اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ(۴۰)

وہ جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں اور ان کے مقابل تکبر کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے (ف۶۷) اور نہ وہ جنّت میں داخل ہوں جب تک سوئی کے ناکے اونٹ نہ داخل ہو (ف۶۸) اور مجرموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں(ف۶۹)

(ف67)

نہ ان کے اعمال کے لئے نہ ان کی ارواح کے لئے کیونکہ ان کے اعمال و ارواح دونوں خبیث ہیں ۔ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ کُفّار کی ارواح کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے اور مؤمنین کی ارواح کے لئے کھولے جاتے ہیں ۔ ابنِ جُرَیْج نے کہا کہ آسمان کے دروازے نہ کافِروں کے اعمال کے لئے کھولے جائیں نہ ارواح کے لئے یعنی نہ زندگی میں ان کا عمل ہی آسمان پر جا سکتا ہے نہ بعدِ موت روح ۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ آسمان کے دروازے نہ کھولے جانے کے یہ معنٰی ہیں کہ وہ خیر و برکت اور رحمت کے نُزول سے محروم رہتے ہیں ۔

(ف68)

اور یہ مَحال ، تو کُفّارکا جنّت میں داخل ہونا مَحال کیونکہ مَحال پر جو موقوف ہو وہ مَحال ہوتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ کُفّار کا جنّت سے مَحروم رہنا قطعی ہے ۔

(ف69)

مُجرِمین سے یہاں کُفّار مراد ہیں کیونکہ اوپر ان کی صفت میں آیاتِ الٰہیّہ کی تکذیب اور ان سے تکبُّر کرنے کا بیان ہو چکا ہے ۔

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍؕ-وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ(۴۱)

اُنہیں آگ ہی بچھونا اور آگ ہی اوڑھنا (ف۷۰) اور ظالموں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں

(ف70)

یعنی اوپر نیچے ہر طرف سے آ گ انہیں گھیرے ہوئے ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ٘ -اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۴۲(

اور وہ جو ایمان لائے اور طاقت بھر اچھے کام کیے ہم کسی پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں رکھتے وہ جنت والے ہیں انہیں اس میں ہمیشہ رہنا

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُۚ-وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا- وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُۚ-لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّؕ-وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۴۳)

اور ہم نے ان کے سینوں میں سے کینے کھینچ لیے (ف۷۱) ان کے نیچے نہریں بہیں گی اور کہیں گے (ف۷۲) سب خوبیاں اللہ کو جس نے ہمیں اس کی راہ دکھائی(ف۷۳) اور ہم راہ نہ پاتے اگر اللہ نہ دکھاتا بے شک ہمارے رب کے رسول حق لائے (ف۷۴) اور ندا ہوئی کہ یہ جنت تمہیں میراث ملی (ف۷۵) صِلہ تمہارے اعمال کا

(ف71)

جو دنیا میں ان کے درمیان تھے اور طبیعتیں صاف کر دی گئیں اور ان میں آپس میں نہ باقی رہی مگر مَحبت و مَودَّت ۔ حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ ہم اہلِ بدر کے حق میں نازِل ہوا اور یہ بھی آپ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اور طلحہ او زبیر ان میں سے ہوں جن کے حق میں اللہ تعالٰی نے ” وَنَزَعْنَا مَافِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنْ غِلٍّ” فرمایا ۔ حضرت علی مرتضٰی کے اس ارشاد نے رَفض کی بَیخ و بنیاد کا قَلع قَمع کر دیا ۔

(ف72)

مؤمنین جنّت میں داخل ہوتے وقت ۔

(ف73)

اور ہمیں ایسے عمل کی توفیق دی جس کا یہ اجر و ثواب ہے اور ہم پر فضل و رحمت فرمائی اور اپنے کرم سے عذابِ جہنَّم سے محفوظ کیا ۔

(ف74)

اور جو انہوں نے ہمیں دنیا میں ثواب کی خبریں دیں وہ سب ہم نے عِیاں دیکھ لیں ، ان کی ہدایت ہمارے لئے کمال لطف و کرم تھا ۔

(ف75)

مسلم شریف کی حدیث میں ہے جب جنّتی جنّت میں داخل ہوں گے ، ایک نِدا کرنے والا پکارے گا تمہارے لئے زندگانی ہے ، کبھی نہ مرو گے تمہارے لئے تندرستی ہے ، کبھی بیمار نہ ہوگے تمہارے لئے عیش ہے ، کبھی تنگ حال نہ ہوگے ۔ جنّت کو میراث فرمایا گیا اس میں اشارہ ہے کہ وہ مَحض اللہ کے فضل سے حاصل ہوئی ۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّاؕ-قَالُوْا نَعَمْۚ-فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ(۴۴)

اور جنت والوں نے دوزخ والوں کو پکارا کہ ہمیں تو مل گیا جو سچا وعدہ ہم سے ہمارے ر ب نے کیا تھا (ف۷۶) تو کیا تم نے بھی پایا جو تمہارے رب نے (ف۷۷) سچا وعدہ تمہیں دیا تھا بولے ہاں اور بیچ میں منادی نے پکار دیا کہ اللہ کی لعنت ظالموں پر

(ف76)

اور رسولوں نے فرمایا تھا کہ ایمان و طاعت پر اجر و ثواب پاؤ گے ۔

(ف77)

کُفر و نافرمانی پر عذاب کا ۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًاۚ-وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ(۴۵)

جو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں(ف۷۸) اور اسے کجی چاہتے ہیں(ف۷۹) اور آخرت کا انکار رکھتے ہیں

(ف78)

اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں ۔

(ف79)

یعنی یہ چاہتے ہیں کہ دینِ الٰہی کو بدل دیں اور جو طریقہ اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے لئے مقرر فرمایا ہے اس میں تغیّر ڈال دیں ۔ (خازن)

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌۚ-وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْۚ-وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ- لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ(۴۶)

اور جنت و دوزخ کے بیچ میں ایک پردہ ہے (ف۸۰) اور اعراف پر کچھ مرد ہوں گے(ف۸۱) کہ دونوں فریق کو ان کی پیشانیوں سے پہچانیں گے(ف۸۲) اور وہ جنتیوں کو پکاریں گے کہ سلام تم پر یہ (ف۸۳) جنت میں نہ گئے اور اس کی طَمَع رکھتے ہیں

(ف80)

جس کو اَعراف کہتے ہیں ۔

(ف81)

یہ کس طبقہ کے ہوں گے اس میں بہت مختلف اقوال ہیں ۔ ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں وہ اَعراف پر ٹھہرے رہیں گے جب اہلِ جنّت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کریں گے اور دوزخیوں کی طرف دیکھیں گے تو کہیں گے یاربّ ہمیں ظالِم قوم کے ساتھ نہ کر ، آخر کار جنّت میں داخل کئے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ جِہاد میں شہید ہوئے مگر ان کے والدین ان سے ناراض تھے وہ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں گے ۔ ایک قول یہ ہے کہ جو لوگ ایسے ہیں کہ ان کے والدین میں سے ایک ان سے راضی ہو ایک ناراض وہ اعراف میں رکھے جائیں گے ۔ ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ اَعراف کا مرتبہ اہلِ جنّت سے کم ہے ۔ مجاہد کا قول یہ ہے اَعراف میں صُلَحاء ، فُقَراء ، عُلَماء ہوں گے اور ان کا وہاں قیام اس لئے ہوگا کہ دوسرے ان کے فضل و شرف کو دیکھیں اور ایک قول یہ ہے کہ اَعراف میں اَنبیاء ہوں گے اور وہ اس مکانِ عالی میں تمام اہلِ قیامت پر مُمتاز کئے جائیں گے اور انکی فضیلت اور رتبۂ عالیہ کا اظہار کیا جائے گا تاکہ جنّتی اور دوزخی ان کو دیکھیں اور وہ ان سب کے احوال اور ثواب و عذاب کے مقدار و احوال کا معائنہ کریں ۔ ان قولوں پر اصحابِ اَعراف جنّتیوں میں سے افضل لوگ ہوں گے کیونکہ وہ باقیوں سے مرتبہ میں اعلٰی ہیں ۔ ان تمام اقوال میں کچھ تناقُض نہیں ہے ا س لئے کہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر طبقہ کے لوگ اَعراف میں ٹھہرائے جائیں اور ہر ایک کے ٹھہرانے کی حکمت جُداگانہ ہو ۔

(ف82)

دونوں فریق سے جنّتی اور دوزخی مراد ہیں ، جنّتیوں کے چہرے سفید اور تر و تازہ ہوں گے اور دوزخیوں کے چہرے سِیاہ اور آنکھیں نیلی ، یہی ان کی علامتیں ہیں ۔

(ف83)

اَعراف والے ابھی تک ۔

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِۙ-قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠(۴۷)

اور جب ان کی (ف۸۴) آنکھیں دوزخیوں کی طرف پھریں گی کہیں گے اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے ساتھ نہ کر

(ف84)

اَعراف والوں کی ۔