حدیث نمبر :710

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ زمین میں پہلے کون سی مسجد بنائی گئی فرمایا مسجد حرام ۱؎ فرماتے ہیں میں نے کہا پھر کون سی فرمایا پھرمسجد اقصے ۲؎ میں نے کہا ان کے درمیان کتنا فاصلہ تھا فرمایا چالیس سال۳؎ اب ساری زمین تمہارے لئے مسجدہے جہاں نماز کا وقت آجائے وہاں پڑھ لو۴؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ کیونکہ آدم نے بحکم خداوندی حضرت جبرئیل کے عرض کرنے پر زمین پر آتے ہی یہ مسجد بنائی۔

۲؎ اقصٰی کے معنی ہیں بہت دور چونکہ بیت المقدس کی مسجد کعبہ معظمہ اور مدینہ طیبہ سے بہت دور ہے اس لئےب اقصٰی کہلاتی ہے۔

۳؎ خیال رہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی اورحضرت سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد نہ رکھی بلکہ پہلی بنیادوں پرعمارتیں بنائیں۔ان دوپیغمبروں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے۔اس حدیث میں یا تو ان دونوں مسجدوں کی بنیادوں کا ذکر ہے کہ آدم علیہ السلام نے تو بہ قبول ہوتے ہی کعبۃ اﷲ کی بنیاد ڈالی،پھرچالیس سال کے بعد جب آپ کی اولاد بہت ہوگئی اور پھیل گئی تو ان میں سے کسی نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔بعض روایات میں ہے کہ خود آدم علیہ السلام نے ہی کعبہ کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی بنیاد رکھی یا کوئی خاص تعمیر مراد ہے،جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ کے چالیس سال بعد یعقوب علیہ السلام نے بیت المقدس کی تعمیر کی۔یہاں مرقاۃ نے بناء کعبہ پرمفصل گفتگو کی ہے۔بہرحال اس حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ کعبہ بنائے ابراہیمی ہے اور بیت المقدس بناءسلیمانی،ان دونوں بزرگوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ ہے تو ان تعمیروں میں چالیس سال کا فاصلہ کیسے ہوا جیسا کہ منکرین حدیث کو غوطہ لگا۔

۴؎ یعنی اسلام میں ہرجگہ نمازجائز ہے۔مذبح،مقبرہ وغیرہ میں نماز ممنوع ہونا ایک عارضہ کی وجہ سے ہے۔