کیا آخرت کی بھی کوئی کرنسی ہے؟

دوستو! یہ زندگی ! کمائی کرنے کے دن ہیں۔ یہ دنیا کچھ سالوں کا ویزہ ہے پھر اپنے وطنِ اصلی یعنی” قبر” کی طرف لوٹنا ہے….

انسان پردیس میں کماتا ہے؛ وطن میں خرچ کرنے کے لئے ۔ ابھی وقت ہے ہم غفلت کی نیند سے جاگ جائیں، ورنہ پردیس ( یعنی دنیا) کے بعد جب وطن واپس جائے گا ؛ اگر وطن کے لیے کچھ نہ بچایا تو پچھتائے گا؛ وہاں پر کرنسی بدل چکی ہو گی ۔ جب ملک بدلتا ہے کرنسی بدل جاتی ہے۔

اللہ تعالی بھی قرآن میں یہ ارشاد فرماتا ہے

وَ لۡتَنۡظُرۡ نَفۡسٌ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٍ ۚ

اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے آگے کیا بھیجا……

ملک بدلنے سے جیسے کرنسی بدل جاتی ویسے ہی اعمال ؛ کل کل آخرت میں قبر و حشر میں اگر کچھ مال اللہ کے راستے میں خرچ کیا ہوگا تو یقیناً کرنسی کی تبدیلی کے ساتھ ہمیں نیکیوں کی صورت میں مل جائے گا…

قرآن مجید میں ارشاد ہے

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ..

ان کی مثال جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اُگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔

ایک کے بدلے سات سو گناہ کی آفر اللہ تبارک وتعالی نے دی ہے ….

اور اللہ کے وعدے سچے ہیں.. لا یخلف المیعاد

دنیا میں ہمیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ پردیس میں ایک یورو ہوگا تو اس کے بدلے میں 170 روپے میرے دیس میں مل جائیں گے….

ہمیں اس بات پر بھی یقین ہے کہ زمین میں ایک من گندم کا بیج ڈالیں گے تو اس کے بدلے میں میں چالیس پچاس من گندم ہمیں مل جائے گی…..

اگر زمین میں دانہ ڈال کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ کے رستے میں نیکی کر کے بھی اللہ پر بھروسہ کرنے سے تجھے کون بہکاتا ہے …

سبحان اللہ جن کا بھروسہ تھا اور ہے؛ ان کے کیا کہنے…..!

حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ستر ہزار درہم راہِ خدا میں صدقہ کرتے دیکھا حالانکہ ان کی قمیص کے مبارک دامن میں پیوند لگا ہوا تھا۔

ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ مہمانوں کی دعوت کی اور دعوت کے بعد

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے پوچھا؛ اچھا بتاؤ ہمارے لئے بھی کچھ بچا ہے؟

ام المومنین عرض کرتی ہیں ہیں یا رسول اللہ ایک ران بچی ہے؛ آپ نے فرمایا اے عائشہ باقی سب کچھ بچ گیا ہے؛ سوائے اس ران کے….

کیونکہ مہمانوں کی دعوت تو اللہ کے رستے میں کی گئی ہے ..

تو دوست! یہ سارا دنیاوی جاہ جلال اِدھر ہی رہ جائے گا ۔ آنکھ بند ہوتے ہی سکہ بدل جائے گا۔

آخرت کی کرنسی کیا ہے؟

ایک دوست کہنے لگا کہ؛ امیر آدمی جب دنیا سے چلا جاتا ہے تو کوئی اس کی فیکٹریوں کارخانوں کا تذکرہ نہیں کرتا

بلکہ عوام کی زبان پر یہ جاری ہوتا ہے کہ اللہ بخشے بڑے نیک آدمی تھے، بڑے نمازی پرہیز گار تھے، مسجد میں ہر ماہ امام اور مؤذن کی تنخواہ خود دیتے تھے، بڑی مسجدیں بنائیں، مدرسہ بنوایا ، لیکن ان کے کارخانوں کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا کہ اللہ بخشے بڑے مال دا ر آدمی تھے؛ لاہور کراچی فیصل آباد میں ان کا بزنس تھا،

مولانا یہ تذکرہ کیوں نہیں ہوتا؟

آخر اس کی کیا وجہ ہے؟

چونکہ آنکھ بند ہونے کے بعد ملک بدل گیا، لہٰذا جس ملک میں جارہا ہے؛ اب اس ملک کی کرنسی کا تذکرہ ہورہا ہے؛ کہ اللہ بخشے اس نے فلاں مسجد بنائی، مدرسہ بنایا، اماموں کی تنخواہ دیتا تھا اور غریبوں کی مدد کرتاتھا۔ جب ملک بدل گیا تو کرنسی بدل گئی، پس دوسرے ملک میں پہلے ملک کی کرنسی نہیں چلتی،تو اس کا کوئی تذکرہ بھی نہیں کرتا۔ دنیا کی کرنسی آخرت میں نہیں چلتی،اس لیے کسی کے فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور کے کارخانوں کا تذکرہ کوئی نہیں کرتا، بلکہ نیکیوں کی جو کرنسی انہوں نے آخرت میں بھجوادی اسی کا تذکرہ ہوتا ہے کہ بڑے مخیر آدمی تھے، مساجد ومدارس پر بہت خرچ کرتے تھے، غریبوں کی مدد کرتے تھے وغیرہ۔

لیکن پردیس میں رہ کر وطن کی تیاری کی توفیق اُسے ہی نصیب ہوتی ہے جب ان لوگوں کے ساتھ رہا جائے جو پردیس میں رہتے ہوئے بھی وطن کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ پردیس میں جہاں تذکرۂ وطن ہورہا ہے ان کی صحبتوں سے تعمیر کی توفیق ہوتی ہے اور جن کو ایسی صحبتیں نصیب نہیں ہوئیں وہ پردیس میں رہ کر بھی تعمیرِ پردیس کی فکر میں تو رہے، مگر اصلی وطن کی فکر نہ کر سکے…

تحریر ۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی