مقیم امام اور مسافر مقتدی

مسافرامام اور مقیم مقتدی کے مسائل :-

مسئلہ: اگر مقیم امام کی مسافر مقتدی نے اقتدا کی تو اب وہ امام کی اقتدا میں چار(۴) رکعت ہی پڑھے۔ (درمختار ، ردالمحتار، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۲)

مسئلہ: مسافر امام نے چار رکعت والی نماز یعنی ظہر ، عصر اور عشاء میں مقیمین مقتدیوں کی امامت کی ۔ تو مسافر امام دو رکعت پر سلام پھیر دے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد مقتدی اپنی باقی نماز پوری کریں اوران دونوں رکعت میں مطلق قرأت نہ کریں یعنی حالتِ قیام میں کچھ نہ پڑھیں بلکہ اتنی دیر کہ سورہ ٔ فاتحہ پڑھی جائے محض خاموش کھڑے رہیں۔( درمختار ، ردالمحتار، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۲ اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ص۳۹۵)

نوٹ :- مقیم مقتدی مسافر امام کے سلام پھیرنے کے بعداپنی باقی نماز کس طرح پڑھے اس کے تفصیلی مسائل ’’ مقتدی کے اقسام واحکام ‘‘ کے باب میں ’’ لاحق مسبوق مقتدی کے متعلق ضروری مسائل ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھ دیئے گئے ہیں ۔ لہٰذا ان مسائل کا اعادہ نہ کرتے ہوئے معزز قارئین کرام سے التماس ہے کہ ان مسائل کو پھر ا یک مرتبہ ملاحظہ فرمالیں۔

مسئلہ: مسافر امام نے بغیر نیت اقامت چار رکعت پوری پڑھی تو گنہگار ہوگا اوراس کی اقتدا کرنے والے مقیمین مقتدیوں کی نماز باطل ہوجائے گی ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۶۶۹)

مسئلہ: اگر مسافر مقیمین کی امامت کرے تو اسے چاہئے کہ نماز شروع کرتے وقت اپنا مسافر ہونا ظاہر کردے اور اگر امام مسافر نے شروع میں اپنا مسافر ہونا ظاہر نہ کیا تو اپنی قصر نماز پوری کرنے کے بعد کہہ دے کہ ’’میں مسافر ہوں ، تم اپنی نماز پوری کرلو‘‘ بلکہ شروع میں کہہ دیا ہے جب بھی بعد میں کہہ دے تاکہ جو لوگ نماز شروع ہونے کے وقت موجود نہ تھے اور بعد میں جماعت میں شامل ہوئے ہیں انہیں بھی معلوم ہوجائے ۔ کیونکہ صحتِ اقتدا کیلئے شرط ہے کہ مقتدی کو امام کا مقیم یا مسافر ہونا معلوم ہو ۔ خواہ نماز شروع کرتے وقت معلوم ہو ، چاہے بعد میںمعلوم ہو ۔ ( درمختار، بہار شریعت ، حصہ ۴ ، ص ۸۲)