارآمد اور موجب نجات نہیں ہے ۔سرکار دو عالم ا نے صحابۂ کرام سے ارشاد فر مایا :کیا تم جانتے ہو کہ میری امت کا نادار و مفلس شخص کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جس کے پاس مال نہ ہو،آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نہیں بلکہ وہ شخص جو نماز اور روزہ لیکر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوا مگر اس نے لوگوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالے تھے ،اموال غصب کئے تھے، غیبت اور چغلی کی تھی،خون نا حق کیا تھا ،پس جب اللہ کی بارگاہ میں اس کے خلاف لوگ فریاد کریں گے تو اس کے سارے اعمال فریادیوں کو دے دئے جائیں گے اور اس کو جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔

ایک دفعہ ایک صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے پڑوس میں دو عورتیں ہیں،ایک تو شب و روز عبادت کرتی ہے مگر پڑوس والے اس کی بداخلاقی سے سخت نالاں ہیں اور دوسری محض فرائض و واجبات ہی ادا کرتی ہے مگر پڑوس والے اس سے خوش ہیں ۔آپ نے ارشاد فرمایا :جس کے پڑوسی خوش ہیں وہ اچھی ہے اور وہ جنت میں جانے والی ہے ۔

ان احادیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ایمان واسلام کی تکمیل بغیر مکارم ِاخلاق کے اپنائے ہوئے ناممکن ہے ۔قرآن پاک نے آقائے دوجہاں اکی صداقت پر آپ کی مقدس اور معصوم زندگی ہی سے استدلال کیا ہے یا دوسرے الفاظ میں اخلاق حسنہ کو بطور دلیل پیش فرمایا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے :’’فقد لبثتُ فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون‘‘یعنی میں اپنی بعثت سے قبل بھی ایک زمانے تک تمہارے درمیا ن زندگی گزار چکا ہوں ،کیا تم عقل و سمجھ نہیں رکھتے ؟ یعنی کیا وہ زندگی میری صداقت کی بیّن دلیل نہیں ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو اخلاق حسنہ اور صفات جمیلہ آقائے دو جہاں کی نبوت و رسالت کی دلیل ہیں وہ اخلاق ایک مومن و مسلم کے کمال ایمان واسلام کی دلیل بدرجۂ اتم ہوں گے ،عبادت اور اخلاق ایک مسلم کی زندگی کی دو مسلم حقیقتیں ہیں ان میں سے اگر ایک بھی نہ ہو تو مسلمان بہ ہمہ صفت مسلمان نہیں رہتا۔فرشتے محض عبادت کے پابند ہیں اس لئے کہ وہ عالم و اسباب مادی و علائق دنیوی سے پرے ہیں مگر انسان اخلاق و عبادت کے مہکتے ہوئے پھولوں کے ایک حسین گلدستے کا نام ہے ۔

اخلاق حسنہ اسلام کی طا قت کا سرچشمہ ہیں

اخلاق حسنہ اسلام کی انفرادی اور اجتماعی طاقتوں کا سر چشمہ ہیں،ان کے ذریعہ سے معاشرۂ اسلامی کا تنہا ایک فرد بھی کامل سکون اور طمانیت ِقلب حاصل کرتا ہے اور اجتماعی حیثیت سے پورا معاشرئہ اسلامی دوسرے غیر اسلامی معاشرے والے پر فوقیت رکھتا ہے اور انہیں ایمان کی دعوت دینے کے بعد اپنے اندر جذب کر لینے اور سمو لینے کی پوری پوری استعداد رکھتا ہے ۔اسلام کا تصور اخلاق اپنی گہرائی اور اثر اندازی کے اعتبار سے عالم گیر ہے ،کائنات انسانی کا کوئی فرد اس کی دسترس سے باہر نہیں وہ ہر طرح کی طبقاتی حد بندیوں سے پاک و صاف ہے ، رنگ و نسل ، ملک و قوم اور ہر طرح کی وطنی اور جغرافیائی تقسیموں سے بہت بلندہے،اس کا دائرئہ عمل غیر محدود ہے ،صحابۂ کرام کے ہاتھوں میں اخلاق ہی کی عظیم تلوار تھی جس کو لے کر انہوں نے صرف چند برسوں میں برِّی اور بحری اعتبار سے پوری دنیا کی اس ناف پر قبضہ کرلیا جہاں سے دنیا کے ہر فرد کو اسلام کا پیغام امن و راحت سنایا جا سکے ۔اشاعت اسلام میں اخلاق ہی کی حیرت انگیز قوت کارفرما تھی۔اسلامی معاشرے اخلاقی اسلحوں سے مسلح ہوتے ہیں اس کو پھر اور کسی اسلحے اور ساز و سامان کی ضرورت نہ پڑتی۔

رحمت عالم آقائے دو جہاں ﷺ کی مجلس پاک میں صحابۂ کرام انتہائی مؤدب بیٹھے ہیں اچانک آقائے دو جہاں ارشاد فرماتے ہیں ’’تم میں سے کون ہے جو ملک چین تبلیغ کے لئے جائے؟ فوراََ حضرت عبد الرحمٰن رضی اللہ عنہ اٹھتے ہیں اور بارگاہ مصطفی ا ہی سے چین روانہ ہو جاتے ہیں ۔

آپ غور فرمائیے! ان کے پاس کون ساسا مان اور کون سے اسلحے تھے جس سے مسلح ہو کر وہ تن تنہا انتہائی قوتِ محکم کے ساتھ ایمان ویقین،فتح و کامیابی کی دولت سے مالا مال ہو کر وہ اتنی دور اشاعت اسلام کے لئے تشریف لے جاتے ہیں آپ پکار اٹھیں گے وہ اخلاق ِحسنہ کے ساز و سامان اور اسلحوں سے آراستہ تھے جن کو زیب تن کر لینے کے بعد پھر کسی اسلحے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

فاتح قسطنطنہ حضرت طارق علیہ الرحمہ سے پہلے حضرت ابوایوب انصاری ص تھے جو قسطنطنیہ پہونچے تھے اور اپنی بلند اخلاقی کا سکہ یورپ کے اس مرکز پر بٹھا چکے تھے ۔میں کہوں گا کہ قسطنطنیہ تو اس وقت فتح ہو چکا تھا جب سید ابوایوب انصاری ص نے اہل استنبول کو اپنے اخلاق حسنہ سے گردیدہ بنا کر مسلمان کر چکے تھے ،دنیا کے متعلق اسلام کا اخلاقی نقطئہ نظر یہ ہے کہ پوری دنیا ایک کنبہ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس طرح سے ایک کنبہ کا ہر فرد ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر شریک ہے آقائے دو جہاں ادنیاکو اخلاق حسنہ کے اسی مضبوط ترین رشتے میں منسلک کرنے آئے تھے چنانچہ دنیا کو یہی تصور اخلاق عطا فرمایا جس کا اعتراف دنیا کی مشہور شخصیتوں نے کیا ہے ۔پروفیسر مار گرلیتھ لکھتا ہے ’’حضرت محمد ا نے عرب کے تمام منتشر قبائل کو ایک قوم بنا دیا، ایک مذہب عطا فرمایا اور ان میں ایک ایسا اخلاقی رشتہ قائم فرمادیا جو خاندانی رشتوں سے زیادہ محکم ہے۔

اسلامی نظام عبادت اور اخلاق حسنہ:

ہم جب اسلامی نظامِ عبادت پرغور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم کوعبادت الٰہی بھی اخلاق حسنہ ہی سے مزیّن کرتی ہے نماز کا جو فائدہ قرآ ن عظیم نے پیش فرمایاہے وہ اخلاقی بے راہ روی سے ہی بچنا ہے۔قرآن ارشاد فرماتا ہے: ’’ انّ الصلوۃ تنھیٰ عن الفحشاء والمنکر‘‘بیشک نماز فحش اعمال و ممنوعات سے روک دیتی ہے ، نماز میں انسان ۲۴ ؍گھنٹوںمیں پانچ وقت کھڑا ہو کر اپنے کو خدا کے حضور حاضر سمجھتا ہے اس طرح سے وہ ایک عظیم احتساب نفس کرتا ہے برائیوں سے بچنے کا یہ ایک نفسیاتی طریقہ ہے ، روزہ کے متعلق آقائے دو جہا ں انے ارشاد فرمایا: ’’ لیس الصیام من الاکل و الشرب انّ الصیام من اللھو و الرفث‘‘ یعنی روزہ کھانے پینے سے رک جانے کا نام نہیں بلکہ روزہ برائیوں سے رک جانے کا نام ہے اس لئے ہاتھ ،ناک،کان،زبان ،آنکھ سب کا روزہ ہوتا ہے کہ اعضاء سے سرزد ہونے والی غیر اخلاقی حرکتوں سے باز آ جائے خود روزہ صائم کے دل میں ایک ایسا داعیہ پیداکرتا ہے جس کے ذریعہ سے بے کسوں غریبوں اور مفلسوں کی امداد پر آمادہ ہوتا ہے۔

زکوٰۃ معاشرے کی فلاح و بہبود غریبوں بے کسوں اور مظلوموں کی امداد ہی کے لئے مقّرر فرمائی گئی ہے ،حج کا مفہوم یہ ہیکہ زندگی میں ایک بارانسان اپنے عالمی بننے کے لئے ایک فرد کی حیثیت سے دیکھے اور اجتمائی طور پر پورے کرّئہ ارض پربسنے والوں

کے رنج و غم میں برابر کا شریک بن جائے ،غور فرمائیے کہ اسلامی عبادت پر اس طرح سے چھایا ہوا ہے کہ اخلاق کے بغیر عبادت الٰہی کا تصوّرہی ناممکن ہے ۔

اسلام کا اخلاقی نظام اعتدال وتوازن:

کہنے کو تو جیسا کہ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہو ں کہ دنیا کی بہت سی قوموں اور بہت سے با شعور افراد نے اپنے اپنے اخلاقیات نظام پیش کیے مگر قدیم و جدید تاریخوںکے مطالعہ کے بعد اسلام کے علاوہ آج تک کوئی ایسا نظام اخلاق نہ ملا جو افراط و تفریط سے پاک اورحیات انسانی کی تمام جزئیات کا احاطہ کئے ہوئے ہو کسی نے محض انسان کی حیوانی اورشہوانی قوّتوں کو فنا کر دینے کا نام اخلاق رکھا تو کسی نے محض نفس پرستی اور شہوت پرستی ہی اپنے نظام اخلاق کی اساس رکھی اس سلسلے میں آپ قدیم اخلاقیات روم و یونان کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اور قوموں کی تباہی و بربادی کا باعث ان کی نفس پرستی اور شہوت رانی تھی جو حد سے زیادہ تجاوز کر گئی تھی ان کے نزدیک جذبۂ شہوت کے لئے سامان تسکین مہیا کرنا ہی عین اخلاق تھا۔

دوسری طرف مسیحی یورپ کا جائزہ لیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس دور میں جب پورا یورپ یکساں نظام میں جکڑا ہوا تھا اس کے نزدیک نوازع فطریہ اور عواطف شہوانیہ کر دینے ہی کا نام اخلاق ہے۔اس سلسلہ میں اصل کلیسا نے سخت ترین اقدام کئے اور بالآخر ایک وقت وہ بھی آیا کہ پورے یورپ نے قلادئہ عیسائیت اپنی گردن سے اتار پھینکا اور شہوانیت میں ڈوب کر رہ گیا۔

موجودہ یورپ پندرہویں صدی عیسوی سے پہلے کے یورپ کا ردعمل ہے مگر اسلام اور صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ انسان نہ محض مجسمئہ شہوانیت ہے جیسا کہ قدیم یونانی اور رومی نظام اخلاق کا تصور تھا اور نہ محض مجسمئہ روحانیت جیسا کہ کلیسائی نظام اخلاق کا خیال تھا بلکہ انسانی نوازع شہوانیت اور عواطف فکریہ و روحانیہ دونوں سے مرکب ہے اس لئے کہ نہ اس کے عاطفۂ فکر و روح کو جڑ سے فنا کیا جا سکتا ہے اور نہ نوازع شہوت و حیوانیت کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے نہ اسلام رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے اور نہ صرف دنیا داری کی بلکہ ایک طرف تو اسلامی نظام اخلاق انسان کے فطری جذبات کو سکون دینے کیلئے نکاح کو انتہائی پسندیدہ امر تصورکرتا ہے حتیٰ کہ آقائے دو جہاں اارشاد فرماتے ہیں : ’’النکاح من سنتی فمن رغب عن سنتی فلیس منی‘‘ اور دوسری طرف وہ شہوانی قوتوں کو اخلاقی ڈسپلن میں لانے کیلئے زنا اور دوسری غیر فطری احتمال افعال پر انتہائی معقول حدیں جاری فرماتا ہے ۔پردے کا نظام پیش کرتا ہے غض بصر( نگاہ نیچی کرنے) کا حکم دیتا ہے عریانیت اور اختلاط جنسی سے روکتا ہے محرکات و دواعی شہوت مثلاًعریاں تصویریں، فحش لٹریچر،جذبات انگیز آرٹ ،ناچ گانے باجے فلمیں اور شہوانی ادب پر مکمل باپندی عائد کرتا ہے ۔اس کے علاوہ انسان کے عاطفہ ٔفکروروح کو مکمل سکون عطا فرمانے کیلئے اور مدارج ترقی پر پہنچانے کیلئے ایک مکمل نظام عبادت پیش کرتا ہے پھر نظام اخلاق کو نظام عبادت سے اس طرح مربوط فرما دیتا ہے اخلاقی قدریں عبادت بن جاتی ہیں، اور عبادت کیااقدار غالیہ اخلاقی قدروں کی ممدو معاون۔

جذبات پر کنٹرول:غور کیجئے تو یہ بات انتہائی واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انسان جب اپنے جذبات کاغلط استعمال کرتا ہے تووہ طرح طرح کی اخلاقی خرابیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جذبات کو اگر صحیح طور پر استعمال کیا جائے تویہی جذبات روح ایمان بن جاتے ہیں چونکہ شعر وادب انسان کے جذبات کے عکاس وترجمان ہوتے ہیں اسلام شعروادب پر بھی پابندی عائد فرماتا ہے، قرآن پاک ارشاد فرماتا ہے :’’ الشعراء یتبعھم الغاوؤن‘‘ یعنی شعراء کی اتباع بے راہ رو لوگ کرتے ہیں۔ کیا آپ نہیں دیکھتے ہیں کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے رہتے ہیں، اور ہر وہ بات کہتے ہیںجو خود وہ نہیں کرتے۔

ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتاہے ’’وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ‘‘ یعنی ہم نے رسول محترم کو شعر نہیں سکھایا اور نہ شان نبوت کو یہ زیب دیتا ہے۔ غور فرمائیں تو یہ واضح ہو گا کہ قرآن کریم کے ان حکیمانہ ارشادات میں کتنی ٹھوس اخلاقی تعلیم مضمر ہے زمانۂ جاہلیت کے اشعار اور عصر حاضر کا جذباتی ادب دونوں کی ایک ہی حیثیت ہے۔ دونوں ہی مخرِّب ِاخلاق ہیں۔ عریاں نگاری آج کے ادب کا طُرَّۂ امتیاز ہے، حتیٰ کہ آج کل اگر کوئی شخص کسی سنجیدہ فکر کی دعوت دیتا ہے تو وہ بھی عصر حاضر کے شہوت انگیز روپ میں مثلاًجب کمپنیوں کو اپنا نظریۂ معاش پیش کرنا ہوا تو انہوں نے ایک ادبی تحریک چلائی جسے ترقی پسند ادب کہتے ہیں پھر اس طرح سے انہوں نے اس ادب کے روپ میں انتہائی حیا سوز ادب پیش کیا جو انسان کو اخلاقی پستی کے قعر مذلت میں ڈھکیل دینے والاہے اور جب ان سے سوال کیا گیا کہ تم نے فحش نگاری کو اپنی تحریک معاشی اور مارکسی نظریۂ اضداد کی اشاعت کا آلۂ کار بنایا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم معاشرتی ناموروں کو منظر عام پر لا کر معاشرے کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔ غور فرما ئیے کہ اگر کسی قصیدے کی تشبیب ہی کو انسان بے خود و مرمت بنا دے اور اسے حال آنے لگیں تو وہ قصیدے کے دعائیہ پر کب غور کرے گا، یوں ہی موجودہ ترقی پسند کی عریاں نگاری انسان کے نوازع شہوانیہ کو ہوا دے کر مشتعل کر دیتی ہے اور وہ پھر ترقی پسند ادب کی دعوت اصلاح معاشرہ سمجھنے کا اہل نہیں رہ جاتا۔

اسلام مندرجہ بالا آیتوں میں ایسے ہی شعر وادب پر پابندی عائد فرما تا ہے لیکن وہ شعرو ادب جو جذبات کی صالح قدروں کوپیش کریں وہ بلبل سدرہ کی تائید کے مستحق ہیں جیسا کہ آقائے دو عالم ا نے جناب حسّان ص کے متعلق ارشاد فرمایا: ’’اللھمّ ایدہ بروح القدس‘‘ یوں ہی آقا ئے دو جہاں انے جناب کعب کو نوازا اور ان کے قصیدئہ نعتیہ کو پسند فرمایا اسلام اس صالح ادب کی ہمت افزائی کرتا ہے ۔ جو اصلاح معاشرہ کی صالح قدروں کاحامل ہو۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’ان الشعر لحکمۃ وان البیان لسحر‘‘بیشک شعر حکمت اور بیان جادو ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات روشن ہوجائے گی کہ تعلیم یافتہ طبقہ کے۵۰؍فیصدافرادآج کے فحش شعروں، افسانوں، ڈراموں، ناولوں کے ہاتھوں اخلاقی پستی اور گراوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ کاش ایک ایسی تحریک ادب منظر عام پر لائی جاتی جس میں حیا سوز مناظر نہ پیش کئے جاتے، جو اسلام کی اخلاقی قدروں کی عکاسی کرتی اور جذبات انسانی کی صالح قدروں کو منظر عام پر لاکر اخلاقی اعتبار سے معاشرے کی اصلاح کرتی،دوسرے لفظوں میں وہ ادب اسلام کی اخلاقی قدروں کا آئینہ دار ہوتا۔ یوں ہی انسان مسرت اور خوشی کے موقعوں پر اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں کر پاتا، اسلام کے علاوہ دنیا کی دوسری قوموں کی عیدوں،خوشیوںکے دنوں،اور تہوارں کا جائزہ لیجئے تو ایسا محسوس ہوگا کہ گویا اس دن ان پر سے ساری اخلاقی پابندیاں ہٹالی گئی ہیں۔عیسائیوں کے تہواروں میں عیاشی اور شراب نوشی عام ہو جاتی ہے۔ ہندوئوں کی ہولی اور دیوالی میں پانی اور رنگ کی ارزانی کے ساتھ ساتھ خون عصمت بھی انتہائی ارزاں ہو جاتا ہے، زبان ہر قسم کی فحش باتوں کا مورد بن جاتی ہے، مجوسیوں کے نو روز وغیرہ میں دنیا کی تمام برائیاں پائی جاتی ہیں مگر اسلام کی عیدیں سبھی پاکیزہ اور انسانی اخلاق کی آئینہ دار ہوتی ہیں، دل سے دل ملتے ہیں،انسان ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوتا ہے، دو رکعت نماز بھی ادا کرتا ہے کہ کہیں خوشی اور مسرت کے جذباتی بہائو میں وہ خدا کو نہ بھول جائے اور اخلاقی حدوں کو نہ پامال کر بیٹھے۔

قوت غیض و غضب پر پابندی:انسان کی بد اخلاقی کا عظیم محرک اس کا غصہ ہوتا ہے۔ انسان غصہ کی حالت میں ہر ممکن اخلاقی جرم کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے اور ہر اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے جو ایک درندہ اور خونخوار جانور ہی سے ممکن ہے۔ غصہ ایک قسم کا جنون ہے اور غضبناک انسان عالم جنون میں عقل و خرد کو پرے ہٹا کر ہر قسم کی حیا سوز حرکت کا ارتکاب کر لیتا ہے حتیّٰ کہ بعض اوقات اس کے غصے کا سہارا لے کر اس کے اندر کا سویا ہوا شیطان جاگ اٹھتا ہے۔کسی عقلمند کا قول ہے کہ اگر تم انسان کی فطرت اصلیہ کو بے نقاب دیکھنا چاہو اور اس کی شرافت اور شیطانیت کو آزمانا چاہو تو اس کو غصہ دلا دو، زیادہ مال دیدوپھر وہ صورت اس کی فطرت اصلیہ کا آئینہ ہو جائیگی۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان دونوں مخرب اخلاق چیزوں پر پابندی عائد فرما دی ہے۔ آقائے دو جہاںانے ارشاد فرما یا :سب سے زیادہ طاقتور وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے اوپر قابو رکھے اور سب سے حلیم وہ جو قدرت پا کر چھوڑ دے۔ غصہ کے اس نفرت انگیز جذبہ پر پابندی عائد کرنے کے لئے اسلام ’’الحب فی اللّٰہ و البغض فی اللّٰہ‘‘کا قانون پیش فرماتا ہے۔ سوچئے تو سہی اسلام نے ہمارے سامنے اخلاق کا معیار کتنا اونچا رکھا ہے، دشمنوں کے ساتھ نیکی، فریب کاروں کے ساتھ وفا داری،سختی کرنے والوں کے ساتھ نرمی کے ساتھ رحم و کرم کا برتائو۔یہ ہیںاسلام کی اخلاقی تعلیمات اور تخلقوا و اخلاق الم کی تفسیر۔

عفو و درگزر،صبر و شکر، حلم و بردباری:

اسلام کی یہی وہ اخلاقی قدریں ہیں جو اشاعت اسلام کا سب سے بڑا سبب ہیں اور اسلام انہیں خوبیوں سے ساری دنیا پر چھا گیا۔ خود قرآن پاک نے آقائے دو جہاں ا کی نرم دلی کو اشاعت کا سبب اور لوگوں کو اپنے سے قریب تر کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری ہوتا ہے: ’’و لو کنت فظاً غلیظ القلب لا نفضوا من حولک‘‘ اسلام کی یہی خوبیاں ہیں جو اس کے اور دوسرے مذاہب کے درمیان خط امتیاز کھینچتی ہیں، کسی قوم کے عفو و درگزر،حلم و بردباری،اور صبر و شکر کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اس کو اقتدار دے دیا جائے اور وہ اقتدار حاصل کر نے کے بعد اپنی مخالف قوموں کے ساتھ جو سلوک کرے اس سلسلے میں ہم جب دوسری قوموں کی تاریخوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دوسری قوموں نے جب اپنے دشمنوں پر قابو پایا تو ایسی وحشیت و بربریت کا مظاہرہ کیا کہ جس سے ہٹلر و چنگیز کی روحیں کانپ جائیں۔

توریت میں مذکور ہے کہ اگر مخالف مذہب والے اختیار میں آجائیں تو ان کے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کر ڈالو۔ یہی وجہ ہے کہ جب ملک یمن کے حاکم زونورس نے یہودی مذہب اختیار کیا تو اس نے عیسائیوں کو جبراََ یہودی بنانا شروع کیا۔ اور جب عیسائیوں نے انکار کیا تو ان کو زبردستی آگ میں جھونک دیا گیا۔ عیسائیوں کی کتاب ’’سلاطین‘‘میں مذکور ہے کہ تم انہیں مارڈالو اور پیٹ والیوں کے پیٹ پھاڑ ڈالو، یہی وجہ ہے کہ یونانیوں اور رومیوں اور صلیبی جنگ آزمائوں نے رچرڈ اور فلپ کی صورت میں جو قیامتیں ڈھائیں تاریخ ان المناک اور خونی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔

’’کائونٹ آف سیرین نے‘‘عورتوں اور بچوں سے بھری ہوئی مسجد کو بارود سے اڑا دیا، خسرو پرویز جو آتش پرست تھا اس نے عیسائیو ں کی مقدس زیارت گاہوں میں آگ لگوادی اور مرقد مسیح کلیسا بینا اور کلیسا فلسطین کو خاکستر کر دیا اور ۹۵ ہزار عیسائیو ں کو تہ ِتیغ کر دیا، یجروید کو جینیو ں نے بہت ستایا جو خود جینی تھا مگر اپنی بیوی کی ترغیب سے اس نے شیو مت اختیار کر لیا تھا پھر اس نے ۸ ہزار جینیوں کے بدن سے چمڑا اتار کر انتہائی تکلیف سے مارا، ان تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا کے دوسرے مذاہب کے ماننے والوں نے اپنے مخالفین پر قابو پا لینے کے بعد انتہائی وحشت وبربریت اور ظلم وستم کو جائز رکھا مگر تاریخ اسلام کا سب سے زریں دن وہ تھا جب آقا ئے دو جہاں ا ایک عظیم فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے دشمنان اسلام لرزہ بر اندام تھے کہ آ ج ہم سے ہماری سابقہ عداوتوں کا بدلہ لیا جائے گا، غور فرمائیے اس وقت اہل مکہ میں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے سرکار دو عالم اکے قتل کا پروگرام بنایا تھا شعب ابی طالب میں محصور رکھ کرمسلمانوں کو فاقہ کشی گھاس اور سوکھے چمڑے کھانے پر مجبور کیا تھا۔

حضرت بلال حبشی ص کو تپتی ہوئی ریت پر گھسیٹا گیا۔ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے دندان مصطفی ا کو شہید کیا تھا۔ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے آپ کو دیوانہ، پاگل جادوگر کہا تھا۔ العیاذ باللہ۔ وہ وحشی بھی تھا جس نے عم مصطفی ا جناب امیر حمزہ کو شہید کیا تھا۔ وہ ہندہ بھی تھی جس نے ان کا مقدس کلیجہ چبایا تھا۔ وہ ہباہ بھی تھا جس نے حضور ا کی صاحبزادی جناب زینب کو نیزہ مارا تھا۔ جس کی تکلیف سے ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ ابوسفیان بھی تھے جنہوںنے غزوئہ بدرواحد وحنین میں آقائے دوجہاں ا کو ان کے جدامجد کی تعمیر خانہ ٔ کعبہ میں دورکعت نماز نہیں پڑھنے دی تھی۔ اور کنجی دینے سے سخت انکار کیا تھا یہ سبھی لوگ تھے ان دشمنان اسلام کی موت ان کی آنکھوں کے سامنے پھر رہی تھی اور جب آقائے دوجہاںکے سامنے لوگ دستہ بستہ لائے گئے توآپ نے ایک عام اعلان ِعفو ودرگذر فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا جاؤ تم سب لوگ آزاد ہو۔ تم سے کوئی باز پرسی نہیں۔ ’’الیوم یوم البر والوفا‘‘ سوچئے توآج رحمت عالم ا کے علاوہ کوئی اور فاتح ہوتا توجوش انتقام میں نہ جانے کس قدر وحشت انگیزی کا مظاہرہ کرتا۔ مگر آقائے دو جہا ں ا کے اس عفو ودرگذر اور خلق عظیم نے ان کے دل جیت لئے اور تھوڑی ہی دیر میں پورا مکّہ آغوش اسلام میں آگیا جو لوگ ظالم تھے وہی لوگ مظلوموں کے حمایتی بن گئے جو لوگ اسلام کے دشمن تھے وہی لوگ اسلام کی قوت وشوکت ہوگئے، خلق عظیم کی اس بے پناہ طاقت نے ساری دنیا سے اپنی عظمت کا لوہا منوایا۔

رفتا روگفتار پر پابندی

انسان کی رفتار وگفتارانسان کے اخلاق اور اسکی حقیقت کے آئینہ دار ہوتی ہیں۔ رفتار وگفتار سے خوب اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ کس معیا ر کا آدمی ہے اسی لئے قرآن پاک نے ارشاد فرمایا : ’’وعبادالرحمٰن الذین یمشون علی الارض ھونا‘‘یعنی اللہ کے نیک بندے وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں۔ نرم رفتاری کا مفہوم یہ ہے کہ انتہائی با وقار انداز سے چلتے ہیں۔ گفتار کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ ’’اذا خاطبھم الجاہلون قالوا سلاما‘‘یعنی جب ان کو جاہل لوگ مخاطب کرتے ہیں تو ان کے لبوں پر سلامتی کے الفاظ ہوتے ہیں یعنی جہالت کا جواب جہالت سے نہیں دیتے۔ متکبرانہ چال کے متعلق ارشاد ہوا : ’’ولا تمش فی الارض مرحاً‘‘یعنی زمین پر اکڑتے ہوئے نہ چلو، یہ پابندیاں محض اس لئے عائد کی گئی ہیں کہ ایک مومن جب دور سے آتا دکھائی دے تو دیکھنے والا پکار اٹھے یہ انسان بلند کردار اور با اخلاق ہے۔

اسلامی سیاست کی اخلاقی قدریں:

دنیا کی دوسری قوموں نے اپنی سیاست وحکومت کی بنیاد طاقت کے وسیع کرنے اور سرمایہ کے پھیلائو کے اوپر رکھی ہے مگر اسلامی سیاست وحکومت کی تمام طاقتوں کا سر چشمہ اس کی وہ اخلاقی قدریں ہیں۔ جن کے ذریعے سے اسلام قو ت اور سرمایہ کو صحیح راستہ پر لگا تا ہے اور ان کے غلط استعمال سے روکتا ہے اقتدار کا صحیح مفہوم پیش کرتا ہے ریاست کی حقیقی تصویر سے دنیا کوروشنا س کراتا ہے، سیاست کا مقام واضح فرماتا ہے، دنیا وی سیاست کا یہ دستور ہے کہ طاقت کے حاصل ہونے سے پہلے عوام الناس او رعایا سے ہر قسم کا اخلاقی وعدہ کرلیا جاتا ہے اور انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ ہم تمہاری ہر خواہش کا احترام کریں گے اور جو کچھ تم چاہوگے وہ ہوگا مگر طاقت و قوت حاصل ہوجانے کے بعد انسان ہر وہ کام کرتا ہے جو وہ خود چاہتا ہے اور رعایا اس کے ہاتھ میں بے بس کھلونا بن کر رہ جاتی ہے مگر اسلام سیاست کا صحیح مفہوم پیش کرتا ہے۔ ’’سیّدُ القومِ خادمھم‘‘یعنی قوم کا سردار قوم کا خادم ہے یعنی قوم کی باگ ڈور جس کے ہاتھ میں ہے وہ قوم کا محافظ و پاسبان اور امین ہے نہ کہ مالک کہ وہ جو چاہے من مانی کرسکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اختیارات عطا فرمائے ہیں۔ ان کا استعمال وہ قوم کے مشورے کے بغیر نہیں کرسکتا۔ ’’وامرھم شوریٰ بینھم‘‘ اس طرح سے ہر انسان یعنی معاشرئہ اسلام کا ہر فرد یہ جرأت و اختیار رکھتا ہے کہ وہ قوم کے سردار کی بد عنوانی پراس کو تنبیہ کرسکے۔ سرکار صدیق اکبر ص نے قوم سے بیعت لیتے وقت ارشاد فرمایا :اگر تم مجھے صراطِ مستقیم پر پائو تو میری اتباع کرو اگر میں کج ہوجائوں تو مجھے سیدھا کردو۔

یوں ہی طاقت کے استعمال پر بھی اسلام انتہائی محکم پابندیاں عاید فرماتا ہے، جہاد کا حکم اس وقت دیتا ہے جب محارم شرعیہ کی بے حرمتی کی جانے لگے اخلاقی قدریں مٹ جائیں، ظلم کی حکمرانی ہو جائے، مساجد و عبادت گاہوں کو ڈھایا جانے لگے، اسلام ظلم کے استیصال اور عدل و انصاف کو سر بلند کرنے کیلئے قوت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے مگر وہ بھی ان اخلاقی ڈسپلن کے ساتھ ساتھ جن پر عمل کے بغیر چارہ نہیں، آقائے دوجہاں انے حضرت زید بن حارث صکی ماتحتی میں ایک لشکر بصرہ کی مہم پر روانہ فرمایا تو ان کو مندرجہ ذیل ہدایات فرمائیں: تم لوگوں کو بہت سے لوگ ایسے ملیں گے جو گرجائوں اور معابد میں گوشہ نشیں ہوں گے۔خبردار ان کو نہ چھیڑ نا، عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا، جو تلوار ڈال دے اس پرہاتھ نہ اٹھا نا، درختوں کو مت کا ٹنا، ان اخلاقی تعلیمات پر غور فرمائیںاور دیکھیں کہ آقائے دوجہاںانے ایک مجاہدکو اخلاقی اسلحوں سے کس طرح آراستہ فرمایا اس کے بر خلاف آج کل کی سیاست حصول سرمایہ، وسیع سلطنت انسان کو طاقت کے استعمال پرآمادہ کرتی ہے جس کے نتیجہ میں ظلم کو فروغ اور عدل وانصاف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔

غور فرمائیے کہ آج کا انسان طاقت کے استعمال میں کس قدر درندگی اور بہیمیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ آج انسان ارادہ واختیار کی ساری قوتوں سے عاری ہو گیا ہے اس نے ساری طاقت ان ایٹمی ہتھیاروں کے سپرد کردی ہے جو مقاتل اور غیر مقاتل کی تمیز نہیں رکھتے اور جو مظلوم اور ظالم کا فرق نہیں سمجھتے، جن کی زد میں آکر بوڑھے،بچے،سبھی پس جاتے ہیں بلکہ جدید نظریہ ٔ جنگ کے مطابق مخالف کی اصل طاقت میدان جنگ میں نہیں بلکہ اس کی آبادیاں اس کے شہر مراکز اسباب معیشت ہیں جن پر وہ بمباری کرکے غنیم کے لئے عرصۂ حیات تنگ کردیتا ہے اور وہ سپر ڈالنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ کہاں یہ طاقت کا اندھا استعمال اور کہاں آقائے دوجہاںا کے فرامینِ رحمت وقوانینِ اخلاق جن پر عمل کرنے کے بعدانسان حالت جنگ میں بھی جبکہ قوت غیض وغضب شباب پر ہوتی ہے پیکر رحمت اور مجسمۂ اخلاق بنکر رہتا ہے۔

معاشی اور تجارتی اخلاق

انسانی زندگی میں معاشی اہمیت کس قدر ہے اس کاا ندازہ آپ یوں کرسکتے ہیں کہ بعض سیاست دانوں نے تصور معاش کو اپنے کل کے سیاسی نظام کی اساس قرار دیا ہے ان کانظریۂ معاش، حیات انسانی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ معا شیات پر اپنی دسترس کو وسیع کرنے کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرتے ہیں خواہ وہ جائز ہو یا ناجائز، اس کی بنیاد ظلم پر ہویا عدل و انصاف پر، خواہ اس کے لئے حق تلفی کرنی پڑے یا غصب کے ذریعہ حاصل کیا جائے، بہر صورت وہ اسے حاصل کرنے کی ہر امکانی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا میں پھیلی ہوئی طبقاتیت معاشی نابرابری سرمائے کی لوٹ کھسوٹ اور انسان کے مختلف طبقوں میں سرمائے کی تخریب کا ر کشمکش یہ سب اسی مخرّب اخلاق نظریۂ معاش کی پیدا وار ہیں مگر اسلام نے معاش کے اس غلط نظریہ کو بھی باطل فرمادیا اوراس کے معاشیات کے ہر موڑ پر انسانی ہمدردی اور اخلاقی قدروں کو دلیل راہ اور انسان کیلئے معاش کی ایک ایسی شاہراہ متعین فرمائی جس کے ہر چہار جانب اخلاقی قدریں پہرہ داری کررہی ہیں اور انسان کو بھٹکنے سے روکتی ہیں۔

اسلام نے انسان کو سرمائے کے غلط طریقۂ حصول سے روکا اور ان تمام طریقوں کو ناجائز قرار دیا جن سے سرمایا کسی ایک مقام پررک جاتا ہے اور دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے اس نے دولت کو بلا قید جمع کرنا ممنوع قراردیا اس نے سودوغیرہ سے منع کرکے انسان کو خلوص ومحبت پر ابھارا، اس نے نظام زکوٰۃ وصدقات پیش فرماکر معاشی نہ برابری اور طبقاتیت کا استیصال فرمایا، ایک طرف اس نے سرمائے کے غلط استعمال اور غلط طریقۂ حصول سے روکا اور دوسری طرف امور خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب دی، دنیا کے ان تمام طریقوں کی ممانعت فرمادی جو دولت کو ناجائز طریقہ سے کمانے کے محرک ہوتے ہیں اور جن سے بخل، خودغرضی، نفس پرستی سنگدلی، تنگ نظری، فریب دہی وغیرہ جیسی اخلاقی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔

تجارت اسلام کا ایک پسندیدہ ذریعۂ معاش ہے لیکن اگر تجارت کے اسلامی اصول وضوابط پر غور فرمائیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اس کی بنیاد بھی اسلامی قدروں پر رکھی گئی ہے، گندم نما جو فروش، غلط بیانی،تجارتی مال کی خرابیوں کو چھپانا اور غلہ کو مہنگائی کی مدت تک روکے رکھنا۔ گراں فروشی ناپ تول میں کمی وبیشی کرنا یہ وہ تمام خرابیاں ہیں جن سے انسان کی اخلاقی حس مردہ ہوجاتی ہے۔ اسلام نے ان تمام باتوں سے سختی سے روکا، آقائے دوجہاں ا ایک مرتبہ ایک گندم کے ڈھیر سے گزرے آپ نے اس کے اندر اپنی انگلیاں ڈالیںتو وہ اندر سے بھیگے ہوئے تھے آپ نے بیچنے والے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟اس نے عرض کیا یارسول اللہا بارش سے بھیگ گئے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو اوپر رکھو تاکہ لوگ دیکھیں۔ یاد رکھودھوکا دینے والا ہم میں سے نہیں ہے۔

ناظرین کرام نے مندرجہ بالا تمامی تصریحات سے اس بات کا بخوبی اندازہ کرلیا ہوگاکہ اسلامی نظام اخلاقی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے اس مقالے میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ اسلامی اخلاق کی تمام قدروں پر سیر حاصل گفتگو کی جائے اس کے لئے ایک دفتر چاہیئے۔ مندرجہ بالا تمام ذیلی سرخیا ں مشت نمونہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانان عالم کو اخلاقی تعلیمات کے مطالعے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

٭٭٭