حدیث نمبر :702

روایت ہے حضرت مالک سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمرنے مسجد کے گوشے میں چبوترہ بنایا تھا جسے بطیحاء کہاجاتاتھا ۱؎ اورفرمایا جوباتیں کرنایاشعر پڑھنایاشورکرناچاہے وہ اس چبوترے کی طرف چلا جائے ۲؎(موطا)

شرح

۱؎ کیونکہ اس کا فرش بجری کا تھا۔بطحاءبمعنی کنکریلی زمین۔یہ جگہ مسجد کے خارجی حصّہ میں تھی نہ کہ داخلی حصّہ میں،ورنہ اس کے آداب بھی مسجدجیسے ہوتے۔

۲؎ شعر سے مراد دنیوی اشعار ہیں۔شور سے مرادبھی دنیوی باتیں اونچی آواز سے کرنا ہیں،ورنہ نعت شریف ذکر بالجہر مسجد میں جائزہے۔مسلم شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام ہرنمازفرض کے بعد خوب اونچی آواز سے ذکراﷲ کرتے تھے۔