یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًاؕ-وَ لِبَاسُ التَّقْوٰىۙ-ذٰلِكَ خَیْرٌؕ-ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ(۲۶)

اے آدم کی اولاد بیشک ہم نے تمہاری طرف ایک لباس وہ اُتارا کہ تمہاری شرم کی چیزیںچھپائے اور ایک وہ کہ تمہاری آرائش ہو (ف۳۳) اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بھلا (ف۳۴) یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں

(ف33)

یعنی ایک لباس تو وہ ہے جس سے بدن چُھپایا جائے اور سِتر کیا جائے اور ایک لباس وہ ہے جس سے زینت ہو اور یہ بھی غرض صحیح ہے ۔

(ف34)

پرہیز گاری کا لباس ایمان حیا ، نیک خصلتیں ، نیک عمل ہیں ۔ یہ بے شک لباسِ زینت سے افضل و بہتر ہیں ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَ جَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَاؕ-اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْؕ-اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۲۷)

اے آدم کی اولاد (ف۳۵)خبردار تمہیں شیطان فتنہ میں نہ ڈالے جیسا تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکالا اتروا دئیے ان کے لباس کہ ان کی شرم کی چیزیں انہیں نظرپڑیں بے شک وہ اور اس کا کنبہ تمہیںوہاں سے دیکھتے ہیں کہ تم انہیں نہیں دیکھتے(ف۳۶) بے شک ہم نے شیطانوں کو ان کا دوست کیا ہے جو ایمان نہیں لاتے

(ف35)

شیطان کی کَیّا دی اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ اس کی عداوت کا بیان فرما کر بنی آدم کو مُتنبِّہ اور ہوشیار کیا جاتا ہے کہ وہ شیطان کے وسوسے اور اِغواء اور اس کی مکّاریوں سے بچتے رہیں جو حضرت آدم علیہ الصلٰوۃ و السلام کے ساتھ ایسی فریب کاری کر چکا ہے وہ ان کی اولاد کے ساتھ کب درگزر کرنے والا ہے ۔

(ف36)

اللہ تعالٰی نے جنّوں کو ایسا اِدراک دیا ہے کہ وہ انسانوں کو دیکھتے ہیں اور انسانوں کو ایسا اِدراک نہیں ملا کہ وہ جنّوں کو دیکھ سکیں ۔ حدیث شریف میں ہے کہ شیطان انسان کے جِسم میں خون کی راہوں میں پیر جاتا ہے ۔ حضرت ذوالنون رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر شیطان ایسا ہے کہ وہ تمہیں دیکھتا ہے تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو تم ایسے سے مدد چاہو جو اس کو دیکھتا ہو اور وہ اسے نہ دیکھ سکے یعنی اللہ کریم ستار ، رحیم غفار سے مدد چاہو ۔

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَاؕ-قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۲۸)

اور جب کوئی بے حیائی کریں (ف۳۷) تو کہتے ہیں ہم نے اس پر اپنے باپ دادا کو پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا(ف۳۸) تو فرماؤ بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا کیا اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کی تمہیں خبر نہیں

(ف37)

اور کوئی قبیح فعل یا گناہ ان سے صادر ہو جیسا کہ زمانۂ جاہِلیَّت کے لوگ مرد و عورت ننگے ہو کر کعبۂ مُعظَّمہ کا طواف کرتے تھے ۔ عطاء کا قول ہے کہ بے حیائی شرک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر قبیح فعل اور تمام مَعاصی و کَبائر اس میں داخل ہیں اگرچہ یہ آیت خاص ننگے ہو کر طواف کرنے کے بارے میں آئی ہو ، جب کُفّار کی ایسی بے حیائی کے کاموں پر ان کی مَذّمت کی گئی تو اس پر انہوں نے جو کہا وہ آگے آتا ہے ۔

(ف38)

کُفّار نے اپنے افعالِ قبیحہ کے دو عذر بیان کئے ، ایک تویہ کہ انہوں نے اپنے باپ دادا کو یہی فعل کرتے پایا لہٰذا ان کی اِتّباع میں یہ بھی کرتے ہیں یہ تو جاہِل بدکار کی تقلید ہوئی اور یہ کسی صاحبِ عقل کے نزدیک جائز نہیں ، تقلیدکی جاتی ہے اہلِ علم و تقوٰی کی نہ کہ جاہِل گمراہ کی ۔ دوسرا عذر ان کا یہ تھا کہ اللہ نے انہیں ان افعال کا حکم دیا ہے ، یہ مَحض اِفتراء و بُہتان تھا چنانچہ اللہ تبارک و تعالٰی رد فرماتا ہے ۔

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ-وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ۬ؕ-كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ(۲۹)

تم فرماؤ میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے منہ سیدھے کرو ہر نماز کے وقت اور اس کی عبادت کرو نِرے(خالص) اس کے بندے ہو کر جیسے اس نے تمہارا آغاز کیا ویسے ہی پلٹو گے (ف۳۹)

(ف39)

یعنی جیسے اس نے تمہیں نیست سے ہَست کیا ایسے ہی بعدِ موت زندہ فرمائے گا ۔ یہ اُخروی زندگی کا انکار کرنے والوں پر حُجّت ہے اور اس سے یہ بھی مُستفاد ہوتا ہے کہ جب اسی کی طرف پلٹنا ہے اور وہ اعمال کی جزا دے گا تو طاعات و عبادات کو اس کے لئے خالص کرنا ضروری ہے ۔

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُؕ-اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ(۳۰)

ایک فرقے کو راہ دکھائی (ف۴۰) اور ایک فرقے کی گمراہی ثابت ہوئی (ف۴۱) انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو و الی بنایا (ف۴۲) اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں

(ف40)

ایمان و معرِفت کی اور انہیں طاعت و عبادت کی توفیق دی ۔

(ف41)

وہ کُفّار ہیں ۔

(ف42)

ان کی اِطاعت کی ، ان کے کہے پر چلے ، ان کے حکم سے کُفرو مَعاصی کو اختیار کیا ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا ۚ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠(۳۱)

اے آدم کی اولاد اپنی زینت لو جب مسجد میں جاؤ (ف۴۳) اور کھاؤ اور پیؤ(ف۴۴) اور حد سے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں

(ف43)

یعنی لباسِ زینت اور ایک قول یہ ہے کہ کنگھی کرنا خوشبو لگانا داخلِ زینت ہے ۔

مسئلہ : اور سنّت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہَیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں ربّ سے مُناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا عِطر لگانا مُستحَب جیسا کہ سِتر، طہارت واجب ہے ۔

شا نِ نُزول : مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ زمانۂ جاہِلیّت میں دن میں مرد اور عورتیں رات میں ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ، اس آیت میں سِتر چُھپانے اور کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا اور اس میں دلیل ہے کہ سترِ عورت نماز و طواف اور ہر حال میں واجب ہے ۔

(ف44)

شانِ نُزول : کَلبی کا قول ہے کہ بنی عامر زمانۂ حج میں اپنی خوراک بہت ہی کم کر دیتے تھے اور گوشت اور چکنائی تو بالکل کھاتے ہی نہ تھے اور اس کو حج کی تعظیم جانتے تھے ، مسلمانوں نے انہیں دیکھ کر عرض کیا یارسولَ اللہ ہمیں ایسا کرنے کا زیادہ حق ہے ، اس پر یہ نازِل ہوا کہ کھاؤ اور پیو گوشت ہو خواہ چکنائی ہو اور اِسراف نہ کرو اور وہ یہ ہے کہ سیر ہو چکنے کے بعد بھی کھاتے رہو یا حرام کی پرواہ نہ کرو اور یہ بھی اِسراف ہے کہ جو چیز اللہ تعالٰی نے حرام نہیں کی اس کو حرام کر لو ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کھا جو چاہے اور پہن جو چاہے اِسراف اور تکبّر سے بچتا رہ ۔

مسئلہ : آیت میں دلیل ہے کہ کھانے اور پینے کی تمام چیزیں حَلال ہیں سوائے ان کے جن پر شریعت میں دلیلِ حُرمت قائم ہو کیونکہ یہ قاعدہ مقرَّرہ مسلَّمہ ہے کہ اصل تمام اشیاء میں اِباحت ہے مگر جس پر شارع نے مُمانَعت فرمائی ہو اور اس کی حُرمت دلیلِ مستقل سے ثابت ہو ۔