۱۔ نیت

(۱) اعمال کا مدار نیتوں پر ہے

۱ ۔ عن عمربن الخطاب رضی اللّہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلیاللہ تعالیٰ علیہ وسلم : إنّمَا الأعٗمَالُ بإالنّیَاتِ وَ إنّمَالِکُلِّ إمُرَئٍ مَا نَوٰی ۔ فتاوی رضویہ ۲/۴۷۵ ٭ فتاوی رضویہ ۹/۷۲۲

امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اعمال کے ثواب کا مدار نیت پرہے اور ہر شخص کو اسکی نیت کے مطابق ہی اجر ملتا ہے ۔

اقول : اس حدیث کی عظمت وصحت پر اجماع مسلمین ہے ۔ امام شافعی وغیرہ نے اسکوتہائی اسلام فرمایا ۔ اور تمام ابواب فقہ کو اس میں داخل مانا ۔دیگر ائمہ کرام اسکو چو تھائی اسلام قرار دیتے ہیں ۔ حضرت عبد الرحمن بن مہدی کہتے ہیں : ہر مصنف کو اس حدیث سے اپنی کتاب شروع کرنا چاہیئے تاکہ طالب علم کو اس بات پر تنبیہ ہو جائے کہ علم دین حاصل کرنے میں نیت خالص رضائے الہی ہو ۔ امام خطابی نے اس قول کو تمام ائمہ کرام کی طرف منسوب کیا ۔ اسی لئے امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے اپنی کتاب بخاریشریف کو اس حدیث سے شروع فرمایا ۔ نیز دیگر سات مقامات پر اس حدیث کو روایت کیا ۔

حفاظ حدیث فرماتے ہیں : یہ حدیث امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت یحیی بن سعید انصاری تک خبر واحد صحیح ہے ۔یعنی حضرت فاروق اعظم سے صرف حضرت علقمہ بن وقاص تابعی نے اور ان سے فقط محمد ابن ابرہیم تیمی تابعی نے اور ان سے یحیی بن سعید انصاری تابعی رضی اللہ تعالی عنہم نے ہی روایت کی ۔ ہاں حضرت یحیی کے بعد اسکی سندیں کثیر ہوگئیں کہ صرف ان سے روایت کرنے والوں کی تعداد دو سو سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ان میں اکثر ائمہ کرام ہیں ۔مثلا امام بخاری ،امام ابو دائود اورامام احمد بن حنبل حضرت سفیان بن عیینہ کی روایت سے ذکر کی۔

امام مسلم نے امام مالک کی روایت نقل فرمائی ۔

امام ابن ماجہ نے لیث بن سعد اور یزید بن ہارون سے سند ذکر کی۔

امام نسائی نے عبد اللہ بن مبارک ، سلیم بن حبان اور امام مالک سے روایت فرمائی ۔

اور خود امام عبد اللہ بن مبارک مروزی نے بھی کتاب الزہد میں اپنی سند بیان کی البتہ حافظ ابو نعیم نے ایک دوسری سند ذکر کی جس میں امام مالک کے طریق سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت نقل کی لیکن اسکو غریب کہہ کر فرمایا کہ یحیی بن سعید انصاری کی حدیث ہی صحیح ہے ۔

بعدہٗ اس حدیث کی سند یں ائمہ حدیث کے نزدیک سات سو تک شمار کی گئی ہیں ۔

بہرحال یہ حدیث مشہور صحیح ہے لیکن متواتر نہیں کہ شرائط ابتدائے سند میں مفقود رہے ۔ و اللہ تعالیٰ اعلم ۱۲م

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ الجامع الصحیح للبخاری ، باب کیف کان بدئو الوحی ، ۱/۲

الصحیح لمسلم ، باب قولہ ﷺ انما الاعمال الخ ۱/۱۴۰

السنن لابی داؤد ، کتاب الطلاق باب ما عنی بہ الطلاق و النیات ، ۱/۳۰۰

السنن لابن ماجہ ، ابواب الذہد ، ۱/۳۲۱

السنن للنسائی ، کتاب الطہارۃ ۱/۲۴

السنن للنسائی ، کتاب الطلاق ، ۳/۱۰۴

السنن للنسائی ، کتاب الایمان والنذور ، ۲/۱۴۴

السنن الکبری للبیہقی ، کتاب الطہارۃ ۱/۴۱

المؤطا لمالک

المسند لاحمد بن حنبل ، ۱/۲۵ ٭ الترغیب و الترہیب للمنذری ، ۱/۵۶

حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ۶/۳۴۲ ٭ کتاب الزہد و الرقائق ، ۱/۲۲۸

التفسیر للبغوی ، ۱/۴۳۱ ٭ تلخیص الجیر لابن حجر ، ۱/۵۵

المسند للحمید ی ۱/۲۸ ٭ تاریخ بغداد للخطیب، ۴/۲۴۴

فتح الباری، ۱/۹ ٭ تاریخ اصفہان لابی نعیم ، ۲/۱۵

شرح السنۃ للبغوی ، ۱/۴۰۱، ٭ علل الحدیث لابن ابی حاتم ۳۶۲

اتحاف السادۃ للمتقین ۲/۳۸۰ ٭

التفسیر لابن کثیر ، ۲/۳۴۵ ٭ المغنی للعراقی ، ۴/۳۵۱

روح المعانی ۳/۹۲ ٭ البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر ۰ ۱/۱۱۸، ۱۱/۵۵