پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا
کلام : استاذِ زمن علامہ حسن رضا بریلوی 

❤️

پوچھتے ہیں لوگ کیوں مضطر تیرا دل ہو گیا
کچھ تمہیں معلوم ہے کس پر یہ مائل ہو گیا

❤️

خوش نہ ہوں ٹکڑے اگر آئینۂ دل ہو گیا
اُن کی یکتائی کا دعوی بھی تو باطل ہو گیا

❤️

آنکھ سے دیکھا ہو تو ناصح کسی کا نام لوں
کیا خبر کس کے لیے مضطر مرا دل ہو گیا

❤️

کیا تیری تیغ اَدا ہے موجۂ آبِ حیات
پڑگیا زندوں میں وہ تو جس کا قاتل ہو گیا

❤️

حُسنِ لیلیٰ کو غرض پردہ نشینی سے نہ تھی
قیس ہی کا بختِ بد در پردہ محمل ہو گیا

❤️

دل دُکھانا کیا کہ اب ہے قتل بھی واجب مرا
یہ گنہ کیا کم ہے اُن پر قلب مائل ہو گیا

❤️

نرم ہو کر اپنے پہلو میں جگہ دینے لگا
پاؤں جس پتھر پر اُس نے رکھ دیا دل ہو گیا

❤️

سخت جانی نے نہ پوری ہونے دی اُمید قتل
گِر گئی تلوار، شل بازوے قاتل ہو گیا

❤️

غیر دشمن اپنے بیگانے زمانہ بر خلاف
دل لگانے کا جو حاصل ہے وہ حاصل ہو گیا

❤️

خود لگانا تاک کر دل پر مرے تیر نظر
خود ہی کہنا بیٹھے بیٹھے کیوں یہ بسمل ہو گیا

❤️

حُسن عالم سوز کا پردے میں رہنا تھا محال
دیکھ لو جلوہ تمہارا شمع محفل ہوگیا

❤️

آئنے دیکھ اپنا منہ، حد سے قدم آگے نہ ڈال
تو بھی اُن کے سامنے آنے کے قابل ہو گیا

❤️

سخت جانوں سے اجل پھرتی ہے کترائی ہوئی
ہم نے یہ صدمے سہے مرنا بھی مشکل ہو گیا

❤️

ناز اپنے دیکھیے انداز اپنے دیکھیے
کیا کہوں قابو سے باہر کیوں مرا دل ہو گیا

❤️

ایک جلوے نے ترے بدلی ہیں کیا کیا صورتیں
دل کا آئینہ ہوا آئینہ کا دل ہو گیا

❤️

کیا خبر اُس کو کہ وہ ناوک فگن ہے مستِ حُسن
چھد رہا کس کا کلیجہ کون بسمل ہو گیا

❤️

پھر میں کہہ دوں گا جلا کیوں صورتِ پروانہ دل
یہ بتا دے پہلے تو کیوں شمع محفل ہو گیا

❤️

اس قدر قولِ منجم سے پریشاں کیوں ہوئے
مدتیں گزریں حسنؔ یہ علم باطل ہو گیا

❤️