میدان جنگ میں جماعت کی تاکید

اللہ کا فرمان عالیشان ہے : اور اے محبوب جب تم ان میں تشریف فرما ہو پھر نماز میں ان کی امامت کرو تو چاہئیے کہ ان میں ایک جماعت تمہارے ساتھ ہو وہ اپنے ہتھیار لئے رہے پھر وہ جب سجدہ کر لیں تو ہٹ کر تم سے پیچھے ہو جائیں۔ اور اب دوسری جماعت آئے جو اب تک جماعت میں شریک نہ تھی اب وہ تمہاری مقتدی ہو۔ اور چاہئیے کہ اپنے پناہ اور اپنے ہتھیار لئے رہیں ، اور کافروں کی تمنا ہے کہ کہیں تم اپنے سامان اور اپنے اسباب سے غافل ہو جاؤ تو ایک دفعہ تم پر جھک پڑیں۔اور تم پر کوئی مضائقہ نہیں اگر تمہیں مینہ(بارش )کے سبب تکالیف ہوں یا بیمار ہو کہ اپنے ہتھیار کھول رکھو اور اپنی پناہ لئے رہو۔ بے شک اللہ نے کافروں کے لئے خواری (ذلت) کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ (کنز الایمان )

حالت خوف میں دشمن کے مقابل اس اہتمام کے ساتھ نماز ادا کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز باجماعت کس قدر ضروری ہے ۔ (خزائن العرفان )

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! جنگ کا ماحول کتنا بھیانک ہے،ہرچہارجانب سے جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ایسے ماحول میں بھی اللہ نے جماعت سے نماز ادا کرنے کا حکم فرمایا ہے اس کو آپ نے سماعت کیا ۔ مذکورہ آیتِ کریمہ سے جماعت کی اہمیت کا اندازہ ہو تا ہے ۔ ہمارا حال یہ ہے کہ امن کے بھرے ماحول میں جب نماز ہی ادا نہیں کرتے تو جماعت کی کیا خاک پابندی کریں گے ۔ آئیے آج ہم سب عزم مصمم کریں کہ ان شاء اللہ نماز با جماعت کی پابندی کی پوری کوشش کریں گے ۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔