*میرا دین ، دوسروں کی مدد و خدمت کا دین ۔*

شہرہ آفاق تابعی ، جناب مجاهِد بْن جَبْر ( یا جُبير) (21-104 ھ ) حضرت السائب بن أبي السائب المخزومي القرشي کے مولی ( آزاد کردہ غلام ) ہیں .

تفسير القرآن الكريم میں آپ کی محبت ، محنت ، عظمت اور رسوخ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ آپ کا اپنا فرمان ہے

🍀کہ میں نے اپنے شیخ حضرت عبد اللہ بن عباس رضى الله تعالى عنهما و ارضاهما عنا سے تفسیر قرآن 3 مرتبہ اس طرح پڑھی کہ ہر بار ایک آیت پڑھ کر رک جاتا ، اس کا شان نزول ، اور دیگر ابحاث کریدتا ۔

🌲حدیث شریف میں آپ کی جلالت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ 7 مکثرین حدیث ( احادیث کو بکثرت روایت کرنے والوں میں ) آپ کا شمار ہے

اور فقیر خالد محمود یہ عرض بھی کرتا ہے کہ اسلام کی اس خوبی کا بھی ادراک فرمائیں کہ

(1) انسانی غلامی کے عہد عروج میں غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں اسلامی تعلیمات کا اثر اس کے پیروکاروں میں مثالی انقلاب لا چکا تھا ۔ انسانی مساوات کا وہ اعلی عملی رویہ پیدا کر چکا تھا جو انسانی غلامی کے خاتمہ کی کلید ثابت ہوا ۔۔

(2) حضرت مجاہد کے اساتذہ میں جلیل القدر صحابہ کرام رضوان الله تعالى عليهم أجمعين کے اسماء مبارکہ ملتے ہیں ۔ یعنی حضرت کو غلامی سے آزادی ملی اور ان صحابہ نے ان کی تعلیم و تربیت میں کوئی امتیاز نہیں برتا بلکہ انہیں اپنے سے افضل مقام بھی دیا ۔

آپ نے سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضى الله تعالى عنهما و ارضاهما عنا سے تفسیر، حدیث ، فقہ اور فتوی کی تعلیم حاصل کی ۔

اس عہد میں حصول علم کا شوق ایسا غالب ہوتا تھا کہ شیخ کی خدمت میں زیادہ سے زیادہ حاضر باش رہنے کو ( ہماری علمی اصطلاح میں اسے ملازمت مع الشیخ کہا جاتا ہے اور ملازمت مع الشیخ کا عرصہ افضلیت و اولویت کا باقاعدہ معیار ہے ) اولیت دی جاتی ۔ حضر و سفر میں ساتھ رہنے کی کوشش ہوتی ۔

( اس تحریر میں فقیر کا اصل مقصود درج ذیل سطور ہیں ۔ اللہ تبارک و تعالی سے دعاء ہے کہ یہ اخلاق عالیہ اس فقیر اور اس کی جملہ اہل خانہ میں بدرجہ اتم پیدا ہو جائے ۔ آمین یا رب العالمین )

🎇 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تبارک و تعالی عنهما نے مکہ مکرمہ روانگی کا پروگرام بنایا ۔ حضرت مجاہد نے ساتھ چلنے کی درخواست کی ۔

فرمایا کہ ٹھیک ہے چلو ۔ رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو بھی ہو تو ایک کو لیڈر بناؤ .

اب آپ بتائیں کہ آپ امیر بنیں گے یا مامور ۔

عرض کیا ۔ امیر تو آپ ہی ہیں ۔

فرمایا ۔ تو امیر کی معروف اطاعت کا حکم ہے ۔

عرض کیا ۔ جو حکم ہو گا تعمیل ہو گی ۔

فرمایا ۔ آتے جاتے سارے کام میں کروں گا ۔

مجاہد کا بیان ہے کہ آنے جانے کے سارے سفر میں آپ میری خدمت کرتے رہے ۔ میں کچھ عرض کرتا تو فرماتے ۔ میں امیر ہوں اور امیر کی اطاعت لازم ہے ۔

🌄 تاریخ میں آپ کو ایسی مثالیں بکثرت ملیں گی کہ تدریس کو جو تقدیس و خلوص اسلامی دینی تدریسی ماحول نے دی ہے وہ صرف اسی کے ماتھے کا جھومر ہے ۔

معلم و متعلم کے مابین یہ للہیت ، خلوص و محبت اور پھر دینی علوم ، یہ سب نورانی ماحول اللہ رب العالمین کی جناب سے برکت و تائید و سعادت کے نزول و حصول کو مستلزم اور کمال کی تعمیر شخصیت اور کردار سازی کا ضامن نہ ہو تو اور کیا ہو ؟ ۔

🌅 فقیر خالد محمود بار دگر آپ سے عرض گذار ہے کہ آداب سفر و رفاقت ، دوسرے مسلمان کی اعانت ، خدمت ، حاجت روائی اور آسانیاں پیدا کرنے کے جو اسباق اس سے حاصل ہوتے ہیں انہیں اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور یہ ایثار و حسن معاشرت تو اوروں کے ساتھ ہے ، اپنے اہل و عیال اور جملہ اعزہ واقارب و احباب کے ساتھ تو یہ ان کے ساتھ رشتے کے لحاظ سے بہت مثالی ہونا چاہئیے ۔ گھر کی خواتین ، معاونین اور ملازمین کے ساتھ ہمارا سلوک ، اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق ہونا چاہئیے ۔