لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۵۹)

بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا (ف۱۰۹) تو اس نے کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو (ف۱۱۰) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (ف۱۱۱) بے شک مجھے تم پر بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے (ف۱۱۲)

(ف109)

حضرت نوح علیہ السلام کے والد کا نام لمک ہے ، وہ متوشلخ کے ، وہ اخنوخ علیہ السلام کے فرزند ہیں ، اخنوخ حضرت اِدریس علیہ الصلٰوۃ والسلام کا نام ہے ۔ حضرت نوح علیہ الصلٰوۃ والسلام چالیس یا پچاس سال کی عمر میں نبوّت سے سرفراز فرمائے گئے ۔ آیاتِ بالا میں اللہ تعالٰی نے اپنے دلائلِ قُدرت و غَرائبِ صَنعت بیان فرمائے جن سے اس کی توحید و رَبوبیّت ثابت ہوتی ہے اور مرنے کے بعد اٹھنے اور زندہ ہونے کی صحت پر دلائلِ قاطعہ قائم کئے ، اس کے بعد انبیاء علیہم الصلٰوۃ و السّلام کا ذکر فرماتا ہے اور ان کے ان معاملات کا جو انہیں اُمّتوں کے ساتھ پیش آئے ۔ اس میں نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تسلّی ہے کہ فقط آپ ہی کی قوم نے قبولِ حق سے اِعراض نہیں کیا بلکہ پہلی اُمّتیں بھی اِعراض کرتی رہیں اور انبیاء کی تکذیب کرنے والوں کا انجام دنیا میں ہلاک اور آخرت میں عذابِ عظیم ہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ انبیاء کی تکذیب کرنے والے غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوتے ہیں ۔ جو شخص سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی تکذیب کرے گا اس کا بھی یہی انجام ہوگا ۔ انبیاء کے ان تذکروں میں سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وسلَّم کی نبوّت کی زبردست دلیل ہے کیونکہ حضور اُمّی تھے پھر آپ کا ان واقعات کو تفصیلاً بیان فرمانا بالخصوص ایسے مُلک میں جہاں اہلِ کتاب کے عُلَماء بکثرت موجود تھے اور سرگرم مخالِف بھی تھے ، ذرا سی بات پاتے تو بہت شور مچاتے ، وہاں حضور کا ان واقعات کو بیان فرمانا اور اہلِ کتاب کا ساکِت و حیران رہ جانا صریح دلیل ہے کہ آپ نبیٔ برحق ہیں اور پرودگارِ عالَم نے آپ پر علوم کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔

(ف110)

وہی مستحقِ عبادت ہے ۔

(ف111)

تو اس کے سوا کسی کو نہ پوجو ۔

(ف112)

روزِ قیامت کا یا روزِ طوفان کا اگر تم میری نصیحت قبول نہ کرو اور راہِ راست پر نہ آؤ ۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۶۰)

اس کی قوم کے سردار بولے بے شک ہم تمہیں کُھلی گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۱)

کہا اے میری قوم مجھ میں گمراہی کچھ نہیں میں تو ربُّ العالمین کا رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۲)

تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا اور تمہارا بھلا چاہتا اور میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۶۳)

اور کیا تمہیں اس کا اَچَنبھا(تعجب) ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت (ف۱۱۳) کہ وہ تمہیں ڈرائے اور تم ڈرو اور کہیں تم پر رحم ہو

(ف113)

جس کو تم خوب جانتے اور اس کے نسب کو پہچانتے ہو ۔

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠(۶۴)

تو انہوں نے اسے (ف۱۱۴)جھٹلا یا تو ہم نے اسے اور جو (ف۱۱۵) اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور اپنی آیتیں جھٹلانے والوں کو ڈبودیا بے شک وہ اندھا گروہ تھا(ف۱۱۶)

(ف114)

یعنی حضرت نوح علیہ السلام کو ۔

(ف115)

ان پر ایمان لائے اور ۔

(ف116)

جسے حق نظر نہ آتا تھا . حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ان کے دل اندھے تھے ، نورِ معرِفت سے ان کو بَہرہ نہ تھا ۔