اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے آسانی درکار ہے یا تنگی ؟

اختیار آپ کے اپنے ہاتھ ۔

الله تبارك و تعالى نے سورة الليل میں چھا جانے والی رات ، روشن سورج اور مذکر و مؤنث مخلوقات کی قسم فرمانے کے بعد بتایا کہ اس دنیا میں تمہاری تگ و دو اور مساعی مختلف ہیں ۔

اور پھر ان متفرق مساعی کا ثمرہ یہ فرمایا :

فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَاتَّقَىٰ (5)وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَىٰ (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (7) وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ(9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ (10) وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ (11)

آگاہ رہو ۔ تو جس نے ( خوش دلی سے اللہ کی راہ میں ) دیا اور تقوی اختیار کیا اور الْحُسْنَىٰ (لا إله الا الله، جنت ، دنیا و آخرت میں بدلہ ) کی تصدیق کی تو جلد ہم میسر کر دیں گے اسے آسانی

اور باخبر رہو ۔ تو جس نے کنجوسی کی ، اور ( اسلام اور اہل اسلام کی ضروریات سے ) لاتعلق رہا اور الْحُسْنَىٰ کو جھٹلایا ( نہ مانا ) تو جلد ہی ہم اسے میسر کریں گے تنگی ۔

تو اللہ رب العالمین نے سہولتوں کی آسانی عطاء کو 3 اسباب پر موقوف کیا ہے اور تنگی نصیب کرنے کی وجوہات بھی 3 ہی ذکر فرمائی ہیں ۔

سہولتیں فراہم ہونے کے أسباب:

🌻 بندے کا اپنے رب کی راہ میں عطاء کرنا ,پہلا سبب بتایا ۔ 📜 اس ارشاد کے حوالے سے صرف دو نکتے آپ کی توجہ کے لیئے فقیر لکھتا ہے ۔

(1) اللہ نے اعطی کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔

عطاء / عطیہ میں چند خوبیاں ہیں ۔

☀ معطی اپنی خوش دلی سے دیتا ہے ۔

جب اپنی خوش دلی سے دے رہا ہے تو اپنے مقام کو مد نظر رکھتے ہوئے دے گا ۔

احسان نہیں جتلائے گا بلکہ الٹا خود ممنون سا ہوگا ۔

شکریہ اور جزاک اللہ کے الفاظ سننے کا منتظر نہیں ہو گا

بلکہ اگر اس کے عطیہ کی قدر نہیں رکھی گئی تو بھی ملال نہیں ہو گا ۔

☀ اپنا ، پرایا، استحقاق و عدم استحقاق یہ تفریق مد نظر نہیں ہوتی ۔

بس ایک ہی دھن کہ دینا ہے ۔

(2) اللہ نے اعطی کا مفعول ذکر نہیں کیا ۔ اگر مفعول مذکور ہوتا مثلا مال تو ارشاد صرف مذکور تک محدود ہو جاتا ۔ عموم نہ رہتا ۔ اب بات کچھ یوں بنی کہ جو صلاحیت و لیاقت و ہنر و فن ، مال و منال ، جاہ و حشمت ، مختصر یہ کہ اللہ تبارک و تعالی نے جو بھی دیا ہے ، سب میں سے عطیہ کرتے ہیں ۔

جو اللہ نے حکم فرمایا ہے وہ بھی دیتے ہیں اور جو اپنے من موج میں آتا ہے وہ بھی دیتے ہیں ۔ جہاں ہوں منبع نفع و خیر بنے رہتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق فیض یاب ہوتی رہتی ہے ۔

🌻 دوسرا سبب تقوى بتایا ۔

الله کے امور کو بجا لانا اور اس کی ممنوعات سے یکسر باز رہنا تقوی کا ادنی درجہ ہے ۔

فقیر بجان و دل تسلیم کرتا ہے کہ تقوی یہاں عمومی طور پر مراد ہے ۔ لیکن فقیر کو یہ سبق بھی مل رہا ہے کہ دور حاضر میں نام تو انفاق فی سبیل اللہ ہی بولا جاتا ہے لیکن اس میں تقوی مفقود سا نظر آتا ہے تو گویا یہ تنبیہ یہاں موجود ہے کہ عطیہ کے وقت ، عطیہ کا اپنا مفہوم اور تقوی مد نظر رکھو ۔

🌷 درج ذیل آیتوں میں بھی تقوی کو اللہ کی جناب سے آسانیاں عطا ہونے کا سبب بتایا گیا ہے ۔

: { ومن يتق الله يجعل له من أمره يسرا }،

اور جو بھی اللہ کا تقوی رکھے گا، اللہ اس کے معاملات میں آسانی بنا دے گا ۔

{ ومن يتق الله يجعل له مخرجا * ويرزقه من حيث لا يحتسب} ۔

اور جو بھی اللہ کا تقوی رکھے گا، اللہ اس کے لیئے بچ نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے رزق دے گا ، جہاں سے گمان بھی نہ ہو گا

اور یہ درس بھی حاصل ہوا کہ جب تقوی سہولتیں عطاء ہونے کا سبب ہے تو اس کی ضد لازما تنگیوں اور تلخیوں کی موجب ہے ۔

🌻 آسانیاں نصیب رہنے کا تیسرا سبب التصديق بالحسنى فرمایا ہے ۔

تفاسیر میں الحسنى کی تفسیر میں 3 اقوال ملتے ہیں ۔ لا إله الا الله ، جنت ، بدلہ اور ظاہر ہے کہ افضل و اعلی کو بتانے پر اکتفاء ہے ورنہ الحسنى کا معنی تو ہر سوہنی من موہنی صفت ہے ۔

تو جس بلند بخت نے ان تینوں صفات کو اپنے اندر جمع کر لیا تو اس کے لیئے خوش خبری یہ بتائی ۔

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَىٰ (7 )

دوستو ! اپنے رب کی بے کنار بندہ نوازیوں کا بیان ہو ہی نہیں سکتا لیکن آپ کی توجہ ان نکات پر ضرور ہونی چاہیے

*آغاز بشارت “ف” اور “س” سے ہے یعنی بشارت دی گئی جزاء کے ملنے میں دیر نہیں ۔ جلد ، بہت جلد ملے گی اور ضرور ملے گی ۔

*آسانی کا مضمون دینے کے لیئے ” يُسْرً ” سے فعل مضارع کا جمع متکلم کا صیغہ استعمال فرمایا

*يُسْرً وہ آسانی جس میں خوشحالی اور اطمینان قلبی بھی ہو ۔

*واحد کے بجائے جمع کے صیغہ نے ذات وحدہ لا شریک لہ کے ساتھ جملہ صفات ربوبیت کو ساتھ ملا کر خوب مبالغہ پیدا کر دیا

*اور فعل مضارع نے یہ بتا دیا کہ سہولتیں عطاء ہونے کا یہ سلسلہ لگاتار جاری رہے گا ۔

*اور ان سب بندہ نوازیوں کا کرم فرماتے ہوئے جو میسر فرمائے گا وہ

” الْيُسْرَىٰ ” ( اعلی قسم کی خوش حالی ) ہو گی ۔

فقیر عرض یہ کرنا چاہتا ہے کہ

” الْيُسْرَىٰ ” صفت ، حذف موصوف کے ساتھ ذکر کر کے یہ بتا دیا کہ ہر شی ، ہر حالت ، ہر حاجت ، ہر آن

” الْيُسْرَىٰ ” ساتھ رہے گی ۔

🙏اللہ کریم اس فقیر اور اس کے اہل و عیال، اعزہ واقارب و احباب و کل امت مسلمہ کو ایمان اور دلوں کا تقوی عطا فرمائے ۔ آمین آمین آمین یا رب العالمین ۔

☆ اللہ نے توفیق دی تو تنگی کے اسباب کا بیان اگلی نشست میں ۔ إن شاء الله تبارك وتعالى

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین

تنگی و شر کے 3 اسباب

اللہ تبارک و تعالی نے گذشتہ آیات ( 4 ، 5 اور 6 ) میں آسانی کے جو 3 اسباب بیان فرمائے، انہی کی اضداد کو اسی ترتیب و اسلوب میں یوں بیان فرمایا ہے ۔

وَأَمَّا مَن بَخِلَ وَاسْتَغْنَىٰ (8) وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ(9) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ (10 )

[ سبب اول ]

وَأَمَّا مَن بَخِلَ

{ اور ہاں جس نے بخل کیا }

یہاں بھی بخل کو مال کی بخیلی تک محدود رہنے سے بچانے کے لیئے مفعول حذف کر دیا اور مفہوم یہ سامنے آیا کہ مخلوق خدا کی جو مدد، جو اعانت، جو حاجت روائی اس کی ذات سے وابستہ ہے اس میں وہ بخل کرے بلکہ اپنے اس مخلص خادم کو کہنے دیجئے کہ انسانی فطرت اور بشری جبلت میں اللہ نے جس ارادہء خیر اور جذبہ ہمدردی کو رکھا ہے ، اس نے اسے معطل و مفلوج کر رکھا ہے ۔ اللہ اس سے جو کام لینا چاہتا ہے ، اس طرف اس کی توجہ ہی نہیں ۔ شاید اسی لیئے دوسرا سبب بھی اسی منحرف مزاج کو بتایا

[وَاسْتَغْنَىٰ ]

{ اور بے نیاز بنا رہا }

▪ مطیع بندہ بن کے رہنے کے بجائے ،

اپنے ہم نوع انسانوں میں سے ایک فرد ہونے کے ناتے ان کے کام آنے کے بجائے ، اپنے آپ میں مگن رہا ۔

▪اپنے رب سے تقوی کرتے ہوئے معاصی سے دور رہنے کے ارادہ ربانی کو معطل کر دیا ۔

تو اب اس کے مزاج میں تیسرا اور آخری سبب بھی در آیا ہے

[ وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَىٰ ]

اور اس نے ( علمی ، اعتقادی اور عملی طور پر ) تکذیب کر دی ہے الْحُسْنَىٰ کی ۔

📜 ایسے تیرہ بختوں کی سزا کے بیان کو فریق اول کی اچھی جزاء کے مقابلہ میں ذرا مفصل بھی کر دیا اور شدید سخت بھی ۔

✅ اور خلوص و محبت کا اصل تقاضا بھی تو کچھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ برائی کی سزا کے ڈراوے کو اچھائی کی حوصلہ افزائی سے کہیں زیادہ بتایا جائے ۔

🖍ان تینوں صفات بد کو جمع کر لینے والوں کی

پہلی سزا یہ بتائی

فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَىٰ ۔

تو جلد ہی ہم اسے میسر کر دیں گے

الْعُسْرَىٰ ۔

” الْعُسْرَىٰ ” مشکل ، صعوبت ، تنگی کا معنی رکھتا ہے ۔ مفہوم میں وسعت کے لیئے یہاں بھی موصوف محذوف کر دیا ۔ تو مطلب یہ بنا کہ ہر شر ، ہر برائی ، کا ارتکاب اس کے لیئے آسان اور مزین ہو جائے گا اور ایمان و خیر و عمل صالح اس کے لیئے ناممکن کی حد تک دشوار ۔

¤ ایسے نابکار کا انجام اگرچہ واضح ہے لیکن پھر بھی اس کے لیئے دوسری اور ابدی سزا یہ بتا دی ۔

وَمَا يُغْنِي عَنْهُ مَالُهُ إِذَا تَرَدَّىٰ (11)

جب وہ ان اسباب کو اختیار کر کے تباہی و ہلاکت کے گڑھے میں خود ہی گر چکا ہے تو اب دنیا میں جو کچھ بھی اس کی ملکیت تھا اس کو کب کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے ؟؟

🙏اللہ تبارک و تعالی سے ہی دعا ہے کہ وہ عز و جل اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تصدق ، اس فقیر اور اس کے اپنوں کو ہر طرح کی سیہ بختی ، بد نصیبی، روسیاہی ، ہلاکت و خسران سے محفوظ رکھے ۔

آمین آمین آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم

✒ از قلم شیخ الحدیث و التفسیر حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب مہتمم ادارہ معارف القران کشمیر کالونی کراچی خادم جامع مسجد حضرت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ تعالی عنہا مصطفی آباد پھالیہ منڈی روڈ منڈی بہاؤالدین