حدیث نمبر :701

روایت ہے حضرت سائب ابن یزیدسے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں سورہا تھاکسی نے مجھے کنکری ماری میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر فاروق تھے ۲؎ فرمایا جاؤ ان دونوں کو میرے پاس لاؤ میں ان دونوں کو لے کر آیا فرمایا تم لوگ کون ہو یا کہاں سے آئے ہو وہ بولے ہم طائف والے ہیں فرمایا اگر تم مدینہ والوں میں سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا ۳؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں اونچی کرتے ہو۴؎(بخاری)

شرح

۱؎ آپ بہت نوعمرصحابی ہیں،اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اس وقت آپ کی عمر سات سال تھی۔

۲؎ حضرت سائب کا مسجدنبوی میں سونا یا اس لےۃ تھا کہ آپ مسافر تھےیا نیت اعتکاف کرلیتے تھےیا آپ جائز سمجھتے تھے۔بعض علماءمسجد میں سونے کو مکروہ کہتے ہیں،بعض بلاکراہت جائز،حضرت فاروق اعظم نے انہیں آواز دے کر نہ جگایا مسجد پاک کا احترام کرتے ہوئے۔

۳؎ مسجدنبوی میں بلند آواز سے باتیں کرنے پر کیونکہ مدینہ والے یہاں کے آداب سے واقف ہیں تم لوگ پردیسی ہو مسائل سے پورے واقف نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ حاکم گناہ صغیرہ پربھی تعزیرًا سزا دے سکتا ہے،جہاں علم کی روشنی کم پہنچتی ہویابالکل نہ پہنچی ہو وہاں کے لوگوں کو بے علمی پرمعذور رکھا جاسکتا ہے،ورنہ بے علمی عذرنہیں۔خیال رہے کہ طائف حجاز کا مشہورشہر ہے،مکہ معظمہ سے تین منزل دورسیدنا عبداﷲ ابن عباس کا مزار پرنوار وہیں ہے۔فقیرنے زیارت کی ہے۔

۴؎ مرقاۃ نے فرمایا کہ مسجدنبوی کی حرمت دوسری مسجدوں سے زیادہ ہے کہ حضور اپنی قبر شریف میں زندہ ہیں،وہاں حضور کا دربار ہے،اس کا ادب چاہیئے۔وہ حضرات دنیوی باتیں اونچی آواز سے کررہے تھے،ورنہ مسجد میں درس و تدریس،ذکر اﷲ،نعت شریف وغیرہ بلند آواز سے کرسکتے ہیں،جب کہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو۔