الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :699

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو میری اس مسجد میں آئے مگر نہ آئے سوائے بھلائی سیکھنے یا سکھانے تو وہ غازی فی سبیل اﷲ کے درجے میں ہے ۱؎ اورجو اس کے سواکسی کام کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسرے کا مال تکے۲؎(ابن ماجہ)اوربیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح

۱؎ یعنی مسجدنبوی شریف میں علم دین سیکھناسکھانا دوسر ی جگہ سیکھنے سکھانے سے افضل ہے،جیسے یہاں کی ایک نمازپچاس ہزارکے برابر،ویسے ہی یہاں کا ایک سبق پڑھنا پڑھاناپچاس ہزاراسباق کے برابر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی برکت سے اسی لےا بعض علماءمسجدنبوی شریف میں وعظ کہنے اور درس دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجدوں میں علم دین کے مدرسے جائزہیں،امام بخاری نے حرم شریف میں بخاری لکھی۔

۲؎ یعنی جیسے وہ تکنے والا خیرسے محروم ہے،ایسے ہی یہ خیر سے محروم۔خیال رہے کہ یہاں خیر سے مرادکوئی دنیوی کام ہے،یعنی جومسجدنبوی شریف میں فقط عمارت یارونق دیکھنے کے لےں جائے کسی عبادت کی نیت نہ کرے وہ بڑا بدنصیب ہے۔اس غیرسے مرادحضور کا دیدارنہیں کہ یہ تو وہاں کی حاضری کا اصل مقصود ہے۔خیال رہے کہ حاجی حضور کی زیارت کی نیت سے مدینہ منورہ جائے اسی پر وعدۂ شفاعت ہے کہ فرمایا “مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَہٗ شَفَاعَتِیْ”۔جو بدنصیب صر ف وہ مسجد دیکھنے جائیں وہ اس شفاعت سے محروم ہیں،لہذا یہ حدیث ان کی دلیل نہیں ہمارے خلاف نہیں۔