حدیث نمبر :704

روایت ہے حضرت سائب ابن خلاد سے وہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک ہیں ۱؎ فرمایا ایک شخص نے قوم کی امامت کی،قبلے کی طرف تھوک دیا حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فراغت پراس کی قوم سے فرمایا کہ آئیندہ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۲؎ اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی لوگوں نے روک دیا اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے آگاہ کیا،اس نے یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا فرمایا ہاں۔مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ تو نے اﷲ رسول کو ستایا۳؎(ابوداؤد)

شرح

۱؎ چونکہ ان کی صحابیت میں اختلا ف ہے،اوریہ کچھ غیرمشہور بھی ہیں،اس لےی مصنف نے یہ تشریح کردی۔آپ کی کنیت ابو سہل ہے،مدنی ہیں،زمانۂ فاروقی میں یمن کے حاکم رہے۔

۲؎ کیونکہ یہ کعبہ کا بے ادب ہے اس لےچ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے خطاب بھی نہ کیا کہ وہ خطاب کے لائق ہی نہ رہا۔جب کہ کعبہ کا بے ادب امامت کے لائق نہیں توحضورصلی اللہ علیہ وسلم کابے ادب اور آپ کی شان میں بکواس کرنے والا امامت کے لائق کیسے ہوسکتاہے۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بلاتحقیق ہرفاسق وبے ادب کو امام بنالیتے ہیں۔خیال رہے کہ یہ امام صحابی تھے،مگراتفاقًا ان سے یہ خطا ہوگئی پھرتوبہ کرلی کیونکہ کوئی صحابی فاسق نہیں،جب اتفاقًا خطا پر امامت سے معزول کردیا گیا تو جان بوجھ کر بے ادبی کرنے والا ضرورمعزول کردیاجائے گا۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ہر نیک و فاسق کے پیچھے نماز پڑھ لو اس موقعہ کے لےڑ ہے جب وہ امام بن گیا ہو اورہم اسے معزول کرنے پرقادر نہ ہوں۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قوم وسلطان امام کو امامت سے علیحدہ کرسکتے ہیں۔

۳؎ کیونکہ تیرا یہ کام میری ایذا کا سبب ہے اورمیری ایذاء رب کی ایذا کا باعث۔اس کا یہی مطلب ہے کیونکہ اس نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو دکھ دینے کے واسطے یہ کام نہ کیا تھا،ورنہ یہ عمل کفر اور ارتداد ہوتا اور اسے دوبارہ مسلمان کیا جاتا۔ظاہر یہ ہے کہ اس شخص نے توبہ کرلی ہوگی اور دوبارہ امام بنادیا گیا ہوگا۔