ملت اسلامیہ کے مسائل کا حل

از:۔ ڈاکٹر عبد الواحد علیمی علیگ ،نوری مسجد حامد منزل میرس روڈ علی گڑھ،،

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ـ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلمانوں سے انکی جانیں اور مال جنت کے بدلے میں خرید لیا ہے۔اس لئے بلا استثناء ہر مسلمان کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں لڑے۔چنانچہ میدان جنگ میں فرزندان توحید خدا کے دین کے دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور مرتے ہیں ان مجاہدین اسلام سے جنت کا وعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پختہ یقین دہانی ہے، جسے توریت وانجیل میں بیان کیا گیا ہے: ’’اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے، پس خوشیاں منائو اپنے سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیاہے،یہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ‘‘ (سورئہ توبہ)

کتاب ہدایت کے اس حکم سے واضح ہوتا ہے کہ جوبھی مسلمان جہاد میں پہلوتہی اختیار کرتا ہے وہ اللہ کے کئے گئے وعدے سے منحرف ہے، اور یہی وہ خفتہ بختی ہے جس سے سراسر دین ودنیا کا خسارہ ہے۔

ساری دنیا کو اس کا اعتراف ہے کہ محاذ جنگ پر اللہ کے شیروں نے کبھی روباہی کا مظاہرہ نہیں کیا، دعوت الی اللہ، تبلیغ اسلام وشریعت،تعلیمات اسلامیہ کی ترویج و اشاعت ،سنت نبوی کا احیاء،اور امت محمدیہ اکی سرفرازی کے لئے جان جیسی عزیز متاع قربان کردیا۔ صرف رضائے الٰہی ، حصول زندگی کا نصب العین رہا، تائید الٰہی پر یقین رکھتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اصلاح امت مسلمہ پر صرف کردینااور امت محمدیہ ا کو صراط مستقیم پر قائم رکھنے کی جدو جہد کرنا ان کا شیوئہ ایمان رہاہے۔

مسلمانوں نے کبھی غیراللہ کے آگے سر نہیں جکایا اور اس دھرتی پر استقامت، شجاعت اور صبر ورضا کے ایسے ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے کہ دیگر اقوام وملل کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، بیروت وفلسطین کی تاریخ اسکی مثال ہے جس ثابت قدمی سے ایمان والوں نے مقابلہ کیااس پرخود ظالم بھی حیرت زدہ رہ گئے اور وحشت وبربریت کے اس گھنائو نے کردار کو ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے، اور انکی بہیمانہ کار وائیوں نے خود انکی ضمیر کو اس طرح جھنجھوڑا کہ انھیں اپنے ہی سربراہوں کے خلاف تحقیقاتی کمیشن قائم کرنا پڑا، جادو جو سر پر چڑھ کر بول رہا ہے، قاتل مکافات عمل سے گھبرا رہے ہیں۔ یہ سب صدقہ ہیں ان شہیدان اسلام وکربلا کا جنہوں نے بزدلی کی زندگی پر رشتۂ حیات کو منقطع کرنے کو ترجیح دی۔

جہاں ہم مظلومیت کے ان ایمان افروز کارناموں پر فخر کرتے ہیں وہاں ہمارے فرض میں یہ چیز بھی شامل ہیں کہ ہم خود بھی اپنا محاسبہ کریں اور جس خطہ کے مسلمان امن وسکون میں ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ ایک ہوکر ان مظلوموں کی مدد کے طریقوں پر غور کریں اور سوچیں کہ امت واحدہ کی حیثیت سے ہم پر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ہم ان کو پورا کرنے میں کس حد تک سرخ رو ہوئے۔

افسوس کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی خاص کام نہیں ہوا اور ہم اپنے بھائیوں اور خدا وند قدوس کے سامنے شرمندہ ہیں، ہم نے بحیثیت باشندگان یک ملت اپنے آپ کو فرقوں میں بانٹ لیا ہے اور روز بروز فرقہ پرستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں دوسری طرف مسلمان دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں اور جہاں بھی نفاق پیدا ہوتا ہے دشمن کی چاندی ہوتی ہے۔

نوشتند، گفتند، اور بر خاستند کی تو ایسی گہما گہمی رہی کہ لفاظی کے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے مگر ان تمام کاروائیوں نے دشمنوں کے سامنے ہمارے اختلافات برہنہ کردیئے جس سے ان کی اور حوصلہ افزائی ہوئی، اکابر امت محمدیہ ا اس بات پر متفق ہیں کہ اگر مسلمان سیسہ پلائی دیوار بن جائیںتوکوئی بد خواہ انکی طرف آنکھ اٹھاکر دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ مگر افسوس کہ اختلافات کے تمام سوتے انہیں سے پھوٹتے ہیں۔ اور سوچنے سمجھنے کا وہ انداز ہی نہیں جو امت واحدہ کا ہونا چاہئے،آج کیاس پر فتن دورا ورحالات کا تقاضہ تو یہی ہے کہ حرم کی پاسبانی کے لئے نیل کے ساحل سے لیکر تا بخاک کاشغر کے مسلمان ایک ہو ں، اگر اس نکتہ پر عمل ممکن نہیں تو پھر ’’ملت از وطن امت‘‘کے نظریئے کو تسلیم کرنا پڑے گا، اور یہ وہ بد نصیبی ہوگی جو مقام محمدیہ ا سے بے خبری کا کھلا مظاہرہ ہوگا۔ اگر عیش وراحت کو، شرف وفضیلت قرار دیا گیا اور اسلام کے فلسفۂ شہادت اور جہاد کو نظر انداز کیا گیا تو آج جو کچھ عراق وفلسطین میں ہوااور ہورہا ہے، کل یہ برق کسی اور چمن کو بھی جلا کر خاکستر کرسکتی ہے، پھر اس غافل کسان کی طرح جس کا کھیت چڑیا چگ گئی ہو پچھتانے سے کچھ نہ ملے گا۔

ایک روایت ہے کہ پیغمبر اسلام اکے اصحاب میں سے ایک صحابی کا گزر ایک ایسی بستی سے ہوا جو چشمۂ شیریں کی بدولت سر سبز وشاداب تھی، بستی کی خوشگوار فضا انہیں بہت پسند آئی، فرمانے لگے: اچھا ہو، اگر میں یہیں اتر جائوں اور بقیہ زندگی آرام وسکون سے گزاروں ،پھر خود ہی خیال آیا کہ بہتر یہ ہے کہ رسول اللہاسے دریافت کرلیا جائے کہ آپ کا کیا حکم ہے؟ چنانچہ حاضر بارگاہ ہوئے اور اجازت طلب فرمائی، محسن انسانیت ا نے فرمایا :کہ تم میں سے کسی کا اللہ کی راہ اسلام اور مسلمانوں کی سر بلندی میں اٹھ کھڑا ہونا اپنے اہل و عیال میں بیٹھ کر ستر سال عبادت کرنے سے بہتر ہے۔

اس ارشاد نبوی ا سے معلوم ہوا کہ جان ومال واولاد کی تو حقیقت ہی کیا ہے ناموس محمد اپر قربان ہوجانا سب سے افضل عبادت ہے، آج غور طلب بات یہ ہے کہ مسلم دنیا وی مسائل کے باوجود سامراجی سازشوں سے نبر آزماہونے سے کیوں قاصر ہے، ’’آگ بھی نمرودبھی،اور ابراہیم کہاں ہے ؟‘‘

سچ بات یہ ہے کہ اقوام عالم کی نگاہوں میں مسلمانوں کی ہوا اکھڑ گئی ہے،قوم مسلم کے لئے لازم ہوگیا ہے کہ وہ اپنی ساکھ قائم کریں اور عظمت رفتہ کو دعوت دیں، بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ایک طرف استعماری قوم آنکھ لگائے بیٹھی ہے، لیکن ہم اپنے فروعی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں ۔ ایک دوسرے کو مناظروں اور مباحثوں کے چلینج دے رہے ہیں ایک دوسرے کے خلاف پمفلیٹ چھپوا رہے ہیں اور ایک دوسرے کی ذات و مسلک پر رکیک حملے کررہے ہیں عالمی سطح پر اسلامی مملکتوں کے باہمی اختلافات اور اندرونی سطح پر فروعی اختلافات نے مسلمانوں کو کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے۔

اگر ہم واقعی مسلمان ہیں اور ذرا بھی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، اور اگر ہمارے اکابر اسلام کے ساتھ مخلص ہیں اور اپنی ذات کی خول میںمقید نہیں تو ہمیں یہ ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ مسلمانوں کے دشمن انتہائی چالاک توسیع پسند اور زمانہ شناس ہیں، فلسطینی متزلزل ہوئے، تو ان کو ان کے وطن سے بے دخل کردیا گیا۔ بیروت وعراق میں مسلمانوں کے خون سے قاتلوں نے آتش انتقام کو ٹھنڈا کیا، ان تمام پستییوں کی وجہ نفاق ہے اور وہ چیزیں ہیں جن سے نفاق پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جو مسلمانوں کو آرام طلب اور دنیا دار بناتی ہے،اور اس میں ضبط نفس اور قربانی کا جذبہ مفقود ہوجاتا ہے، اور یہ دونوں خامیاں دشمن کو بڑھنے کا موقع دیتی ہیں۔

دشمنوں سے نپٹنے کے لئے شجاعت ضروری ہے، تاریخ شاہد ہے کہ عارضی فتح ونصرت وشکست سے مسلمان مفرور ہوتے ہیں نہ ہراساں، انکے نزدیک تو ولایت، بادشاہی،کشور کشائی، جہانگیری اور مال غنیمت محض ایک عارضی چیز ہے، اصل چیز تو وہ اجر ہے جو آخرت میں انہیں حاصل ہوگا ان کی تمنا تو یہ ہے کہ باطل کے مقابل میں جہاد اور حق پر استقامت کا شاندار مظاہرہ ہونا چاہیئے۔

٭٭٭