باب الستر

سترڈھانپنے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ بدن کا وہ حصہ جس کا ڈھانپنا نمازمیں فرض ہے ستر کہلاتاہے۔مردکے لیے ناف سے گھٹنے تک ستر ہے اور عورت کے لیے سرسے پاؤں تک سوا چہرے،کلائیوں تک ہاتھ اورٹخنوں تک قدم کے،اگر سترکے کسی عضو کا چہارم حصہ نماز میں تین تسبیح کی بقدرکھلا رہے تو نماز مطلقًا نہ ہوگی۔مصنف اس باب میں لباس مستحب اور لباس مکروہ کا ذکر بھی کریں گے۔

حدیث نمبر :711

روایت ہے حضرت عمرو ابن ابی سلمہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ام سلمہ کے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اپنے کندھوں پر اس کے کنارے ڈالے ہوئے تھے ۲؎ (بخاری و مسلم)

شرح

۱؎ آپ قریشی ہیں،مخذومی ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سوتیلے بیٹے ہیں،ام سلمہ کے فرزند، ۲ھ ؁مقام حبشہ میں پیدا ہوئے۔حضور کی وفات کے وقت ۹برس کے تھے،عبدالملک ابن مروان کے زمانۂ حکومت میں ۸۳ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ اس طرح کہ ایک کپڑا سرسے پاؤں تک اوڑھے تھے اورکپڑے کا داہنا کونابائیں کندھے پراوربایاں داہنے پرڈالے ہوئے تھے۔معلوم ہوا کہ ایک کپڑے میں نمازبلاکراہت جائزہے بشرطیکہ کندھے وغیرہ کھلے نہ ہوں،اگرچہ مستحب یہ ہے کہ تین کپڑوں میں نماز پڑھے۔ٹوپی یا عمامہ،قمیض،تہبندیاپائجامہ۔