أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِ فِرۡعَوۡنَ اَتَذَرُ مُوۡسٰى وَقَوۡمَهٗ لِيُفۡسِدُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ‌ ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبۡنَآءَهُمۡ وَنَسۡتَحۡىٖ نِسَآءَهُمۡ‌ ۚ وَاِنَّا فَوۡقَهُمۡ قَاهِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو زمین میں فساد کرنے کے لیے چھوڑ دے گا ! تاکہ وہ تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں، فرعون نے کہا ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیں گے، اور بیشک ہم ان پر غالب ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے (فرعون سے) کہا : کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو زمین میں فساد کرنے کے لیے چھوڑ دے گا ؟ تاکہ وہ تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں، فرعون نے کہا : ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کردیں گے، اور ان کی بیٹیوں کو زندہ رہنے دیں گے، اور بیشک ہم ان پر غالب رہیں گے۔ (الاعراف : 127)

فرعون کے معبود کی تفسیر میں اقوال : 

فرعون کی قوم نے جب دیکھا کہ فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو گرفتار کیا نہ ان کو کوئی سزا دی تو انہوں نے یہ کہا : کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو زمین فساد کرنے کے لیے چھوڑ دے گا، تاکہ وہ تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں، فرعون نے حضرت موسیٰ سے اس لیے کوئی تعرض نہیں کیا تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کو دیکھ کر بہت زیادہ خوفزدہ ہوگیا تھا۔ اس کو ڈر تھا کہ اگر حضرت موسیٰ نے اس پر عصا چھوڑ دیا تو وہ اژدہا بن کر اس کو کھاجائے گا۔ تاہم اس نے اپنا بھرم رکھنے کے لیے قوم کو جواب دیا کہ ہم عنقریب ان کے بیٹوں کو قتل کردیں گے اور بیٹیوں کو چھوڑ دیں گے، گویا موجودہ نسل کے ختم ہونے کے بعد بنو اسرائیل کی صرف عورتیں رہ جائیں گی اور عورتوں سے تمہیں کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔ گویا کہ یہ ایک طویل المیعاد منصوبہ تھا۔ اور اس سے وقتی طور پر قبطیوں کو تسلی دینا مقصود تھی۔ 

قبطیوں نے کہا تھا تاکہ وہ تجھ کو اور تیرے معبودوں کو چھوڑے رہیں۔ فعون کے معبود کی تفسیر میں حسب ذیل اقوال ہیں : 

1 ۔ فرعون نے اپنی قوم کے لیے چھوٹے چھوٹے بت بنا رکھے تھے اور اس نے اپنی قوم کو ان کی عبادت کرنے کا حکم دیا تھا اور خود کو وہ کہتا تھا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اور ان بتوں کا بھی رب ہوں۔

2 ۔ حسن بصری نے کہا : فرعون خود بھی بتوں کی عبادت کرتا تھا۔

3 ۔ امام رازی نے فرمایا کہ فرعون ستاروں کی تاثیر کا قائل تھا اور اس نے ستاروں کی صورتوں کے بت بنا رکھے تھے اور وہ خود بھی ان کی عبادت کرتا تھا اور قوم سے بھی ان کی عبادت کراتا تھا۔

4 ۔ امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ فرعون کی ایک گائے تھی، جس کی اس کی قوم عبادت کرتی تھی اور ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب بھی وہ کوئی خوب صورت گائے دیکھتے تو فرعون اس کی عبادت کا حکم دیتا تھا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 127