(۱)واقعۂ فیل کے وقت حضرت عبد المطلب نے ابرہہ سے نجات کے لئے دعا غار حرا میں مانگی تھی ۔

(۲) رسول اکرم ﷺ کے پر دادا ہاشم کا اصل نام عمرو تھا ۔نہایت مہمان نواز تھے ۔ایک سال قریش میں سخت قحط پڑا ۔یہ ملک شام سے خشک روٹیاں خرید کر ایام حج میں مکہ پہونچے اور روٹیوں کا چورا کر کے اونٹوں کے گوشت کے شوربے میں ڈال کر ثرید بنایا اور لوگوں کو پیٹ بھر کر کھلایا ۔ اس دن سے انکو ہاشم یعنی روٹیوں کا چورا کرنے والا کہا جانے لگا ۔

(۳) حضور اکرم ﷺ کے جدّ محترم حضرت عبد المطلب کے جسم پاک سے کستوری کی خو شبو آتی تھی ۔جب قریش کو کوئی حادثہ پیش آتا تھاتو وہ حضرت عبد المطلب کو کوہ شیبہ پر لے جاتے اور ان کے وسیلے سے بارگاہ رب العزّت میں دعا مانگتے اور وہ دعا قبول ہو تی۔

(۴)حضور اکرمﷺ کے عم محترم حضرت عباس بن عبد المطلب کی آواز آٹھ میل تک جاتی تھی ۔

(۵)ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ نے ہجرت سے تین سال پہلے ۶۵ سال کی عمر میں انتقال فرمایاان کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی کیونکہ اس وقت تک نماز جنازہ فرض نہیں ہوئی تھی۔

(۶)ازواج مطہرات میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ الکبریٰ کا انتقال ہوا۔

(۷)حضور اقدس ﷺ اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے نکاح کا خطبہ ابو طالب نے پڑھا تھا ۔

(۸)حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عورتوں میں سب سے پہلے ایمان لائیں۔

(۹)حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء کا جہیزایک چکی،ایک رنگی ہوئی کھال، ایک تکیہ جس میں روئی کی جگہ کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ،ایک گھٹلیوں کی تسبیح۔ایک آبخورہ اور ایک پیالہ تھا۔آپ خودایک معمولی کملی پہنے ہوئے تھیں جس میں بارہ پیوند تھے ۔

(۱۰)حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر شفاعت امت عاصی کا باندھا گیا اور آپ کو حیض نہیں ہوا۔ اورجب حضرت اما م حسن پیدا ہوئے عصرکے بعد اپنے نفاس سے طہارت فرما کرنماز مغرب ادا کیااسی لئے آپکا نام زھراء ہوا ۔

(۱۱)حضور اقدس ﷺ کو نکاح سے پہلے خواب میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصویر دگھائی گئی تھی کہ یہی آپ کی زوجہ ہیں ۔

(۱۲)رسول اکرم ﷺ کی لخت جگر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کونیزہ مار کر شہید کرنے والا شخص ہباب بن الاسود تھا۔

(۱۳)شاہ مصر مقوقش نے حضورﷺ کی خدمت اقدس میں دو لڑکیاں بھیجی تھیں ایک حضرت ماریہ قبطیہ جو حرم نبی میں داخل ہوئی دوسری سیرین جن کا نکاح حضرت حسان بن ثابت سے ہوا۔والی مصر نے ایک خچربھی بھیجاتھا جو حضورﷺ نے اپنی سواری میں لے لیا ۔ یہی خچر بعد میں دلدل کے نام سے مشہور ہوا ۔غزوہ حنین میں سرکار اسی پر سوار تھے۔

(۱۴)اہل بیت کی تین قسمیں ہیں پہلی قسم اصل اہل بیت۔ ان میں تیرہ نفر ہیں:نو ازواج مطہرات اور چار صاحب زادیاں ۔ دوسری قسم داخل اہل بیت ۔یہ تین نفر ہیں سیدنا علی مرتضیٰ،سیدنا امام حسن، اور سیدنا امام حسین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین ۔ تیسری قسم لاحق اہل بیت یعنی وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے ناپاکیوں اور گناہوں سے کلّی طور پر پاک کر دیا ہے اور ان کو کمال تقویٰ اور پاکیزگی عنایت فرمائی ہے خواہ وہ سادات ہو ں یاسادات کے علاو ہ جیسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ۔

(۱۵)رسول اللہ ﷺ کی آل دو قسم کی ہے ایک نسبی جیسے حضرت جعفر اور عقیل بن ابی طالب کی اولاد اور عباس رضی اللہ عنہ کی اولاد اور حارث بن عبد المطلب اور علی مرتضیٰ اور آپ کی اولاد ، رضی اللہ عنہم ۔ دوسری سببی کہ ہر متقی مسلمان رسول اللہ ﷺ کی آل میں شامل ہے ۔

(۱۶)رسول خدا ﷺ خود اپنی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ان کو خوش کرنے کی خاطر اور صحابہ کو تعلیم دینے کی غرض سے دوڑ میں مقابلہ کرتے تھے ۔

(۱۷)سرور عالمﷺ نے فرمایا حسن اور حسین یہ دونوں عرش کی تلواریں ہیں ۔

(۱۸)جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے نانا جان ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے تو حضورﷺ ان کا بوسہ لیتے اور فرماتے ایسے کو مرحبا جس پر میں نے اپنا بیٹا قربان کیا ۔

(۱۹)ام المو منین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اکرم ﷺ کے وصال کے بعد ۴۸ سال زندہ رہیں ۔

(۲۰)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ازواج مطہرات میں سے ہیں ان کا نام رملہ تھا انھیں کو حضورﷺ نے کربلا کی خاک دی تھی جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے وقت سرخ ہو گئی ۔

(۲۱)پردے کے حکم کی آیت حضور ﷺ کے ام سلمہ سے نکاح کے بعد نازل ہوئی ۔

(۲۲)واقعہ افک میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے والا عبد اللہ بن ابی تھا۔

(۲۳)حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی فاتحہ کا کھانا مرد کھا سکتے ہیں اس کی شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے ۔

(۲۴)حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا نے خواب میں دیکھا کہ ان کی گود میں رسول پاک ﷺ کے بدن کا ایک ٹکڑا ڈالا گیا ہے حضور اقدس ﷺ نے اس کی تعبیر فرمائی کہ فاطمہ کے لڑکا ہو گا اور اسے تم دودھ پلائو گی ۔ اور ایسا ہی ہوا کہ سیدنا امام حسین  پیدا ہوئے اور حضرت ام فضل نے ان کو دودھ پلایا ۔

(۲۵) حٖٖٖٖٖٖٖضرت محمد بن الحنفیہ  حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کے فرزند تھے ۔ حضرت علی اپنے دور خلافت میں محمد بن حنفیہ کو فوج کا سپہ سالار بنا کر اکثر جنگوں میں بھیجتے تھے ۔ کسی نے محمد بن حنفیہ سے کہا تمہارے باپ علی حسن یا حسین کو لڑائی پر نہیں بھیجتے تم کو ہی ہمیشہ موت کے منہ میں دھکیل دیتے ہیں ۔ محمد بن حنفیہ نے فرمایا حسن اور حسین میرے والد کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا بازو ، آنکھ کا کام الگ ہے بازو کاالگ۔

(۲۶)حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو قبر میں اتارتے وقت حضرت ابو ذر غفاری ص نے جوش غم میں قبر سے کہا: ’’اے قبر تجھے کچھ خبر بھی ہے یہ بیٹی ہیں رسول اللہ ﷺ کی، یہ بیوی ہیں علی مرتضیٰ کی ، یہ ماں ہیں حسن و حسین کی ،یہ فاطمۃالزہراء ہیں جنت کی بی بیوں کی سردار۔‘‘ قبر سے آواز آئی اے ابو ذر !قبر حسب و نسب بیان کرنے کی جگہ نہیں ہے یہاں تو نیک اعمال کا ذکر کرو۔ یہاں تو وہی آرام پائے گا جس کے کثیر اعمال نیک ہوں اور جس کا دل مسلمان ہو۔

(۲۷) حضرت عباس بن عبد المطلب حضورﷺ کے حقیقی چچا ہیں اسلام پہلے لا چکے تھے۔ بدر میں مجبوراً کفار کے ساتھ آئے تھے۔ اپنی ہجرت کے دن اسلام ظاہر کیا۔ آپ آخری مہاجر ہیں۔

(۲۸) ابو طالب حضورﷺ کی حقانیت کے قائل تھے انہوں نے حضور کی بڑی خدمتیں کی ہیں ان کے ایمان کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کا قول ہے کہ چونکہ انہوں نے زبان سے کلمہ نہ پڑھا تھا اس لئے شرعاًناانہیں مسلمان نہیں کہا جا سکتا۔

(۲۹)حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ کی نو بیویاں ہوئیں۔ سیدہ فاطمۃ الزہراء ، ام بنین ،لیلیٰ بنت ام سعود ،اسماء بنت عمیص،امامہ بنت ابی العاص خولہ بنت جعفر ، صہبا بنت ربیعہ ، ام سعید بنت عروہ ، محیاء بنت امراء القیس ، ان بیویوں سے بارہ بیٹے اور نو لڑکیاں ہوئیں جن میں سے حضرت حسنین ، سیدہ زینب ،سیدہ ام کلثوم حضرت فاطمۃالزہراء سے ہیں

(۳۰)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گنبد خضریٰ میں حضرت عمر فاروق اعظم ص کے دفن ہونے کے بعد پردے کے ساتھ جاتی تھیں اور فرماتی تھیں میں عمر سے حیا کرتی ہوں۔

(۳۱)حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حضور اقدس ﷺ نے آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ آپ حضور ﷺ کے بڑے چہیتے تھے یہاں تک کہ آپ کا شمار اہل بیت میں ہو تا تھا۔

(۳۲)حضور اقدس ﷺ نے بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو ہاتھی دانت کے کنگن پہنائے۔

(۳۳)حضرت آمنہ خاتون کو استقرار حمل بارہویں ذی الحجہ کو منٰی میں ہوا کہ حضرت عبد اللہ جمار کی رمی کرکے آئے اور مقاربت کی مگر در حقیقت وہ رجب کا مہینہ تھا جسے کفار نے اس سال ذی الحجہ قرار دے کر حج کرلیا تھا اس حساب سے ربیع الاول تک نو ماہ ہوتے ہیں۔

(۳۴)حضور ﷺ کی ازواج کا مہر پانچ سو درہم تھا جو آج کے حساب سے تقریبا ساڑھے چار ہزار روپے ہوتا ہے۔

(۳۵)حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر چار سو مثقال یعنی ڈیڑھ سو تولہ چاندی تھا۔

(۳۶)حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لئے فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کی موجود گی میں دوسرا نکاح حرام تھا۔

(۳۷)حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بحالت جنابت مسجد میں آنے کی اجازت تھی۔

(۳۸)نبی کریم ﷺ بی بی خدیجۃ الکبریٰ کی طرف سے ان کی وفات کے بعد قربانی کراتے تھے اور ان کا گوشت ان مرحومہ کی سہیلیوں کو بھیجتے تھے۔

(۳۹)جناب علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے صرف حضرت فاطمۃ الزہراء ہی کو غسل دیا۔ اس پر صحابۂ کرام نے اعتراض کیا۔ آپ نے فرمایا کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اے علی! فاطمہ تمہاری دنیا وآخرت میں بیوی ہیں۔ سومیرا نکاح ان کی وفات سے ٹوٹا ہی نہیں۔ یہ مولیٰ علی کی خصوصیت تھی۔ آپ نے اپنی اور کسی بیوی کو غسل نہیں دیا۔

(۴۰)حضرت علی رضی اللہ عنہ کا لقب حیدر کرار ہے یعنی پلٹ پلٹ کر حملہ کرنے والا شیر۔

(۴۱)سید الشہداء حضرت امام حسین ص کی ولادت باسعادت شعبان سنہ چار ہجری کی پانچویں تاریخ منگل کے دن مدینہ منورہ میں ہوئی۔ بعض نے شعبان سنہ تین ہجری کی تیسری تاریخ بدھ کا دن بھی لکھا ہے۔

(۴۲)جناب امام حسین کی ولادت مبارک چھ مہینے میں ہوئی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سوا اور کسی خاصہ خدا کو یہ شرف نہیں ملا۔

(۴۳)سرکار شہید کربلا امام حسین ص ہر شب میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔ اسے آپ کے صاحبزادہ حضرت اما زین العابدین رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

(۴۴)سید الشہداء امام حسین صنے اپنی تمام عمر میں پچیس حج ادا کئے اور سب پیدل۔

(۴۵)جناب حضرت اما م حسین کے بیس بیٹوں میں سے سات بیٹے معرکۂ کربلا میں شریک تھے از آں جملہ پانچ درجہ شہادت پر فائز ہوئے

(۴۶)معرکۂ کربلا میں حضرت امام عالی مقام سیدنا امام حسین صاور یزید پلید کی فوجوں کا تناسب علی الترتیب بہتر اور تیس ہزار تھا۔

(۴۷)سیدنا امام حسین کے گھوڑے کا نام میمون تھا اور وہ رسول اللہ ﷺ کے گھوڑوں میں سب سے اچھا تھا۔ امام عالی مقام کی شہادت کے بعد فرات میں ڈوب کر مرگیا۔

(۴۸)حضرت اما حسین کے شاعر یحی بن حکم وغیرہ اور دروازے کے نگہبان اسعد ہجری تھے۔

(۴۹)حضرت اما حسین ص کی شہادت عاشورہ محرم الحرام جمعہ ۶۱ھ؁بعد نصف النہار ہوئی۔ عمر شریف وقت شہادت ۵۶برس پانچ ماہ پانچ دن تھی۔

(۵۰)حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اپنے والد ماجد حضور ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہی اور جب تک دنیا میں رہیں مطلق نہ ہنسیں۔

(۵۱)حضرت سیدنا امام حسن  کو ان کی زوجہ جعدہ بنت اشعت نے زہر دیا تھا جس سے حضرت امام کی شہادت واقع ہوئی۔

(۵۲)ابو لہب کی لونڈی ثوبیہ نے حضورﷺ کے چچا سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دودھ پلا یا تھا۔

(۵۳)حضرت مولیٰ علی کے بارے میں مشہور ہے کہ جب لڑائی میں آپ کے تیر لگ جاتے تو انہیں نکالنے کا کام نماز کی حالت ہی میں کیا جاتا۔

(۵۴)حضرت امام زین العابدین کے صاحبزادے حضرت زید شہید رضی اللہ عنہ کی ننہال ہندوستان تھی۔

(۵۵)ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے ختم تک حضورﷺ بستر پر تشریف نہیں لاتے تھے۔

(۵۶)حضرت سعد ابن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مولیٰ علی ص سے فرمایا تم قرابت رکھنے میں مجھ سے ایسے ہو جیسے ہارون موسی کے واسطے تھے مگر فرق اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے (اور ہارون پیغمبر تھے)۔

(۵۷)حضرت عمران بن حصین کہتے ہیں رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نسب میں علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور علی ہر مومن کا دوست ہے۔

(۵۸)حضرت زید بن ارقم کہتے ہیں حضور پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا میں دوست ہوں اسکا علی دوست ہے۔

(۵۹)حضرت علی ص فرماتے ہیں رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا میں مکان حکمت ہوں اور علی اس مکان کا دروازہ ہے۔

(۶۰)حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا علی سے منافق کو محبت نہ ہوگی اور مومن علی سے بغض نہیں کریگا۔

(۶۱)فرقۂ روافض حضرت علی کے عہد میں عبد اللہ بن سبا کی شرارت اور بہکاوے کے سبب پیدا ہوا۔

(۶۲)حضور ﷺ کی دعا کی برکت سے حضرت علیص گرمیوں میں جاڑے کے کپڑے اور جاڑے میں گرمیوں کے کپڑے پہنتے تھے اور گرمی سردی کی کچھ تکلیف محسوس نہیں ہوتی تھی۔

(۶۳)خاتم الائمہ والخلفاء الراشدین امام مہدی رضی اللہ عنہ سبط اکبر امام حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ہوں گے۔

(۶۴)حضرت خواجہ حسن بصری صرسول اکرم ﷺ کے رضاعی بیٹے تھے کہ آپ نے ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا دودھ پیا تھا۔

(۶۵)مشہور تاریخی تلوار ذو الفقار کا یہ نام اسلئے پڑا کہ اس میں اٹھا رہ دندانے تھے۔ ہارون رشید تک اس کا پتا چلتا ہے وہ خود بھی کبھی کبھی اس تلوار کو لگا یا کرتے تھے۔

(۶۶)امیر المومنین حضرت سیدنا حسن ابن سیدنا مولیٰ علی کرم اللہ وجہہ کو پانچ بار زہر دیا گیا مگر اثر نہ کیا۔ چھٹی بار کے زہر نے آپ کے جگر کو پارہ پارہ کردیا۔

(۶۷)سرور عالم ﷺ کی انگوٹھی حضرت ابو بکرکے پاس تھی پہر حضرت عمر فاروق  کے پاس رہی بعد ازاں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ملی۔ جب ان کی خلا فت کو چھ برس ہوگئے تو ایک دن چاہ اریس پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ہاتھ سے نکل کر کنویں میں گر پڑی تین دن تک تلاش کیا گیا نہ ملی کنویں کا تمام پانی نکالا گیا مگر نہ ملی۔

(۶۸)حضور ﷺ کے منبر شریف کے تین درجے تھے۔ حضور سب سے اوپر کے درجے میں بیٹھتے تھے اور درمیانی درجہ پر اپنے قدم مبارک رکھتے تھے۔ حضور ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے عہد میں ادب کے لحاظ سے درمیانی درجہ پر کھڑے ہوتے اور جب بیٹھتے تو پائوں سب سے نیچے کے درجے میں رکھتے تھے۔

(۶۹)حضرت علی رضی اللہ عنہ دوڑ لگانے میں بہت تیز تھے۔

(۷۰)حضور ﷺ نے سید الشہداء حضرت امیر حمزہ صکی ستر بار نماز جنازہ پڑھی کہ ہر شہید کے جنازے کے ساتھ ان کی نماز پڑھی۔

(۷۱)جناب امام حسین کی کربلا کی آخری نماز جو خنجر تلے ادا ہوئی وہ خانۂ کعبہ میں لاکھو ں نمازوں سے افضل ہے۔

(۷۲)حضرت مولیٰ علی ص فرماتے ہیں کہ حسن سینے سے لیکر سر تک حضور اسے بہت زیادہ ہم شکل ہیں اور حسین نیچے کے بدن میں حضوراسے مشابہ ہیں

(۷۳)رسول پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ خدا سے محبت کروکیوں کہ وہ تم کو نعمتیں دے کر پرورش کرتا ہے اوراس کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرواور میری محبت کیوجہ سے میرے اہل بیت سے بھی۔

(۷۴) حضرت ابو ذر کعبہ کا حلقہ پکڑے پکڑے کہہ رہے تھے میں نے حضورﷺ سے سنا ہے آپ فرمارہے تھے کہ میرے اہل بیت کی مثال ایسی ہے جیسے حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جو شخص اس میں سوار ہوگیا وہ ڈوب نے سے بچ گیا اور جو رہ گیا وہ ڈوب گیا۔

(۷۵)حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں خواب میں تم کو تین مرتبہ دیکھا۔ تم کو ایک ریشم کے ٹکڑے میں رکھ کر ایک فرشتہ لایا کرتا تھا اور کہتا یہ آپ کی زوجہ ہیں۔ میں نے دل میں کہا اگر یہ خدا کی طرف سے ہے تو پورا ہوکر رہے گا۔

(۷۶)حضرت انس ص کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اچھی عورتوں میں سے مریم بنت عمران کافی ہیں اور خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ااور آسیہ فرعون کی بیوی۔

(۷۷)حضرت موسی ابن طلحہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ کسی شخص کو فصیح نہیں دیکھا۔

(۷۸)حضرت بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا رفتار و روش میں اپنے والد ماجد اسے مشابہ تھیں۔

(۷۹)حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ حضرت جعفر طیار کو مسکینوں سے بہت محبت تھی آپ انہیں کے پاس بیٹھا کرتے تھے اور انہیں سے بات چیت کیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وجہ سے آپ کی کنیت ابو المساکین رکھی تھی۔

(۸۰)حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول اللہ انے فرمایاہر نبی کے سات نجیب محافظت کرنے والے ہوتے ہیں اور مجھ کو چودہ دیئے گئے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کون کون لوگ ہیں۔ فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے حسن اور حسین اور جعفر اور ابو بکر اور عمر اور مصعب ابن عمیر اور بلال وسلمان اور عبد اللہ ابن مسعود اور ابو ذر اور مقداد رضی اللہ عنہم اجمعین۔

(۸۱)حضرت علی  کی نسبت رکوع کی حالت میں چاندی کا چھلا زکوۃ میں دینے کی جو بات مشہور ہے وہ محض افتراء ہے۔ مولیٰ علی پر کبھی زکوۃ فرض ہی نہیں ہوئی۔ آپکی زندگی فقر وفاقہ میں گزری۔

(۸۲)حضرت عبد مناف حضور ﷺ کے چوتھے دادا تھے ان کا اصلی نام مغیرہ تھا ان کی پیشانی میں نور جھلکتا تھا اسلئے ان کو قمر البطحاء یعنی وادی مکہ کا چاند کہا جاتا تھا۔

(۸۳)رسول اللہ ﷺ کے پر دادا حضرت ہاشم کا اصلی نام عمرو تھا اور رتبے کی بلندی کے سبب انہیں عمرو العلا بھی کہتے تھے۔