شادی خانہ آبادی

ایک زمانہ تھا کہ لوگ اپنے ماحول میں یہ کہا کرتے تھے کہ شادی خانہ اٰبادی اور واقعۃ ایسا تھا بھی کہ عورتیں اسلامی تعلیم سے آراستہ تھیں اور اپنا ہر فیصلہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرتیں،ہر ایک کا حق ادا کرتیں،ان سے کسی کو شکایت نہ ہوتی،وہ ایسی کامل ہوتیں کہ نہ اللہ کا کوئی حق چھوڑتیں اور نہ بندوں کے حق سے غافل ہوتیں،گھر کا ہر فرد یہ کھنے پر مجبور ہو جاتا کہ عورت ہو تو ایسی اسنے ہمارے گھر کی کایہ پلٹ دی،اس کے مبارک قدموں نے ہمارے گھر کو رحمتوں اور برکتوں سے مامور کر دیا،یہ بات جس نے بھی کہی سچ ہے کہ شادی خانہ اٰبادی

یقینا شادی ہے خانہ آبادی ۔ ہو عورت حسین فرمان نبی میں

کہاوت کیوں بدلی

رفتہ رفتہ عورتوں میں دین کی تعلیم کم ہونے لگی اور دنیا کے اسکول کی تعلیم کو ہی اپنی کل متاع سمجھا جانے لگا،عورت آزادی کے نعروں کو اپنے لئے خیرخواہی کی پکار مانا جانے لگا،گھریلو زندگی سے ہٹ کر بازاری زندگی کو کامیابی یقین کر لیا گیا تب سے سکون واطمینان کا جنازہ نکل گیا اور مذکور کہاوت بدل کر یہ کہا جانے لگا شادی وجہ بربادی

یہ کمال ہے دنیا کی تعلیم کا ۔ دین سے بچھڑنا بھی دیکھ لو

اچھوں کو دیکھکر کہاوتیں اچھی نبتی ہیں،اچھوں کی تلاش عنقا ہو جاتی ہے تو کہاوتیں بھی بدل جاتی ہیں، اس میں قصوروار کسی غیر کو نہیں ٹھرایا جا سکتا ہے اس لئے کہ غلطی ہم نے کی ہے،اپنے آپ کو ذلیل ہم نے کیا ہے،لڑائی جھگڑے کا بازار گرم ہم نے کیا ہے،لوگوں کے حق کو پامال ہم نے کیا ہے،ہر ایک کو شکایت کا موقع ہم نے دیا ہے،ہماری بد عملی کی وجہ سے کہاوت بدلی ہے کہ شادی وجہ بربادی

نشیمن کو آگ لگائی خود سے ۔ کیوں پوچھیں مجرم کون ہوگا