فضائل جماعت

ارشاد خداوندی ہے : ’’وَ ارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ ‘‘ (البقرہ پ ۱ )

اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ ۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ آیتِ کریمہ سے جماعت کا وجوب سمجھ میں آتا ہے ۔جو خوش نصیب نماز باجماعت کااہتمام کرتے ہیں اللہ کے رسول ﷺ نے ان کو طرح طرح کی بشارتیں سنائی ہیں لیکن جو لوگ دنیا وی کاموں میں مصروف رہ کر جماعت کوترک کرتے ہیں ان کو سخت وعیدیں سنائی ہیں ۔ ہمارے اسلاف نماز باجماعت کا کس قدر اہتمام فرماتے تھے اس کا اندازہ آنے والے سطور سے ہوگا ۔آج ہمارا حال یہ ہے کہ نمازِ با جماعت ادا کرنے کے سلسلہ میں اتنی سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ مسجد کے قریب ہوتے ہوئے بھی ہم نمازِ با جماعت ادا نہیں کرتے ہیں۔ خدارا! خدارا ! مذکورہ آیتِ کریمہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم سب کو نماز با جماعت ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے۔ آئیے اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ اللہ دہم سب کو نماز با جماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ۔ (مشکوٰۃ شریف )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! ہم دنیوی معاملات میں کس قدر محتاط ہیں اور کتنا ہمیں اپنے نفع اور نقصان کا خیال رہتا ہے۔ اگر غافل ہوتے ہیں تو صرف اور صرف دین کے معاملے میں۔ کیا ہم میں سے کوئی ستائس چھوڑ کر ایک پر قناعت کرے گا ؟ اگر نہیں تو پھر بتائو اگر جماعت سے پڑھیں تو وقت زیادہ نہیں لگے گا۔ لیکن تاجدار کائنات ﷺ کے فرمان کی روشنی میں جماعت سے پڑھنے میں ثواب ۲۷؍ گنا بڑھ جائے گا۔ ذرا قیامت کاوہ ہولناک منظراپنی نگاہوں کے سامنے لائیں جب باپ بیٹے سے بھاگ رہا ہوگااور بیٹا باپ سے بھاگ رہا ہوگا کوئی کسی کا پُرسان حال نہ ہوگا اور نیکیوں کی قلت دامن گیر ہوگی۔ کوئی عزیز و قریب ایک نیکی بھی دینے کے لئے تیار نہ ہوگا ۔ و اللہ! اس وقت ایک ایک نیکی کی عظمت سمجھ میں آئے گی ۔ لہذا نماز با جماعت ادا کر کے ۲۷؍گنا زیادہ ثواب حاصل کرو تاکہ میدان محشر میں اللہ کرم کی نظر فرما دے ۔ اور اچھوں کے صدقے نیکیاں قبول فرما کر ہم سب کو اجر کا حقدار بنادے۔