وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ(۴۸)

اور اعراف والے کچھ مردوں کو (ف۸۵) پکاریں گے جنہیں ان کی پیشانی سے پہچانتے ہیں کہیں گے تمہیں کیا کام آیا تمہارا جَتھا اور وہ جو تم غرور کرتے تھے (ف۸۶)

(ف85)

کُفّار میں سے ۔

(ف86)

اور اہلِ اَعراف غریب مسلمانوں کی طرف اشارہ کرکے کُفّار سے کہیں گے ۔

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍؕ-اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ(۴۹)

کیا یہ ہیں وہ لوگ (ف۸۷) جن پر تم قسمیں کھاتے تھے کہ اللہ ان کو اپنی رحمت کچھ نہ کرے گا (ف۸۸) ان سے تو کہا گیا کہ جنت میں جاؤ نہ تم کو اندیشہ نہ کچھ غم

(ف87)

جن کو تم دنیا میں حقیر سمجھتے تھے اور ۔

(ف88)

اب دیکھ لو کہ جنّت کے دائمی عیش و راحت میں کس عزّت و احترام کے ساتھ ہیں ۔

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُؕ-قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ(۵۰)

اور دوزخی بہشتیوں کو پکاریں گے کہ ہمیں اپنے پانی کا کچھ فیض دو یا اس کھانے کا جو اللہ نے تمہیں دیا (ف۸۹) کہیں گے بے شک اللہ نے ان دونوں کو کافرو ں پر حرام کیا ہے

(ف89)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب اَعراف والے جنّت میں چلے جائیں گے تو دوزخیوں کو بھی طمع دامن گیر ہوگی اور وہ عرض کریں گے یاربّ جنّت میں ہمارے رشتہ دار ہیں ، اجازت فرما کہ ہم انہیں دیکھیں ان سے بات کریں ، اجازت دی جائے گی تو وہ اپنے رشتہ داروں کو جنّت کی نعمتوں میں دیکھیں گے اور پہچانیں گے لیکن اہلِ جنّت ان دوزخی رشتہ داروں کو نہ پہچانیں گے کیونکہ دوزخیوں کے منہ کالے ہوں گے صورتیں بگڑ گئی ہوں گی تو و ہ جنّتیوں کو نام لے لے کر پکاریں گے ۔ کوئی اپنے باپ کو پکارے گا کوئی بھائی کو اورکہے گا میں جل گیا مجھ پر پانی ڈالو اور تمہیں اللہ نے دیا ہے کھانے کو دو ، اس پر اہلِ جنّت ۔

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۚ-فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَاۙ-وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ(۵۱)

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنالیا (ف۹۰) اور دنیا کی زِیست نے انہیں فریب دیا (ف۹۱) تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے جیسا انہوں نے اس دن کے ملنے کا خیال چھوڑا تھا اور جیسا ہماری آیتوں سے انکار کرتے تھے

(ف90)

کہ حلال و حرام میں اپنی ہَوائے نفس کے تابع ہوئے جب ایمان کی طرف انہیں دعوت دی گئی مَسخَرگی کرنے لگے ۔

(ف91)

اس کی لذّتوں میں آخرت کو بھول گئے ۔

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۵۲)

اور بے شک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے (ف۹۲) جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مُفَصَّل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لیے

(ف92)

قرآن شریف ۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗؕ-یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّۚ-فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُؕ-قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠(۵۳)

کاہے کی راہ دیکھتے ہیں مگر اس کی کہ اس کتاب کا کہا ہوا انجام سامنے آئے جس دن اس کا بتایا انجام واقع ہوگا(ف۹۳) بول اٹھیں گے وہ جو اسے پہلے سے بھلائے بیٹھے تھے(ف۹۴) کہ بے شک ہمارے رب کے رسول حق لائے تھے تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی جو ہماری شفاعت کریں یا ہم واپس بھیجے جائیں کہ پہلے کاموں کے خلاف کام کریں (ف۹۵) بے شک انہوں نے اپنی جانیں نقصان میں ڈالیں اور ان سے کھوئے گئے جو بہتان اٹھاتے تھے (ف۹۶)

(ف93)

اور وہ روزِ قیامت ہے ۔

(ف94)

نہ اس پر ایمان لاتے تھے نہ اس کے مطابق عمل کرتے تھے ۔

(ف95)

یعنی بجائے کُفر کے ایمان لائیں اور بجائے معصیت اور نافرمانی کے طاعت اور فرمانبرداری اختیار کریں مگر نہ انہیں شَفاعت مُیسّر آئے گی نہ دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے ۔

(ف96)

اور جھوٹ بکتے تھے کہ بُت خدا کے شریک ہیں اور اپنے پُجاریوں کی شَفاعت کریں گے ، اب آخرت میں انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کے یہ دعوے جھوٹے تھے ۔