قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ(۳۲)

تم فرماؤ کس نے حرام کی اللہ کی وہ زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی(ف۴۵) اور پاک رزق (ف۴۶) تم فرماؤ کہ وہ ایمان والوں کے لیے ہے دنیا میں اور قیامت میں تو خاص انہیں کی ہے ہم یونہی مفصل آیتیں بیان کرتے ہیں(ف۴۷) علم والوں کے لیے (ف۴۸)

(ف45)

خواہ لباس ہو یا اور سامانِ زینت ۔

(ف46)

اور کھانے پینے کی لذیذ چیزیں ۔

مسئلہ : آیت اپنے عُموم پر ہے ہر کھانے کی چیز اس میں داخل ہے کہ جس کی حُرمت پر نَص وارد نہ ہوئی ہو (خازن) تو جو لوگ توشۂ گیارہویں ، میلاد شریف ، بزرگوں کی فاتِحۂ عُرس ، مجالسِ شہادت وغیرہ کی شیرینی ، سبیل کے شربت کو ممنوع کہتے ہیں وہ اس آیت کے خلاف کرکے گناہ گار ہوتے ہیں اور اس کو ممنوع کہنا اپنی رائے کو دین میں داخل کرنا ہے اور یہی بِدعت و ضَلالت ہے ۔

(ف47)

جن سے حلال و حرام کے احکام معلوم ہوں ۔

(ف48)

جو یہ جانتے ہیں کہ اللہ واحِد لاشریک لہ ہے وہ جو حرام کرے وہی حرام ہے ۔

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۳)

تم فرماؤ میرے رب نے تو بے حیائیاں حرام فرمائی ہیں (ف۴۹) جو ان میں کھلی ہیں اور جو چھپی اور گناہ اور ناحق زیادتی اور یہ (ف۵۰)کہ اللہ کا شریک کرو جس کی اس نے سند نہ اُتاری اور یہ (ف۵۱) کہ اللہ پر وہ بات کہو جس کا علم نہیں رکھتے

(ف49)

یہ خِطاب مشرکین سے ہے جو بَرہنہ ہو کر خانۂ کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اللہ تعالٰی کی حلال کی ہوئی پاک چیزوں کو حرام کر لیتے تھے ، ان سے فرمایا جاتا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام نہیں کیں اور ان سے اپنے بندوں کو نہیں روکا ، جن چیزوں کو اس نے حرام فرمایا وہ یہ ہیں جو اللہ تعالٰی بیا ن فرماتا ہے ان میں سے بےحیائیاں ہیں جو کھلی ہوئی ہوں یا چھپی ہوئی ، قولی ہوں یا فعلی ۔

(ف50)

حرام کیا ۔

(ف51)

حرام کیا ۔

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌۚ-فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ(۳۴)

اور ہر گروہ کا ایک وعدہ ہے(ف۵۲)تو جب ان کا وعدہ آئے گا ایک گھڑی نہ پیچھے ہو نہ آگے

(ف52)

وقتِ مُعیّن جس پر مُہلت ختم ہو جاتی ہے ۔

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْۙ-فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۵)

اے آدم کی اولاد اگر تمہارے پاس تم میں کے رسول آئیں (ف۵۳) میری آیتیں پڑھتے تو جو پرہیزگاری کرے (ف۵۴) اور سنورے(ف۵۵) تو اس پر نہ کچھ خوف اور نہ کچھ غم

(ف53)

مفسِّرین کے اس میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ رُسُل سے تمام مُرسَلین مراد ہیں ، دوسرا یہ کہ خاص سیدِ عالَم خاتَم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جو تمام خَلق کی طرف رسول بنائے گئے ہیں اور صیغۂ جَمع تعظیم کے لئے ہے ۔

(ف54)

ممنوعات سے بچے ۔

(ف55)

طاعات و عبادات بجا لائے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۳۶)

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا وہ دوزخی ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِؕ-حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْۙ-قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ(۳۷)

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیتیں جھٹلائیں انہیں ان کے نصیب کا لکھا پہونچے گا (ف۵۶)یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہُوئے (ف۵۷) ان کی جان نکالنے آئیں تو ان سے کہتے ہیں کہاں ہیں وہ جن کو تم اللہ کے سوا پُوجتے تھے کہتے ہیں وہ ہم سے گم گئے(ف۵۸) اور اپنی جانوں پر آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے

(ف56)

یعنی جتنی عمر اور روزی اللہ نے ان کے لئے لکھ دی ہے ان کو پہنچے گی ۔

(ف57)

مَلکُ المَوت اور ان کے اَعوان ان لوگوں کی عمر یں اور روزیاں پوری ہونے کے بعد ۔

(ف58)

ان کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ۔

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِؕ-كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَاؕ-حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًاۙ-قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ﱟ-قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ(۳۸)

اللہ اُن سے (ف۵۹) فرماتا ہے کہ تم سے پہلے جو اور جماعتیں جن اور آدمیوں کی آگ میں گئیں انہیں میں جاؤ جب ایک گروہ (ف۶۰) داخل ہوتا ہے دوسرے پر لعنت کرتا ہے(ف۶۱) یہاں تک کہ جب سب اس میں جا پڑے تو پچھلے پہلوں کو کہیں گے(ف۶۲) اے رب ہمارے انہوں نے ہم کو بہکایا تھا تو انہیں آگ کا دونا(دگنا) عذاب دے فرمائے گا سب کو دونا ہے (ف۶۳) مگر تمہیں خبر نہیں (ف۶۴)

(ف59)

ان کافِروں سے روزِ قیامت ۔

(ف60)

دوزخ میں ۔

(ف61)

جو اس کے دین پر تھا تو مشرک مشرکوں پر لعنت کریں گے اور یہود یہودیوں پر اور نصارٰی نصارٰی پر ۔

(ف62)

یعنی پہلوں کی نسبت اللہ تعالٰی سے کہیں گے ۔

(ف63)

کیونکہ پہلے خود بھی گمراہ ہوئے اور انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا اور پچھلے بھی ایسے ہی ہیں کہ خود گمراہ ہوئے اور گمراہوں کا ہی اِتّباع کرتے رہے ۔

(ف64)

کہ تم میں سے ہر فریق کے لئے کیسا عذاب ہے ۔

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠(۳۹)

اور پہلے پچھلوں سے کہیں گے تو تم کچھ ہم سے اچھے نہ رہے (ف۶۵) تو چکھو عذاب بدلہ اپنے کیے کا (ف۶۶)

(ف65)

کُفر و ضَلال میں دونوں برابر ہیں ۔

(ف66)

کُفر کا اور اعمالِ خبیثہ کا ۔