آرمی چیف کی توسیع کے کیس کا فیصلہ کچھ بھی ہو کم از کم جناب آرمی چیف پر یہ تو اچھی طرح واضح ہو گیا ہوگا کہ انہوں نے نالائقوں اور نااہلوں کے جس ٹولے کو پاکستان پر مسلط کیا ہے وہ خود ان کی ایکسٹنشن کا معاملہ بھی ڈھنگ سے حل نہیں کر پایا۔

پہلے وزیراعظم نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔ پھر پتہ چلا کہ یہ تو صدر مملکت کا کام ہے تو صدر سے نوٹیفکیشن جاری کروا دیا، پھر پتہ چلا کہ کابینہ کی ایڈوائس کے بغیر صدر یہ کام کر ہی نہیں سکتا تو صدارتی نوٹیفکیشن کو ہی کابینہ کے گیارہ وزیروں سے سائن کروا لیا، اور آج سپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد انہیں پتہ چلا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد دوبارہ یہ نوٹیفکیشن صدر نے جاری کرنا تھا۔

مزید مزے کی بات یہ کہ 12 ستمبر کو محترمہ عاصمہ شیرازی کے ساتھ انٹرویو میں صدر مملکت نے فرمایا تھا کہ نوٹیفکیشن ابھی ان تک پہنچا ہی نہیں کہ وہ سائن کریں، جبکہ نوٹیفکیشن پر 19 اگست کی تاریخ درج ہے-

جو حکومت اپنے سرپرست اعلیٰ کی توسیع کا سادہ سا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہے اس سے ملک کی کایا پلٹنے کی توقع رکھنے والے تمام احمقوں کو سرخ گلابی۔