ایک منہاجی (رافضی) کا تعاقب

پہلے تو سنتے تھے کہ رافضی ہی شیخین کریمین رضی اللہ عنہما کی عظمت و شان کے منکر ہیں لیکن آج کل منہاجیوں بھی انہی کے ساتھ مل چکے ہیں لیکن لبادہ سنیت کا اڑے ہوئے ہیں۔

ایک منہاجی نے امام احمد رضا خان حنفی علیہ الرحمہ کی کتاب “مطلع القمرین” کی ایک روایت پر ایک اعتراض کرتے ہوئے لکھتا ہے:

اعلی حضرت امام احمد رضا خان الحنفی قادری کی کتاب “مطلع القمرین” اور اس کے ٹائٹل پیج پر کی پہلی حدیث جو شیخین کی افضلیت پر درج کی گئی وہ ہی جھوٹی, موضوع اور من گھڑت ہے۔ باقی کتاب کے اندرونی صفحات کی روایات کا کیا حال ہوگا وہ آپ خود اندازہ لگائیں”

منہاجی نے اس حدیث کے سکرین شارٹ بھی دیے ہیں جو پوسٹ کے نیچے موجود ہیں۔

منہاجی نے جس حدیث حدیث پر اعتراض کیا ہے وہ “مطلع القمرین” کے ٹائیٹل پیج کے علاوہ اسی کتاب کے صفحے 125 پر بھی موجود ہے وہ روایت یہ ہے:

“أبو بكر و عمر خير الأولين و خير الآخرين و خير أهل السماوات و خير أهل الأرض، إلا النبيين و المرسلين”

کتاب کی تخریج میں اس روایت کا حوالہ کنزالعمال ج 11 ص 256 رقم الحدیث 32642 دیا گیا ہے۔

منہاجی نے اس روایت کو امام ذہبی علیہ الرحمہ سے موضوع ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جب کہ ہم ان شاءاللہ امام ذہبی علیہ الرحمہ سے ہی تسامح ثابت کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ یہ روایت موضوع نہیں ہے۔

امام ذہبی علیہ الرحمہ “جبرون بن واقد” کے ترجمہ میں اسی کے طرق سے یہی روایت نقل کر کے لکھتے ہیں:

عن أبي هريرة مرفوعا: أبو بكر وعمر خير الاولين..الحديث. تفرد به القنطرى وبالذي قبله، وهما موضوعان.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کی:

“ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) پہلے دور کے بہترین لوگ ہیں”

اس روایت میں اور اس سے پہلی والی روایت کے نقل کرنے میں قنطری (راوی) منفرد ہے اور یہ دونوں روایات “موضوع” ہیں۔

[میزان الاعتدال ج 1 ص 388 رقم 1435]

اسکے علاوہ امام ذہبی نے جبرون بن واقد کو متہم قرار دیا ہے۔ [میزان الاعتدال ج1 ص 387 رقم 1435]

امام ذہبی علیہ الرحمہ کے نقد پر فقیر کا تبصرہ:

میرے علم کے مطابق امام ذہبی علیہ الرحمہ سے یہاں دو تسامح ہوئے ہیں:

1- جبرون بن واقد کو متہم قرار دینے میں۔

2- اس روایت کو موضوع قرار دینے میں۔

جبرون بن واقد الافریقی کو کسی نے متہم (بالوضع) قرار نہیں دیا سوائے امام ذہبی کے وہ بھی صرف میزان الا عتدال میں جب کہ اس جرح کے لیے امام ذہبی علیہ الرحمہ نے کو دلیل پیش بھی نہیں کی۔

جب کہ امام ذہبی علیہ الرحمہ نے اپنی اور دو کتب میں متہم (بالوضع) نہیں لکھا بلکہ ایک جگہ “لیس بثقہ کہا اور دوسری جگہ “منکر الحدیث” کہا ہے۔

المغنی میں اسی راوی کے بارے میں کہتے ہیں:

ﺟﺒﺮﻭﻥ ﺑﻦ ﻭاﻗﺪ اﻻﻓﺮﻳﻘﻲ ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﻴﻴﻨﻪ ﻟﻴﺲ ﺑﺜﻘﻪ ﺭﻭﻯ ﺑﻘﻠﺔ ﺣﻴﺎء ﻋﻦ ﺳﻔﻴﺎﻥ ﻋﻦ اﺑﻲ اﻟﺰﺑﻴﺮ ﻋﻦ ﺟﺎﺑﺮ ﻛﻼﻡ اﻟﻠﻪ ﻳﻨﺴﺦ ﻛﻼﻣﻲ اﻟﺤﺪﻳﺚ

[المغنی فی الضعفاء ج 1 ص 127 رقم 1089]

اور المقتنی میں لکھتے ہیں:

ﺟﺒﺮﻭﻥ ﺑﻦ ﻭاﻗﺪ اﻷﻓﺮﻳﻘﻲ، ﻋﻦ ﻣﺨﻠﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ، ﻣﻨﻜﺮ اﻟﺤﺪﻳﺚ.

[المقتنی فی سرد الکنی ص341 رقم 3458]

اس سے واضح ہوگیا ہے امام ذہبی علیہ الرحمہ سے متہم (بالوضع) قرار دینے میں تسامح ہوا ہے کیونکہ اور کتب میں متہم (بالوضع) نہیں لکھا اور نہ ہی ان سے پہلے کسی محدث نے اس پر متہم بالکذب کی جرح کی ہے۔

میرے علم کے مطابق امام ذہبی علیہ الرحمہ کی “منکر الحدیث” کی جرح بالکل درست ہے کیونکہ یہی بات امام ابن عدی امام ابن القیسرانی امام ابن جوزی اور امام مقریزی علیہم الرحمہ نے کی ہے کسی نے اس پر جھوٹ کی تہمت کی جرح نہیں ہے۔

امام ابن عدی علیہ الرحمہ نے جبرون بن واقد کی اس روایت کو منکر قرار دیا ہے۔

امام ابن عدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

ﻗﺎﻝ اﻟﺸﻴﺦ: ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺩاﻭﺩ ﻭﺟﺒﺮﻭﻥ ﺑﻦ ﻭاﻗﺪ ﻫﺬا ﻻ ﺃﻋﺮﻑ ﻟﻪ ﻏﻴﺮ ﻫﺬﻳﻦ اﻟﺤﺪﻳﺜﻴﻦ ﻭﺟﻤﻴﻌﺎ ﻣﻨﻜﺮاﻥ

امام ابن عدی نے کہا: محمد بن داود اور جبرون بن واقد یہ میں ان کو ان دو احادیث کے سوا نہیں جانتا اور یہ سب (روایات) منکر ہیں۔

[الکامل فی الضعفاءالرجال ج 1 ص 443 رقم 368]

امام ابن القیسرانی نے بھی اس روایت کو منکر قرار دیا:

ﺭﻭاﻩ ﺟﺒﺮﻭﻥ ﺑﻦ ﻭاﻗﺪ ﺃﺑﻮ ﻋﺒﺎﺩ اﻹﻓﺮﻳﻘﻲ: ﻋﻦ ﻣﺨﻠﺪ ﺑﻦ اﻟﺤﺴﻴﻦ، ﻋﻦ ﻫﺸﺎﻡ ﺑﻦ ﺣﺴﺎﻥ، ﻋﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻴﺮﻳﻦ، ﻋﻦ ﺃﺑﻲ ﻫﺮﻳﺮﺓ. ﻭﻫﺬا ﻣﻨﻜﺮ، ﻭاﻟﺤﻤﻞ ﻓﻴﻪ ﻋﻠﻰ ﺟﺒﺮﻭﻥ ﻫﺬا.

اسے روایت کیا ہے جبرون بن واقد ابو عباد الافریقی نے از مخلد بن الحسین از ہشام بن حسان از محمد بن سیرین از ابی ہریرۃ اور یہ (روایت) منکر ہے اور مدار اس میں جبرون (بن واقد) پر ہے۔

[ذخیرۃ الحفاظ لابن القیسرانی ج 1 ص 202 رقم 28]

اس حدیث کے بارے میں امام ابن جوزی امام ابن عدی سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ﻗﺎﻝ اﺑﻦ ﻋﺪﻱ: ﻫﺬا ﺣﺪﻳﺚ ﻣﻨﻜﺮ ﻭﺃﻣﺎ ﺟﺒﺮﻭﻥ ﻓﻤﺎ.

امام ابن عدی نے کہا: یہ حدیث منکر ہے اور بہرحال جبرون تو وہ کچھ نہیں۔

[العلل المتناہیۃ لابن جوزی ج 1 ص 194 رقم الحدیث 311]

اس کے علاوہ امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ لسان المیزان میں امام ذہبی علیہ الرحمہ کی عبارت تو نقل کر دی لیکن امام ذہبی کے موضوع کہنے کی کوئی دلیل پیش نہیں کی بس امام ابن عدی کی عبارت پیش کی جو اس روایت کے منکر پر ہے۔ [لسان المیزان رقم 379]

امام مقریزی نے بھی ابن عدی کے حوالے سے اس روایت کو منکر ہی لکھا [مختصر الکامل فی الضعفاءالرجال رقم 368]

ان ائمہ کی تصریحات سے واضح ہوا کہ امام ذہبی علیہ الرحمہ سے اسے روایت کو موضوع کہنے میں تسامح ہوا ہے کیونکہ جبرون بن واقد پر کسی امام نے متہم بالوضع یا متہم بالکذب کی جرح نہیں کی بلکہ امام ذہبی کی باتوں میں خود تعارض ہے ایک جگہ متہم قرار دے رہے ہیں جب کہ دوسری جگہ منکر الحدیث قرار دے رہے ہیں۔ اس لیے امام ذہبی سے پہلے محدثین نے جبرون بن واقد کی روایات کو منکر کہا لہذا راجح یہی ہے کہ امام ذہبی کی منکر الحدیث کی جرح درست ہے باقی متہم بالوضع یا متہم بالکذب کی جرح درست نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل موجود ہے۔(واللہ اعلم)

لہذا بعد کے لوگوں نے امام ذہبی کی تقلید کرتے ہوئے اس روایت کو موضوع کہا ہے جو کہ تحقیقا درست نہیں بلکہ صحیح یہی ہے یہ روایت منکر ضعیف ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کے متن کے بہت سے صحیح شواہد موجود ہیں۔ وہ ان شاءاللہ ہم اپنی اگلی پوسٹس میں پیش کریں گے۔

(واللہ اعلم)

اس سے امام احمد رضا خان حنفی علیہ الرحمہ پر جو اعتراض تھا وہ رفع ہوا اور منہاجی کے استدلال کا رد بلیغ ثابت ہوا۔

اللہ عزوجل ہم سب کو ہمیشہ صحیح عقیدہ پر قائم رکھے اور رافضیت اور تفضیلیت سے محفوظ رکھے۔(آمین)

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

10 جنوری 2019ء