انتہا پسندی کے رستے کی طرف دھکیلنے والے؟

ناروے میں پولیس کی موجودگی میں قرآن کریم جلانے کی مذموم حرکت کرنے والے بدبخت کے اس عمل کی بھرپور مذمت کرتے ہیں…

نعوذ باللہ ایسی قبیح حرکت کر کے تم قرآن کو آگ میں نہیں جھونک رہے؛ بلکہ پُر امن علاقوں کو آگ میں جھونک رہے ہو……

اس کو آزادی رائے نہیں کہتے…..

قرآن کریم مسلمان کا آئین ہے……

اگر آزادی رائے سب کا حق ہے تو قرآن کے الفاظ بھی حق رکھتے ہیں کہ ان کو بھی آزادی دی جائے…

یورپ؛ امریکہ؛ کینیڈا ہو یا آسٹریلیا عالمی طاقتیں اس بات سے بخوبی سے واقف ہیں…

کہ مسلمان کو جب بھی اشتعال دلایا جائے گا؛ یہ گالی کے بدلے میں گالی نہیں دے گا…..

بلکہ مسلمان ہمیشہ روکنے کی کوشش کرے گا کبھی احتجاج سے کبھی زبان سے کبھی ہاتھ سے.. ۔

یہی وہ تمام باتیں ہیں کہ جن کی بنیاد پر مسلمان کو انتہا پسند قرار دیا جا سکتا ہے……

اور عالمی دنیا اسی کا استعمال کر رہی ہے…

اس لئے مسلمان کو اور زیادہ محتاط ہو کر میڈیا کے ذریعہ؛

یا پھر احتجاج کے ذریعہ سے ؛ یا قانونی ماہرین کی مشاورت سے عدالتوں کے ذریعہ ان راستوں کو روکنا ہوگا….

کیونکہ مغربی دنیا تضحیک کے لیے یا اشتعال دلانے کے لئے؛ کبھی گالی دے گی کبھی کارٹون بنائے گی کبھی قرآن کو نعوذباللہ جلانے کی مذموم کوشش کرے گی…

مگر !

مسلمان اس کے بدلے میں کسی آسمانی کتاب کو جلانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ہر آسمانی کتاب ہمارے لیے اتنی ہی مقدس ہے جیسے قرآن؛ کوئی مسلمان کسی نبی کو گالی دینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا؛ کیونکہ تمام انبیاء پر ایمان لائے بغیر کسی مسلمان کا ایمان مکمل ہی نہیں ہوتا….

نہ تضحیک و اشتعال کے نظریہ سے اللہ کی بھیجے ہوئے کسی بھی مقدس نبی اور شخصیت کا کارٹون بنا سکتا ہے…..

اس لیے یورپ میں رہنے والے صاحب استطاعت و شعور لوگوں سے گزارش ہے قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد کوئی مستقل لائحہ عمل تیارکریں…..

کیونکہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے کوئی امید نہیں پھر بھی اتمام حجت کے لئے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی توجہ ان معاملات کی طرف دلانا چاہتے ہیں …

تحریر : – محمد یعقوب نقشبندی اٹلی