أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰمُوۡسٰٓى اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِىَ وَاِمَّاۤ اَنۡ نَّكُوۡنَ نَحۡنُ الۡمُلۡقِيۡنَ ۞

ترجمہ:

جادوگروں نے کہا اے موسیٰ ! آیا آپ پہلے (عصا) ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں

تفسیر:

115 ۔۔ تا۔۔ 119:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” جادوگروں نے کہا اے موسیٰ ! آیا آپ پہلے (عصا) ڈالیں گے یا ہم پہلے ڈالیں۔ موسیٰ نے کہا تم ڈالو، جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان کو خوف زدہ کردیا اور انہوں نے بہت بڑا جادو پیش کیا۔ اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو وہ فوراً ان کے جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا۔ سو حق کا غلبہ ثابت ہوگیا اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کا بطلان ظاہر ہوگیا۔ پس فرعون اور اس کے درباری مغلوب ہوگئے اور ذلیل و خوار ہو کر واپس ہوئے “

حضرت موسیٰ اور فرعون کے جادوگروں کا مقابلہ : 

جادوگروں نے حضرت موسیٰ سے کہا اے موسیٰ ! آیا آپ پہلے عصا ڈالیں گے یا ہم اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پہلے ڈالیں، انہوں نے اپنے اس سوال میں حسن ادب کو ملحوظ رکھا اور اپنے ذکر سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا، اور اسی ادب کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان لانے کی توفیق دی۔ 

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا تم ڈالو، اس پر یہ اعتراض ہے کہ ان کا لاٹھیاں ڈالنا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کے مقابلہ میں معارضہ کرنا تھا، اور معجزہ کا معارضہ کرنا کفر ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کے مقابلہ میں معارضہ کرنا تھا، اور معجزہ کا معارضہ کرنا کفر ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کفر کرنے کا حکم کیونکر دیا جب کہ کفر کا حکم دینا بھی کفر ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کا ثبوت اور غلبہ اس پر موقوف تھا کہ وہ اپنی لاٹھیاں ڈالیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعصا ان لاٹھیوں کو نگل لے تو حضرت موسیٰ نے ان کو لاٹھیاں ڈالنے کا حکم اس حیثیت سے دیا تھا کہ ان کے معجزہ کا غلبہ ثابت ہوا اور وہ انجام کار ان جادوگروں کے ایمان لانے کا ذریعہ ہو۔

جب جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں ڈالیں تو انہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان کو خوفزدہ کردیا، اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوت مخیلہ سے لوگوں کے دماغوں پر تاثیر کی اور لوگوں کی آنکھوں پر سحر کیا، سو ان کو وہ لاٹھیاں اور سانپ دوڑتے ہوئے معلوم ہونے لگے، ایک قول یہ ہے کہ ان لکڑیوں اور رسیوں میں پارہ بھرا ہوا تھا سورج کی تپش سے وہ پارہ حرکت کرنے لگا جس سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں دوڑتی ہوئی معلوم ہوئیں۔ اور لوگ ان سے خوفزدہ ہوگئے۔

اور ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ تم اپنا عصا ڈال دو تو وہ فوراً ان کے جھوٹے طلسم کو نگلنے لگا۔ 

مفسرین نے کہا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن گیا اور جب اس نے اپنا منہ کھولا تو اس کے دو جبڑوں کے درمیان اسی ذراع (ایک سو بیس فٹ) کا فاصلہ تھا۔ اس نے ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل لیا، اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو پکڑا تو وہ پہلے کی طرح لاٹھی بن گیا، اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عظیم الشان معجزہ تھا، کیونکہ وہ بہت بڑا اژدہا جو ہزاروں لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل چکا تھا آن کی آن میں پہلے کی طرح متوسط لاٹھی بن گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے لاٹھیوں اور رسیوں کو معدوم کردیا یا ان کو ریزہ ریزہ کرکے ہوا میں اڑا دیا اور کسی کو ان کے ریزہ ریزہ ہونے اور ہوا میں تحلیل ہونے کا پتہ نہ چل سکا اور یہ فعل صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی قدرت سے ظہور میں آیا، کیونکہ کسی چیز کو موجود کرنا یا معدوم کرنا، اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کام صرف لاٹھی کو پھینکنا اور اس کو پکڑنا تھا اور اس لاٹھی میں یہ صفت اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ تھی اور لاٹھی کو پھینکنا اور پکڑنا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے اذن کے تابع تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شان اور خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر ایسے عظیم الشان معجزہ کو ظاہر فرمایا۔ تاہم بعض معجزات انبیاء (علیہم السلام) کی قدرت سے بھی ظہور میں آتے ہیں لیکن وہ قدرت بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہوتی ہے۔ اور در حقیقت وہی تمام معجزات کا خالق ہے۔ سو حق کا غلبہ ثابت ہوگیا اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا اس کا بطلان ظاہر ہوگیا۔ 

حق کے غلبہ کے ظہور کا سبب یہ ہے کہ جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ نے جو کچھ کیا اگر وہ جادو ہوتا تو ہماری لاٹھیاں اور رسیاں گم نہ ہوتیں اور جب وہ گم ہوگئیں تو معلوم ہوا کہ یہ کام اللہ سبحانہ کی خلق اور اس کی تقدیر سے ہوا ہے اس میں جادو کا کوئی دخل نہیں تھا، اور اسی وجہ سے معجزہ، جادو سے متمیز ہوگیا۔ 

” پس فرعون اور اس کے درباری مغلوب ہوگئے اور ذلیل و خوار ہو کر واپس ہوئے “۔ 

جب فرعون کے جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا نگل گیا اور بغیر کسی شعبدہ، حیلہ اور شبہ کے وہ تمام لاٹھیاں غائب ہوگئیں تو فرعون اور اس کے درباریوں نے جس طمطراق سے ان جادوگروں کو بلایا تھا، وہ رائگاں گیا اور ان کے غرور کا سر نیچا ہوگیا تو وہ انتہائی ذلت کے ساتھ پسپا ہوئے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 115