حدیث نمبر :715

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ کا پردہ تھا جس سے گھر کا ایک گوشہ ڈھانک رکھا تھا ان سے حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا یہ پردہ ہم سے ہٹالو کیونکہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آجاتی ہیں ۱؎ (بخاری)

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ غیرجاندار چیزوں کی صورتیں ہوں گی،اور اگر جاندار کے فوٹو بھی ہوں تب بھی شوقیہ یا احترام کے طور پر نہ تھے تاکہ اس پرکراہت کا حکم ہو۔خیال رہے کہ دیواروں پرغلاف ڈالنا جائز ہے اگرچہ بہتر نہیں،لہذا یہ حدیث ممانعت کی روایت کے خلاف نہیں۔شیخ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ممانعت سے پہلے کا ہوگا اور ہوسکتا ہے کہ الماری یا طاق پرحفاظت اشیاء کے لیے ڈالا گیا ہو،جیسے اب بھی ضرورۃً کیا جاتا ہے کہ بجائے کواڑ،ٹاٹ یا پردہ ڈال دیتے ہیں۔