اے قادریو! ایک نظر ادھر بھی

از: افتخار الحسن رضوی

اگرچہ تنقید ہر جگہ مناسب نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات ایک کم عقل شخص کا تنقید و طعن والا بیان یا اعتراض بھی تحقیق کی نئی راہیں کھول دیتا ہے۔ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی شخصیت پر اٹھنے والے سوالات و اعتراضات کی ایک بڑی وجہ خود اہل سنت کے اعمال و افعال اور علمی و تحقیقی میدان میں کمزوریاں ہیں۔ مثلاً کسی شخص نے بہجۃ الاسرار پر اعتراض کیا یا اس کی صحت پر سوال اٹھائے تو اس کا جواب مغلظات بکنا نہیں ہے، اسے گستاخ و مرتد یا خارج از اسلام قرار دینا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ آپ کا یہ رویہ سائل و معترض کے شکوک کو یقین میں تبدیل کر دیتا ہے اور یوں اس کی فکر پختہ ہو جاتی ہے کہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ حقیقت کی دنیا میں exist نہیں کرتے بلکہ وہ ایک افسانوی و تصوراتی تخیل کا نام ہے۔ فقط کرامات بیان کرتے ہوئے ہر سال ان کا عرس گزار دینا اور مجالس عرس میں سرکار غوث پاک کی “علمیت” اور علماء کی صف میں ان کا درجہ و مرتبہ بیان نہ کرنا اہل سنت کی فکر و نظریات کو کمزور کرتا ہے۔ مزید ظلم یہ کہ ہند و پاک میں عوامی اذہان میں یہ فکر رچ بس چکی ہے کہ “غوث پاک” ایک ان دیکھی، غیر مرئی اور انسانی صفوں میں غیر موجود وہ ہستی ہے جو بلا شرکت و عطا کسی کی کشتی پار کروا دے، مشکلیں حل کر دے ، حاجات پوری کر دے وغیرہ۔ عوام میں پائے جانے والے اس جہل پر یہ خوفناک لطیفہ صادق آتا ہے کہ ایک خطیب نے دوران وعظ بیان کیا کہ “امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدان کربلا میں تلوار پکڑی، گھوڑے پر سوار ہوئے، “کفار” کی طرف بڑھے اور “المدد یا غوثِ اعظم” کہتے ہوئے دشمنوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالا”۔

یہ اس قوم کا المیہ ہے کہ اولیائے کاملین کے صدق و صفا کو بیان کرنے کی خاطر کذب و باطل کلام کا سہارا لیتے ہیں۔ اس جہالت کا خاتمہ درجِ ذیل اقدامات اٹھا کر ممکن ہے؛

1: سرکار غوث پاک سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی علمیت کو اجاگر کیا جائے۔ علومِ قرآن، حدیث، فقہ و تصوف میں ان کی مہارت، سیرت، ان کے اساتذہ و مشائخ، ان کے انداز درس و تدریس، ان کے تلامذہ و خلفاء پر “موضوعاتی مطالعہ” کے انداز میں کام کیا جائے۔

2۔ بہجۃ الاسرار پر معترضین کی پریشانی یہ ہے کہ اس میں موجود کرامات و فضائل غوث پاک ضعیف روایات پر مبنی ہیں۔ معترضین کا یہ اعتراض نیا نہیں ہے کیونکہ ان کے اعتراضات کا یہ سلسلہ تو قرآنی احکام، حدیث کی شروحات بلکہ ذات مصطفٰی کریم ﷺ تک پہنچا ہوا ہے لیکن ہمیں چاہیے کہ سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی حیات و سیرت پر عربی میں لکھی گئی کم از کم 11 کتابوں کے اردو اور انگریزی تراجم (نئی تحقیقات، تخریج، تعلیقات اور تطبیقات) کے ساتھ شائع کریں۔ اشاعت میں موجودہ دور میں تصوف پر اٹھنے والے سوالات، غوث پاک کی شخصیت اور موجودہ اعتراضات کو پیش نظر رکھ کر تعلیق و تطبیق ہو۔

3۔ دو کتابیں خصوصی توجہ چاہتی ہیں، امام قسطلانی کی “الروض الزاہر فی مناقب الشیخ عبد القادر” اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی کی “زبدۃ الآثار تلخیص بہجۃ الاسرار” ۔ دونوں بزرگ ہند و پاک کے تمام مسالک میں مقبول ہیں، خصوصاً شیخ محقق کی کتاب بہت سوں کی زبان بند کروا سکتی ہے۔

4۔ یہ کتب، رسائل ، مقالے چھاپے جائیں، اغیار کی Approach کو پیش نظر رکھ کر ان کی ترسیل و تقسیم اسی سطح پر ہونی چاہیے۔ سالانہ عرسِ غوث پاک کے موقع پر Multilingual محققین سے مقالے تیار کروا کر چھاپیں اور سیمینارز میں وہ مقالے پڑھوائے جائیں۔

5۔ اپنی مساجد و محافل میں بیان کے لیے ایسے خطباء کو دعوت دیں جو کرامات بیچنے کی بجائے استقامت اور علمیت غوث پاک پر گفتگو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اگر کوئی محقق دوست ان عنوانات پر کام کر سکتا ہے تو اس کا مکمل خرچ فقیر “غوث پاک” کی بارگاہ سے لے کر پیش کرنے کو تیار ہے۔ بسم اللہ کیجیے۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی