حدیث نمبر :705

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں تشریف لانے میں تاخیرکی قریب تھا کہ ہم سورج دیکھ لیں ۱؎ آپ تیزی سے تشریف لائے نماز کی تکبیرکہی گئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں اختصار کیا۲؎ جب سلام پھیرا تو آواز سے فرمایا اپنی جگہ بیٹھے رہو جیسے ہو،پھر ہماری طرف توجہ فرمائی پھر فرمایا میں تمہیں بتاتا ہوں کہ آج صبح مجھے تم سے کس چیز نے روکا ۳؎ میں رات میں اٹھا وضو کیا جس قدرمقدر میں تھا نماز پڑھی نماز ہی میں مجھے اونگھ آگئی حتی کہ نیند غالب ہوگئی ۴؎ اچانک میں اپنے رب تعالٰی کے پاس اچھی صورت میں تھا۵؎ فرمایا اے محمد ۶؎ میں نے عرض کیا مولا میں حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں میں نے کہا مجھے نہیں خبر ۷؎ یہ تین بار فرمایا فرماتے ہیں میں نے رب کو دیکھا کہ اس نے اپنا دست رحمت میرے کندھوں کے بیچ رکھا حتّٰی کہ میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں پائی ۸؎ تو مجھے ہر چیز ظاہر ہوگئی اور میں نے پہچان لی۹؎ پھرفرمایا اے محمد میں نے فرمایا یارب حاضر ہوں فرمایا مقرب فرشتے کس میں جھگڑتے ہیں۱۰؎ میں نے کہا کَفاروں میں فرمایا وہ کَفارے کیا ہیں میں نے عرض کیا جماعتوں کی طرف پیدل جانا،نمازوں کے بعدمسجدوں میں بیٹھنا،ناگوارحالتوں میں پورا وضوکرنا ۱۱؎ فرمایا پھر کاہے میں جھگڑتے ہیں میں نے عرض کیا درجوں میں فرمایا وہ کیا چیز ہیں میں نے کہا کھاناکھلانا،نرمی سے گفتگوکرنا اورجب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھنا۱۲؎ فرمایا کچھ مانگ لوفرماتے ہیں میں نے عرض کیا الٰہی میں تجھ سے نیکیاں کرنا برائیاں چھوڑنا اور مسکینوں سے محبت مانگتا ہوں اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور جب تو کسی قوم میں فتنہ بھیجنا چاہے تو مجھے بغیر فتنے میں مبتلا کئے وفات دیدے اور میں تجھ سے تیری محبت اور جو تجھ سے محبت کریں ان کی محبت اور اس عمل کی محبت جو مجھے تیری محبت سے قریب کردے مانگتا ہوں ۱۳؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب برحق ہے یہ دعائیں یاد کرلو پھرسکھاؤ۱۴؎ (احمدوترمذی)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے میں نے محمد ابن اسماعیل سے پوچھافرمایا یہ حدیث صحیح ہے۔

شرح

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام نہ نماز کے لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو جگاتے تھے نہ حضور کے بغیرنماز پڑھتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ ان کے ساتھ کی قضاء ان کے بغیر اداسے افضل ہے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ حضور کا سونا رب کی طرف سے ہے اور آپ کی خواب وحی اورنماز کے وقت بیدار نہ ہونے میں رب کی لاکھوں حکمتیں ہیں،آپ کی نیند تمام عالم کی بیداریوں سے کروڑوں گنا افضل ہے۔

۲؎ یعنی وقت کی تنگی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا۔معلوم ہوا کہ ایسے موقعہ پرنماز کے لےھ بھاگ کر آنا جائز ہے۔رکوع پانے کے لےن بھاگنا منع لہذا یہ حدیث ممانعت کے خلاف نہیں،نیز تنگ وقت میں فجرمیں بھی قرأت مختصر کرنی چاہیئے۔

۳؎ سبحان اﷲ! صحابہ کا خیال بالکل درست نکلا حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو غفلت نماز سے نہیں روکتی بلکہ رب کی طرف توجہ۔

۴؎ اورہم نماز تہجد ختم کرکے سوگئے،یہ مطلب نہیں کہ نماز میں سوگئے۔

۵؎ اس کی شرح پہلے گزر گئی۔خیال رہے کہ یا یہ وہی واقعہ ہے جو پہلے مذکور ہوا یا وہ معراج کا واقعہ تھا اور یہ خواب کا۔

۶؎ خیال رہے کہ رب نے قرآن شریف میں حضور کو نام لے کر کہیں نہ پکارا ہر جگہ القاب ہی سے پکارا تاکہ قرآن پڑھنے والے اس طرح پکارنے کی جرأت نہ کریں۔یہ رازونیاز کا موقعہ تھا رب نے اظہار کرم کے لےھ نام سے پکارا۔

۷؎ کیونکہ اب تک تو نے مجھے اس کا علم نہیں دیا۔اس کی شرح ابھی پہلی فصل میں گزر چکی۔

۸؎ ہاتھ اور پوروں کے وہ معنی ہیں جو رب کی شان کے لائق ہیں،یعنی رحمت،قدرت توجہ کا ہاتھ کہا جاتا ہے فلاں کام میں حکومت کا ہاتھ ہے یعنی اس کا کرم و توجہ ہے۔ٹھنڈک پانے کا مطلب یہ ہے کہ رحمت کا اثر دل پرپہنچا۔

۹؎ اس کی شرح گزر چکی،یعنی علوی اورسفلی عالم غیب وشہادت کا ہرذرہ مجھ پرفقط منکشف ہی نہ ہوا بلکہ میں نے ہر ایک کو الگ الگ پہچان لیا۔علم اور معرفت میں بڑا فرق ہے،مجمع پرنظرڈال کر جان لینا کہ یہاں دو لاکھ آدمی بیٹھے ہیں یہ علم ہے اور ان میں سے ہر ایک کے سارے حالات معلوم کرلینا معرفت۔اس سے چندمسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا علم کلّی سارے عالم کو گھیرے ہوئے ہے۔دوسرے یہ کہ حضور کا یہ علم کسبی نہیں بلکہ لدنّی ہے۔تیسرے یہ کہ آپ کا علم وہدایت قرآن پر موقوف نہیں،آپ نزول قرآن سے پہلے ہی عالم و عامل تھے۔چوتھے یہ کہ تجلی اورہے بیان کچھ اور۔یہاں حضورکو ہرچیز دکھائی گئی اور قرآن میں بتائی گئی اسی لئے یہاں تجلی ارشاد ہوا اور وہاں فرمایا گیا”تِبْیٰنًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ”۔لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب ساری چیزیں سرکارکو آج دکھادی گئیں تو نزول قران سے کیا فائدہ۔

۱۰؎ پہلی بار یہ سوال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو علم یعنی آمادہ کرنے پر تھا اور اب یہ سوال سکھا کر امتحان لینے کے لےل،تاکہ معلوم ہو کہ محبوب سیکھ کر بھول نہ گئے،وہ سکھانے والا کامل اور یہ سیکھنے والا بھی کامل۔خیال رہے کہ بڑے شاگرد کو استاد ہی پڑھایا کرتے ہیں۔

۱۱؎ ان سب کی شرحیں ابھی گزر چکیں۔اس سے معلوم ہورہا ہے کہ مسجدکو پیدل چلنا بہتر،یوں تو وضو ہمیشہ ہی پورا کرنا چاہیے مگر سردیوں میں خصوصًا جب کہ پانی بھی ٹھنڈا ہوصحیح وضوکرنا بہت ثواب ہے۔

۱۲؎ اس کی شرح بھی گزرگئی۔بعض بزرگوں کے آستانوں پرجولنگر ہوتے ہیں جہاں سے ہمیشہ لوگوں کو کھانا ملتا ہے،اس کی اصل یہ حدیث ہے۔مسلمانوں سے نرم کلام اورکفارومنافقین سے سخت کلام ثواب ہے،رب فرماتا ہے:”وَاغْلُظْ عَلَیۡہِمْ”۔لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں۔

۱۳؎ ان تمام کی شرحیں ابھی گزر گئیں،اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ دیتا رب ہی ہے مگر وہ چاہتاہے کہ بندہ مجھ سے مانگے تو دوں،یہ مانگنا ہماری بندگی کی نشانی ہے۔اس لئے فرمایا کہ سَلْ محبوب کچھ مانگو۔دوسرے یہ کہ ہم تو گناہ ہی کریں گے رب کی توفیق ہو تو نیکی کرسکتے ہیں،پتھرخودنیچے گرے گا کوئی پھینکے تو اوپر جائے گا۔خیال رہے کہ یہ سب دعائیں ہمیں سکھانے کے لےم ہیں ورنہ حضور کو یہ ساری نعمتیں پہلے ہی سے حاصل ہیں،نیز جو اﷲ سے محبت کرنا چاہے وہ اس کے پیاروں سے محبت کرے۔

۱۴؎ یعنی خود بھی سیکھو اوروں کوبھی سکھاؤ کیونکہ یہ سب خوابیں تمہاری خاطر ہیں۔