حدیث نمبر :697

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر ۱؎ اور قبروں پرمسجدیں بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں پر۲؎(ابوداؤد،ترمذی،نسائی)

شرح

۱؎ اکثر علماءفرماتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔اس کا ناسخ “زیارۃ قبور”کے باب میں آرہا ہے کہ سرکا رنے فرمایا میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا”اَ لَافَزُوْرُوْھَا”اب زیارتیں کیا کرو کیونکہ اس سے اپنی موت یاد آتی ہے۔مگرحق یہ ہے کہ عورت کو زیارت کرنے کے لئے قبروں پر جانا منع کہ یہ وہاں پہنچ کر یا سجدے کریں گی،یا روئیں گی،پیٹیں گی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا ایک بار اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر پرگزریں تو زیارت بھی کرلی،یہ قبر پرجانا نہ تھا بلکہ قبر کا راستہ میں آجانا تھا۔خیال رہے کہ یہاں عام قبریں مراد ہیں،ورنہ حضور کے روضۂ اطہر پر ہر حاجی مرد وعورت پرحاضری واجب ہے۔رب تعالٰی فرماتاہے:”وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ۔اس کی تحقیق ان شاءاﷲ “باب زیارۃ القبور” میں آئے گی۔

۲؎ قبر پر اس طرح مسجد بنانا کہ تعویذ فرش مسجد میں آجائے کہ لوگ اس پر کھڑے ہوکرنماز پڑھیں یا اس طرح کہ قبرنمازی کے سامنے رہے حرام ہے،کہ پہلی صورت میں قبرمؤمن کی توہین ہے۔اور دوسری صورت میں قبر کی طرف سجدہ۔نیز قبر کے تعویذ پر چراغ جلانا سخت منع ہے کہ اس میں آگ ہے،قبر مؤمن کو آگ سے بچایا جائے،نیز فضول خرچی ہے بلاضرورت تیل پھونکنا اور اگر چراغ جلانے والے کی یہ نیت ہے کہ اس سے قبر میں روشنی ہوگی تو بدعقیدگی ہے کیونکہ قبر میں روشنی تو مدینہ والے سچے سورج کی شعاعوں سے ہے،اﷲ نصیب کرے۔لیکن بزرگوں کی قبر کے پاس مسجد بنانا سنت انبیاء علیھم السلام،سنت صحابہ رضی اللہ عنھم ہے اور قرآن سے ثابت،جیسا پہلے عرض کیا گیا۔اور بزرگوں کے مزار کے پاس چراغ جلانا تاکہ زیارت کرنے والوں کو آسانی ہو اور اس کی روشنی میں قرآن خوانی ہو جائز بلکہ ثواب ہے۔آج بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ انور پر ایسی عالی شان روشنی ہوتی ہے کہ سبحان اﷲ!دیکھ کر ایمان روشن ہوجاتا ہے۔ان ہی وجوہ سے اس سید الفصحاء نے “علیھا”فرمایا،یعنی عین قبر پر مسجد و چراغ منع،اس کے قریب جائز۔”باب الدفن” میں آئے گا کہ حضور نے ایک میت کو رات میں دفن کیا تو وہاں چراغ جلایا گیا۔معلوم ہوا کہ ضرورۃً جائز ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب”جاءالحق”حصہ اول میں دیکھو۔