وطن کے اقسام و احکام :-

 وطن دو قسم کا ہوتا ہے ۔(۱) وطن اصلی (۲) وطن اقامت

وطن اصلی :– وہ جگہ ہے جہاں اس کی پیدائش ہوئی ہے ۔ یا اس کے گھر کے لوگ یعنی بیوی بچے جہاں مستقل (Permanent) طور پر رہتے ہوں اور اس جگہ اس نے دائمی سکونت کرلی اوریہ ارادہ ہے کہ اسی جگہ دائمی طور پر رہوں گا اور یہاں سے نہ جاؤںگا۔

وطن اقامت :- وہ جگہ ہے کہ مسافر نے جہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کا ارادہ کیا ہو ۔

مسئلہ: اگر کسی شخص کی دو بیویاں الگ الگ شہر میں مستقل طور پر رہتی ہوں تو وہ دونوں شہر اس کے لئے وطن اصلی ہیں ۔ ان دونوں جگہ پہنچتے ہی وہ مقیم ہوجائے گا اور نماز پوری پڑھے گا ۔ ( ردالمحتار، بہار شریعت حصہ ۴ ، ص ۸۳)

مسئلہ: اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں کو اپنے وطن اصلی سے لے کر چلاگیا اور دوسری جگہ سکونت اختیار کرلی اور پہلی جگہ میں اس کا مکان اور اسباب وغیرہ باقی ہیں تو وہ پہلا مقام بھی اس کے لئے وطن اصلی ہے اور دوسرا مقام بھی وطن اصلی ہے ۔ (عالمگیری،بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۴)

مسئلہ: بالغ شخص کے والدین کسی شہر میں رہتے ہوں اور وہ شہر اس شخص کی جائے پیدائش نہیں اور نہ اس شہر میں اس کے بیوی بچے ہوں تو وہ جگہ اس کے لئے وطن نہیں ۔ (ردالمحتار )

مسئلہ: عورت بیاہ کر سسرال چلی گئی اور سسرال ہی میں رہنے لگی تو اب اس کا میکہ اس کے لئے وطن اصلی نہ رہا یعنی اگر سسرال ساڑھے ستاون میل (92.56 k.m.) کی مسافت پر ہے اور وہ سسرال سے اپنے میکے آئی اور پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت نہ ہو تو نماز قصر پڑھے ۔ ( بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۸۴)

مسئلہ: وطن اقامت دوسرے وطن اقامت کو باطل کردیتا ہے یعنی ایک جگہ پندرہ دن کے ارادہ سے ٹھہرا پھر دوسری جگہ اتنے دن ٹھہرنے چلاگیا تو پہلی جگہ اب وطن اقامت نہ رہی بلکہ دوسری جگہ وطن اقامت ہوگئی ۔ چاہے ان دونوں کے درمیان شرعی مسافت سفر ہو یا نہ ہو ۔ ( درمختار)

اس مسئلہ کو مندرجہ ذیل مثال سے سمجھیں :-

’’زید پوربند کا باشندہ ہے ۔ وہ پوربندر سے راجکوٹ (180 k.m.) گیا اور اس نے راجکوٹ میں پندرہ دن ٹھہرنے کاارادہ کیا ۔ راجکوٹ میں وہ پندرہ دن ٹھہر کر راجکوٹ سے ہی گونڈل (40 k.m.) گیا اور گونڈل میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی تو اب راجکوٹ اس کے لئے وطن اقامت نہ رہا بلکہ گونڈل وطن اقامت بن گیا ۔ ‘‘

مسئلہ: وطن اقامت وطن اصلی سے باطل ہوجاتا ہے ۔ مثلاً زید بمبئی کارہنے والا ہے ۔ وہ احمد آباد آیا اور احمد آباد میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی اور احمد آباد کو وطن اقامت بنایا اور پوری نماز پڑھتاتھا ۔ پانچ دن کے بعد اسے کسی ضروری کام سے صرف ایک دن کے لئے بمبئی جانا پڑا ۔ بمبئی آتے ہی احمد آباد وطن اقامت کی حیثیت سے باطل ہوگیا ۔ ا ب وہ چھٹے دن بمبئی سے واپس احمد آباد آیا تو پہلے جو پانچ دن احمد آباد میںٹھہرا تھا وہ باطل ہوگئے ۔ اب ازسرنو اسے اقامت کی نیت کرنی پڑے گی۔اگر دوسری مرتبہ احمد آباد آکر اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہے تو وہ مقیم نہیں ۔احمد آباد اس کے لئے وطن اقامت نہیں لہٰذا قصر پڑھے ۔اور اگر دوسری مرتبہ احمد آباد آکر پندرہ دن یا زیادہ ٹھہرنے کا ارادہ ہے تو اب مقیم ہے ،نماز پوری پڑھے ۔( جزیہ ماخوذ از درمختار اور بہار شریعت ، حصہ ۴ ص ۸۴)

مسئلہ: وطن اقامت سفر سے بھی باطل ہوجاتا ہے ۔مثلاً زید دہلی کا باشندہ ہے ۔ وہ کاروبار کے سلسلہ میں بمبئی آیا اور بمبئی میںا یک مہینہ ٹھہرنے کاارادہ کیا لہٰذا بمبئی اس کے لئے وطن اقامت ہوگیا۔ بمبئی میں اسکے دوست کی شادی کا اتفاق ہوا اور اس کے دوست کی بارات بمبئی سے سور ت شہر گئی ۔ زید بھی بارات کے ہمراہ بمبئی سے سورت گیا۔ تب زید کے بمبئی کے قیام کا پچیسواں دن تھا ۔ صبح بارات کے ساتھ گیا اور شب میں بمبئی واپس آگیا ۔ اس سفر سے اب بمبئی زید کے لئے وطن اقامت نہ رہا۔ اب زیدکو پانچ دن کے بعد اپنے وطن اصلی دہلی واپس لوٹنا ہے ۔ لہٰذا سورت سے واپس آنے کے بعد زید بمبئی میں صرف پانچ دن ہی ٹھہرے گا اور ان پانچ دنوں میں نماز قصر کرے گا ۔ ( جزیہ ماخوذ از :- درمختار ، شرح منیہ ، ردالمحتار ، فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳، ص ۶۷۰)

مسئلہ: مسافراپنے سفر سے اپنے وطن اصلی پہنچتے ہی سفر ختم ہوگیا اور وہ مقیم ہوگیا ۔ اگرچہ اقامت کی نیت نہ کی ہو ۔اگرچہ وطن اصلی میں صرف ایک دن کے لئے ٹھہرے ، نماز پوری پڑھے ۔ (ردالمحتار، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ص ۸۴)