أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ فِرۡعَوۡنُ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ قَبۡلَ اَنۡ اٰذَنَ لَـكُمۡ‌ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكۡرٌ مَّكَرۡتُمُوۡهُ فِى الۡمَدِيۡنَةِ لِتُخۡرِجُوۡا مِنۡهَاۤ اَهۡلَهَا‌ ۚ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

فرعون نے کہا تم میری اجازت دینے سے پہلے ایمان لے آئے ؟ یقینا یہ تمہاری خفیہ سازش ہے جو تم نے مل کر شہر میں تیار کی ہے تاکہ اس شہر کے رہنے والوں کو اس شہر سے نکال دو ، سو عنقریب تم اس کا خمیازہ بھگتو گے

تفسیر:

123 ۔۔ تا۔۔ 126:۔ 

فرعون کا عوام کو شبہات میں ڈالنا :

فرعون نے جب یہ دیکھا کہ جن لوگوں کو سب سے زیادہ جادو کا علم تھا وہ لوگوں کے بہت بڑے اجتماع کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر ایمان لے آئے تو اس کو اپنی جدائی کا خطرہ پڑگیا۔ اس نے سوچا کہ یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت پر بہت قوی دلیل قائم ہوگئی۔ تو اس نے لوگوں کو اپنی بندگی پر قائم رکھنے کے لیے فوراً دو شبہات ڈالے۔ ایک شبہ یہ ڈالا کہ یہ جادوگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیل کی قوت کی وجہ سے ان کی نبوت پر ایمان نہیں لائے بلکہ ان کا مقابلہ در اصل نورا کشتی تھی اور انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا تھا کہ جادوگر عمداً ہار جائیں گے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دلیل کا غلبہ ظاہر ہو۔

امام ابن جریر طبری متوفی 310 ھ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے سردار کی مقابلہ سے پہلے ملاقات ہوئی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر میں تم پر گا لب آجاؤں تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آؤگے اور اس بات کی گواہی دو گے کہ جس دین کی دعوت دے رہا ہوں وہ حق ہے، جادوگروں کے سردار نے کہا کل ہم ایسا جادو پیش کریں گے جس پر کوئی جادو غالب نہیں آسکے گا، اور خدا کی قسم اگر تم مجھ پر غالب آگئے تو میں ضرور تم پر ایمان لے آؤں گا اور میں ضرور یہ گواہی دوں گا کہ تمہاری دعوت سچی ہے۔ فرعون ان کو باتیں کرتا ہوا دیکھ رہا تھا اس لیے اس نے کہا : یقیناً یہ تمہاری خفیہ سازش ہے، یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غالب ہونا پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے مطابق تھا حقیقت میں وہ غالب نہیں ہوئے تھے۔ (جامع البیان جز 9، ص 31، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

فرعون لعین نے دوسرا شبہ یہ ڈالا ان کا مقصد تمہیں تمہارے وطن سے نکالنا ہے اس لیے انہوں نے یہ نورا کشتی کی ہے، فرعون کا مقصد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کامیابی کے اثرات کو زائل کرنا تھا تاکہ اس کے رعایا اس کی خدائی کے متعلق بدگمان نہ ہو، پھر اس نے کہا تم عنقریب جان لوگے، اپنے اس قول سے اس نے مسلمان ہونے والے جادوگروں کو سزا کی دھمکی دی۔

آیا فرعون اپنی دھمکی پر عمل کرسکا یا نہیں ؟ 

” میں ضرور تمہارے ہاتھوں اور پاؤں کو مخالف جانبوں سے کاٹ دوں گا، پھر میں ضرورتم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا “۔ یہ اجمال کے بعد تفصیل ہے اور یہ فرعون کی تفصیلی دھمکی ہے۔ اس میں مفسرین کا اختاف ہے کہ فرعون نے اس دھمکی پر عمل کیا یا نہیں، امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے سولی پر لٹکایا اور جس شخص نے سب سے پہلے ہاتھوں اور پاؤں کو مخالف جانبوں سے کاٹا، وہ فرعون تھا۔ (جامع البیان ج 9، ص 32، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

بعض مفسرین نے کہا : فرعون اس دھمکی پر عمل نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” قال سنشد عضدک باخیک و نجعل لکما سلطانا فلا یصلون الیکما بایاتناانتما ومن اتبعکما الغالبون : فرمایا، ہم عنقریب آپ کے بازو کو آپ کے بھائی کے ساتھ مضبوط کردیں گے اور ہم آپ دونوں کو غلبہ عطا فرمائیں گے، سو وہ آپ دونوں تک ہماری نشانیوں کے سبب نہ پہنچ سکیں گے آپ دونوں اور آپ کی اتباع کرنے والے غالب رہیں گے ” (القصص :35)

اس آیت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعبین کو غلبہ کی بشارت دی ہے، اس لیے فرعون ان کو قتل نہیں کرسکتا تھا، لیکن اس استدلال پر یہ اعتراض ہے کہ اس آیت میں غلبہ سے مراد دلیل اور حجت کا غلبہ ہے۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ انہوں نے دعا کی تھی کہ حالت اسلام میں ہم پر وفات طاری کرنا اور وفات سے مراد طبعی موت ہے اس کا معنی ہے ان کو قتل نہیں کیا گیا اور یہ زیادہ قوی دلیل ہے۔

امام ابن جریر نے متعدد سندوں کے ساتھ یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ دن کے ابتدائی حصہ میں وہ جادوگر تھے اور دن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے، نیز انہوں نے اپنے لیے صبر کی دعا کی تھی اور صبر کی دعا اسی وقت کی جاتی ہے جب انسان کسی امتحان، آزمائش اور بلا میں گھر جائے۔ یعنی سولی پر چڑھائے جانے اور ہاتھوں اور پاؤں کے کاٹے جانے سے وہ ڈگمگا نہ جائیں اور اپنے ایمان پر برقرار رہیں اور ان کو اسلام پر ہی موت آئے۔ ان دلائل سے اس نظریہ کو تقویت ملتی ہے کہ رعون نے اپنی دھمکی پر عمل کرلیا تھا۔ 

راہ حق میں قربانی دینے کے لیے تیار رہنا : 

” انہوں نے کہا : بیشک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔۔۔ الخ “

جب انسان دین حق کو قبول کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور اس راہ میں مصائب اور مشکلات پر ثابت قدم رہنے کا ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں ایسی قوت اور جرات پیدا کردیتا ہے، ان جادوگروں نے جب بصیرت سے حق کو پہچان لیا تو پوری جرات کے ساتھ اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب کو خندہ پیشانی سے قبول کرلیا، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا چاہیے اور اس دنیا کی فانی لذتوں پر آخرت کی دائمی نعمتوں کو قربان نہیں کرنا چاہیے اور راہ حق کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 123