(۲) نیت خیر پر اجر

۲ ۔ عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم: نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِنْ عَمَلِہٖ ۔ فتاوی رضویہ ۲/۶۸۰

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمان کی نیت اسکے عمل سے بہتر ہے ۔

]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

بے شک جو علم نیت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے ۔ مثلا ، جب نماز کیلئے مسجد کو چلا اور صرف یہ ہی قصد ہے کہ نماز پڑھونگا تو بیشک اسکایہ چلنا محمود ، ہر قدم پر ایک نیکی لکھیں گے ۔ اور دوسرے پر گناہ محو کریں گے ، مگر عالم نیت اس ایک فعل میں اتنی نیتیں کر سکتا ہے ۔

(۱) اصل مقصود یعنی نماز کو جاتا ہوں ۔

(۲) خانۂ خدا کی زیارت کرونگا ۔

(۳) شعار اسلام ظاہر کرونگا ۔

(۴) داعی الی اللہ کی اجابت کرتا ہوں ۔

(۵) تحیۃ المسجد پڑھنے جاتا ہوں۔

(۶) مسجد سے خس و خاشاک وغیرہ دور کرونگا ۔

(۷) اعتکاف کرنے جاتا ہوں کہ مذہب مفتی بہ پر اعتکاف کیلئے روزہ شرط نہیں ۔ ایک ساعت کا بھی ہو سکتا ہے ، جب سے داخل ہو باہر آنے تک اعتکاف کی نیت کرے ۔ انتظار نماز و ادائے نماز کے ساتھ اعتکاف کا بھی ثواب پائے گا ۔

(۸) امر الہی’’ خُذُوْا زِیَنتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍِ‘‘ (اپنی زینت لو جب مسجد جائو ) کے امتثال کو جاتا ہوں ۔

(۹) جو وہاں علم والا ملے گا اس سے مسائل پوچھونگا ۔ دین کی باتین سیکھونگا ۔

(۱۰) جاہلوں کو مسئلہ بتائونگا ، دین سکھائونگا ۔

(۱۱) جو علم میں میرے برابر ہوگا اس سے علم کی تکرار کرونگا ۔

(۱۲) علماء کی زیارت ۔

(۱۳) نیک مسلمان کا دیدار۔

(۱۴) دوستوں سے ملاقات۔

(۱۵) مسلمانوں سے میل ۔

(۱۶) جو رشتہ دار ملیں گے ان سے بکشادہ پیشانی مل کر صلہ ٔرحمی ۔

(۱۷) اہل اسلام کو سلام ۔

(۱۸) مسلمانوں سے مصافحہ کرونگا ۔

(۱۹) ان کے سلام کا جواب دونگا ۔

(۲۰) نماز باجماعت میں مسلمانوں کی برکتیں حاصل کرونگا ۔

(۲۱) و ( ۲۲) مسجد میں جاتے نکلتے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سلام عرض کرونگا ۔

بسم اللہ و الحمدللّٰہ و السلام علی رسول اللہ ،

(۲۳) و ( ۲۴) دخول وخروج میں حضورو آل حضور و ازواج حضور پر درود بھیجونگا ۔

اللہم صل علی سیدنا محمد و علی اٰل سیدنا محمد و علی أزواج سیدنا محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔

(۲۵) بیمارکی مزاج پرسی کرونگا ۔

(۲۶) اگر کوئی غمی والا ملا تعزیت کرونگا ۔

(۲۷) جس مسلمان کوچھینک آئی اور اس نے ’الحمد للہ ‘ کہا اسے ’یرحمک اللہ‘ کہونگا ۔

(۲۸) و (۲۹) امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرونگا ۔

(۳۰) نمازیوں کو وضو کا پانی دونگا۔

(۳۱) و (۳۲) خود مؤذن ہے ، یا مسجد میں کوئی مؤذن مقر ر نہیں تو نیت کر ے کہ اذان و اقامت کہونگا ۔ اب یہ کہنے نہ پایا یا دوسرے نے کہہ دی تاہم اپنی نیت کا ثواب پا چکا ، فَقَدْ وَقَعَ أجَرُہٗ عَلٰی الّٰلہِ ۔

(۳۳) جو راہ بھولا ہوگا اسے راستہ بتائونگا ۔

(۳۴) اندھے کی دستگیری کرونگا ۔ (۳۵) جنازہ ملا تو نماز پڑھونگا ۔

(۳۶) موقع پایا تو ساتھ دفن تک جائونگا ۔

(۳۷) دو مسلمانوں میں نزاع ہوئی تو حتی الوسع صلح کرائونگا ۔

(۳۸) و (۳۹) مسجد میں جاتے وقت داہنے ، اور نکلتے وقت بائیں پائوں کی تقدیم سے اتباع سنت کرونگا ۔

(۴۰) راہ میں جو لکھا ہو ا کاغذ پائونگا اٹھا کر ادب سے رکھ دونگا۔ الی غیر ذلک من نیات کثیرہ ۔ تو دیکھئے کہ جو ان ارادوں کے ساتھ گھر سے مسجد کو چلا وہ صرف حسنۂ نماز کیلئے نہیں جاتا بلکہ ان چالیس حسنات کیلئے جاتا ہے ۔ تو گویا اس کا یہ چلنا چالیس طرف چلنا ہے ۔ اور ہر قدم چالیس قدم ، پہلے اگر ایک نیکی تھا اب چالیس نیکیاں ہوگا ۔

فتاوی رضویہ قدیم ۳/۶۸۱ ٭ فتاوی رضویہ جدید ۵/۶۷۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ حلیۃ الاولیا ء، ۳/۲۵۵ ٭ المعجم الکبیر للطبرانی ، ۶/۲۲۸

اتحاف السادۃ المتقین ، ۱۰/۱۵ ٭ تاریخ بغداد للخطیب ، ۹/۲۳۷

الفوائد للشوکانی، ۲۵۰ ٭ الاسرار المرفوعہ لعلی القاری ۳۷۵

کشف الخفا للعجلونی ، ۲/۴۳۸ ٭ الدرر المنتشرۃ للسیوطی ، ۱۶۶