حدیث نمبر :718

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا ۱؎ اس سے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ وضو کرو وہ گیا وضو کیا پھر آیا ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے اسے وضو کرنے کا کیوں حکم دیا فرمایا کہ وہ تہبند لٹکائے نماز پڑھ رہا تھا اﷲ اس شخص کی نماز قبول نہیں کرتا جو تہبند لٹکائے ہوئے ہو۲؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی فیشن اورتکبر کے طریقہ پر اس کا تہبندٹخنوں سے نیچے تھا جیسا کہ آج کل چوہدریوں کا پہناواہے یہ مکروہ تحریمی ہے۔اگر فیشن سے نہ ہو تو مضائقہ نہیں،جیساکہ حضرت ابوبکرصدیق سے منقول ہے کہ آپ کے پیٹ پر تہبند رکتا نہ تھا ڈھلک جاتا تھاجس سے ٹخنوں کے نیچے ہوجاتا حضورصلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا فرمایا تم فیشن والے متکبرین میں سے نہیں ہو،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۲؎ تہبند لٹکانے سے وضو واجب نہیں ہوتا یہاں وضو کا حکم دینا یا اس لئے تھا کہ اس کی وجہ سے اس شخص کو یہ واقعہ یاد رہے اور آئندہ کبھی نیچا تہبند نہ پہنے کیونکہ قدرے سزا دے دینے سے بات یاد رہتی ہے یا اس لیے کہ ان کے دل میں فیشن اورتکبرتھا،ظاہری طہارت کے ذریعہ باطنی طہارت نصیب ہو،ہاتھ پاؤں دھلنے سے دل غروروتکبر سے دھل جائے۔بعض صوفیاءفرماتے ہیں پاک کپڑوں میں رہنا،پاک بستر پرسونا ہمیشہ باوضو رہنا دل کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔