اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ۫-یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًاۙ-وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖؕ-اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُؕ-تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ(۵۴)

بے شک تمہارا رب اللہ ہے جس نے آسمان اور زمین (ف۹۷) چھ دن میں بنائے (ف۹۸) پھر عرش پر اِستواء فرمایا جیسا اس کی شان کے لائق ہے (ف۹۹) رات دن کو ایک دوسرے سے ڈھانکتا ہے کہ جلد اس کے پیچھے لگا آتا ہے اور سورج اور چاند اور تاروں کو بنایا سب اُس کے حکم کے دبے ہوئے سن لو اسی کے ہاتھ ہے پیدا کرنا اور حکم دینا بڑی برکت والا ہے اللہ رب سارے جہان کا

(ف97)

مع ان تمام چیزوں کے جو ان کے درمیان ہیں جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہوا ۔” وَلَقَدْخَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ۔”

(ف98)

چھ دن سے دنیا کے چھ دنوں کی مقدار مراد ہے کیونکہ یہ دن تو اس وقت تھے نہیں ، آفتاب ہی نہ تھا جس سے دن ہوتا اور اللہ تعالٰی قادر تھا کہ ایک لمحہ میں یا اس سے کم میں پیدا فرماتا لیکن اتنے عرصہ میں ان کی پیدائش فرمانا بہ تقاضائے حکمت ہے اور اس سے بندوں کو اپنے کاموں میں تدریج اختیار کرنے کا سبق ملتا ہے ۔

(ف99)

یہ اِستِواء مُتَشابِہات میں سے ہے ۔ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں کہ اللہ کی اس سے جو مراد ہے حق ہے ۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اِستِواء معلوم ہے اور اس کی کیفیت مجہول اور اس پر ایمان لانا واجب ۔ حضرت مُتَرۡجِم قُدِّسَ سِرُّہ نے فرمایا ، یا اس کے معنٰی یہ ہیں کہ آفرِینَش کا خاتِمہ عرش پر جا ٹھہرا ۔ واللہ اعلم باسرار کتابہ

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةًؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ(۵۵)

اپنے رب سے دعا کرو گڑگڑاتے اور آہستہ بے شک حد سے بڑھنے والے اسے پسند نہیں (ف۱۰۰)

(ف100)

دعا اللہ تعالٰی سے خیر طلب کرنے کو کہتے ہیں اور یہ داخلِ عبادت ہے کیونکہ دعا کرنے والا اپنے آپ کو عاجِز و مُحتاج اور اپنے پروردگار کو حقیقی قادر و حاجت رَوا اعتِقاد کرتا ہے ۔ اسی لئے حدیث شریف میں وارِد ہوا ” اَلدُّعَآ ءُ مُخُّ الْعِبَادَۃِ ” تَضَرُّع سے اظہارِ عِجز و خُشوع مراد ہے اور ادب دعا میں یہ ہے کہ آہستہ ہو ۔ حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ آہستہ دعا کرنا علانیہ دعا کرنے سے ستّر درجہ زیادہ افضل ہے ۔

مسئلہ : اس میں عُلَماء کا اختلاف ہے کہ عبادات میں اظہار افضل ہے یا اِخفاء ، بعض کہتے ہیں کہ اِخفاء افضل ہے کیونکہ وہ رِیا سے بہت دور ہے ، بعض کہتے ہیں کہ اظہار افضل ہے اس لئے کہ اس سے دوسروں کو رغبتِ عبادت پیدا ہوتی ہے ۔ ترمذی نے کہا کہ اگر آدمی اپنے نفس پر رِیا کا اندیشہ رکھتا ہو تو اس کے لئے اِخفاء افضل ہے اور اگر قلب صاف ہو اندیشۂ رِیا نہ ہو تو اظہار افضل ہے ۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ فرض عبادتوں میں اظہار افضل ہے ، نمازِ فرض مسجد ہی میں بہتر ہے اور زکوٰۃ کا اظہار کرکے دینا ہی افضل ہے اور نفل عبادات میں خواہ وہ نماز ہو یا صدَقہ وغیرہ ان میں اِخفاء افضل ہے ۔ دعا میں حد سے بڑھنا کئی طرح ہوتا ہے اس میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بہت بلند آواز سے چیخے ۔

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاؕ-اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶)

اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ (ف۱۰۱)اس کے سنورنے کے بعد (ف۱۰۲) اور اس سے دعا کرو ڈرتے اور طَمَع کرتے بے شک اللہ کی رحمت نیکوں سے قریب ہے

(ف101)

کُفر ومَعصیّت و ظلم کر کے ۔

(ف102)

اَنبیاء کے تشریف لانے ، حق کی دعوت فرمانے ، اَحکام بیان کرنے ، عدۡل قائم فرمانے کے بعد ۔

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِؕ-كَذٰلِكَ نُخْرِ جُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۵۷)

اور وہی ہے کہ ہوائیں بھیجتا ہے اس کی رحمت کے آگے مژدہ سناتی (ف۱۰۳) یہاں تک کہ جب اٹھالائیں بھاری بادل ہم نے اُسے کسی مردہ شہر کی طرف چلایا (ف۱۰۴) پھر اس سے پانی اُتارا پھر اس سے طرح طرح کے پھل نکالے اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے (ف۱۰۵) کہیں تم نصیحت مانو

(ف103)

بارش کا اور رحمت سے یہاں مِینہ مراد ہے ۔

(ف104)

جہاں بارش نہ ہوئی تھی سبزہ نہ جما تھا ۔

(ف105)

یعنی جس طرح مردہ زمین کو ویرانی کے بعد زندگی عطا فرماتا اور اس کو سرسبز و شاداب فرماتا ہے اور اس میں کھیتی ، درخت ، پھل پھول پیدا کرتا ہے ۔ ایسے ہی مُردوں کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھائے گا کیونکہ جو خشک لکڑی سے تر و تازہ پھل پیدا کرنے پر قادر ہے اسے مُردوں کا زندہ کرنا کیا بعید ہے ۔ قدرت کی یہ نشانی دیکھ لینے کے بعد عاقِل ، سلیمُ الحواس کو مُردوں کے زندہ کئے جانے میں کچھ تردُّد باقی نہیں رہتا ۔

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُ جُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖۚ-وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُ جُ اِلَّا نَكِدًاؕ-كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠(۵۸)

اور جو اچھی زمین ہے اس کا سبزہ اللہ کے حکم سے نکلتا ہے (ف۱۰۶) اور جو خراب ہے اس میں نہیں نکلتا مگر تھوڑا بمشکل (ف۱۰۷) ہم یونہی طرح طرح سے آیتیں بیان کرتے ہیں (۱۰۸) اُن کے لئے جو احسان مانیں

(ف106)

یہ مؤمن کی مثال ہے جس طرح عمدہ زمین پانی سے نفع پاتی ہے اور اس میں پھول پھل پیدا ہوتے ہیں اسی طرح جب مؤمن کے دل پر قرآنی انوار کی بارش ہوتی ہے تو وہ اس سے نفع پاتا ہے ، ایمان لاتا ہے ، طاعات و عبادات سے پھلتا پھولتا ہے ۔

(ف107)

یہ کافِر کی مثال ہے کہ جیسے خراب زمین بارش سے نفع نہیں پاتی ایسے ہی کافِر قرآن پاک سے مُنتفِع نہیں ہوتا ۔

(ف108)

جو توحید و ایمان پر حُجّت و بُرہان ہیں ۔