أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جادوگر سجدہ میں گرپڑے

تفسیر:

120 ۔۔ تا۔۔ 122:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جادوگر سجدہ میں گرپڑے۔ انہوں نے کہا ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔ جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے “

جادوگروں کے ایمان لانے میں علم کی فضیلت :

امام ابن جریر نے ذکر کیا ہے کہ فرون نے ستر ہزار جادوگر جمع کیے تھے اور انہوں نے ستر ہزار لاٹھیاں اور ستر ہزار رسیاں میدان میں پھینکی تھیں۔ امام ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ وہ لاٹھیاں اور ستر ہزار رسیاں میدان میں پھینکی تھیں امام ابن جوزی نے ذکر کیا ہے کہ وہ لاٹھیاں اور رسیاں ایک مربع میل میں پھیلی ہوئی تھیں۔ امام رازی نے ذکر کیا ہے کہ وہ لاٹھیاں اور رسیاں اتنی تھیں کہ وہ تین سو اونٹوں کا ہار تھیں اور جب ان سب لاٹھیوں اور رسیوں کو حضرت موسیٰ کے عصا نے نگل لیا اور وہ معمول کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ میں تھا تو جادوگروں نے آپس میں کہا یہ چیز جادو سے خارج ہے بلکہ یہ محض اللہ کا فعل ہے اور اس سے انہوں نے استدلال کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے سچے نبی ہیں۔

متکلمین نے کہا یہ آیت فضیلت علم پر بہت قوی دلیل ہے، کیونکہ وہ جادوگر جادو کی حقیقت سے واقف تھے ان کو معلوم تھا کہ جادو کا انتہائی کمال کیا ہے اور اس وجہ سے انہوں نے جان لیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو کچھ پیش کیا ہے وہ جادو کی حقیقت سے خارج ہے، اگر وہ جادو کے علم میں کامل نہ ہوتے تو وہ یہ استدلال نہیں کرسکتے تھے۔ وہ یہ سوچتے کہ شاید یہ ہم سے بڑے جادوگر ہیں، اس لیے یہ اس چیز پر قادر ہیں جس سے ہم عاجز ہیں، لیکن چونکہ وہ جادو کے علم میں کامل تھے اس لیے انہوں نے جان لیا کہ یہ جادو نہیں ہے بلکہ یہ خالق کائنات کی قدرت کا شاہکار ہے۔ پس وہ جادو کے علم میں کامل ہونے کی وجہ سے کفر سے ایمان کی طرف منتقل ہوگئے۔ سوچئے کہ جب جادو کے علم میں کمال کا یہ ثمرہ ہے تو دین اسلام اور شریعت کے علم میں کمال حاصل کرنے کا کیا ثمرہ ہوگا ! 

رب موسیٰ و ہارون کہنے کی وجہ : 

جادوگر پہلے سجدہ میں گرگئے، پھر اس کے بعد کہا : ہم رب العالمین پر ایمان لائے، اس کی کیا وجہ ہے ؟ جب کہ بظاہر پہلے ایمان کا اظہار کرنا چاہیے تھا پھر سجدہ کرنا چاہیے تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جب ان کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ کی معرفت آگئی تو وہ اس نعمت کا شکر ادا کرنے کے لیے بےاختیار سجدہ میں گرگئے اور اللہ کی معرفت، کفر سے ایمان کی طرف منتقل ہونے اور اللہ کے سامنے خضوع اور تذلل کا اظہار کرنے کے لیے بےاختیار سجدہ میں گرگئے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب انسان کو کوئی نعمت ملے تو اس کو بےاختیار سجدہ میں گرجانا چاہیے۔

انہوں نے کہا ہم رب العالمین پر ایمان لائے۔ جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے 

اس جگہ یہ سوال ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون العالمین میں داخل ہیں۔ پھر العالمین کے بعد موسیٰ اور ہارون کا ذکر کیوں فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ جادوگروں کو حضرت اور حضرت ہارون کی وجہ سے ایمان نصیب ہوا تھا اس لیے انہوں نے کہا : ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر وہ صرف یہ کہتے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لائے تو ہوسکتا ہے کہ فرعون یہ کہتا کہ یہ مجھ پر ایمان لائے ہیں کیونکہ وہ بھی رب العالمین ہونے کا دعوی رکھتا تھا، اس لیے انہوں نے کہا : ہم موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں اور تیسری وجہ یہ ہے کہ ہرچند کہ العالمین میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون داخل تھے لیکن ان کی فضیلت کی وجہ سے ان کا علیحدہ ذکر کیا جیسا کہ اس آیت میں ہے : ” وملائکتہ ورسلہ وجبریل ومیکل ” (البقرہ :98) ہرچند کہ ملائکہ میں جبریل اور میکائیل داخل ہیں لیکن ان کی فضیلت کی وجہ سے ان کا علیحدہ ذکر کیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 120