“ہم کو بھی وہ عزیز جسے تو رکھے عزیز”

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی کھانے کی دعوت کی میں بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے ساتھ گیا ، جَو کی روٹی اور شوربا حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے سامنے لایا گیا جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا، کھانے کے دوران میں نے حضور علیہ الصلوۃوالسلام کو دیکھا کہ پیالے کے کناروں سے کدو کی قاشیں تلاش کررہے ہیں، اسی لیے میں اس دن سے کدو پسند کرنے لگا۔

(صحیح البخاری ، کتاب الاطعمۃ، باب الدبا، الحدیث۵۴۳۳،ج۳،ص۵۳۶)

امام ابو یوسف (شاگرد امام اعظم رضی اللہ تعالی عنھما )کے سامنے اس روایت کا ذکر آیا کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کدو پسند فرماتے تھے ، مجلس کے ایک شخص نے کہا:

“لیکن مجھے پسند نہیں۔”

یہ سن کر امام ابو یوسف رضی اللہ تعالی عنہ نے تلوار کھینچ لی اور فرمایا :

“جددالایمان و الا لاقتلنک”

“تجدید ایمان کر، ورنہ تم کو قتل کیے بغیر نہ چھوڑوں گا۔”

(الشفاللقاضی، باب الثانی،فصل فی علامۃ صحبتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ج۲،ص۵۱)

سبحان اللہ سبحان اللہ! اسلافِ کرام سرکار دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے کیسی سچی عقیدت و محبت رکھتے تھے، آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم جس چیز کو پسند فرماتے وہ بھی اس پر نثار ہونے کو اپنی معراج تصور کرتے ۔ اگر کبھی کوئی آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی پسندیدہ چیز کے بارے میں منفی رائے رکھتا تو ان کی غیرتِ ایمانی کو جوش آجاتا اور ان کی تلواریں نیام سے باہر آجاتیں ۔ افسوس عشقِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ پاکیزہ روش اب طاقِ نسیاں ہوتی جارہی ہیں یہی سبب ہے کہ آج ہمارا سیلِ رواں تھم سا گیا ہے ۔

اللّٰہ کریم ہمیں اپنے محبوبِ اکرم و اعظم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی سچی عقیدت و محبت اور ادب و احترام بخشے، اور ان کے گستاخوں سے دور و نفور رکھے۔

آمین بجاہ النبی الامین الاشرف الافضل النجیب صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وصحبہ وبارک وسلم

… مشاہد رضوی

… 21 نومبر 2019ء