حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جنت میں ایک ایسی نہرجاری فرما دی ہے جس کا نام ’’اَفْیَحْ‘‘ہے اس کے کنارے لعل و جواہرات کے ہیں۔ ان پرایسی حوریں جلوہ افروز ہیں جن کی خَلعَت زعفران سے ہے۔ وہ ستر ہزار زبانوں میں اللہ کی تسبیح وتقدیس بیان کرتی ہیں اور اعلان کرتی ہیں کہ ہم ان کی خدمت کے لئے ہیں جو نماز فجر با جماعت ادا کرتے ہیں۔ (نزہۃ المجالس ج ۱ ؍ص ۵۱۵)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو ! مذکورہ روایت سے نماز فجر باجماعت ادا کرنے کا انعام آپ نے ملاحظہ فرمالیاہے۔ لہٰذا کوشش کریں خاص طور پر نماز فجر باجماعت ادا کرنے کی۔ کیوں کہ یہ وقت بہت ہی اہم ہے اور زیادہ تر لوگ فجر کی جماعت میں غفلت برتتے ہیں۔ ہمیں چاہئیے کہ فجر کی نماز با جماعت ادا کر کے اللہ کی بارگاہ سے انعام حاصل کریں ۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم۔