حدیث نمبر :716

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمیں قبا ہدیۃً پیش کی گئی آپ نے وہ پہنی ۱؎ پھراس میں نماز پڑھی پھر فارغ ہوئے تو سختی سے اتار دی اس کو ناپسند کرتے ہوئے پھر فرمایا کہ یہ پرہیز گاروں کو زیبا نہیں۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ فروج وہ اچکن کہلاتی ہے جس کاچاک پیچھے سے کھلا ہو۔یہ قبا”دومۃ الجندل”کے بادشاہ اکیدریا سکندریہ کے بادشاہ نے ہدیۃً پیش کی تھی،آپ کا پہن لینا انہیں راضی کرنے کے لیے تھا۔بعض نے فرمایا کہ واقعہ ظہور نبوت سے پہلے کا تھا۔حضور اس وقت بھی نمازیں پڑھتے تھے مگرزیادہ صحیح یہ ہے کہ ریشم حرمت سے پہلے کا ہے،ورنہ حرمت کے بعدحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کبھی نہ پہنا۔خیال رہے کہ مردکو کپڑے کا خاص ریشم پہننا منع ہے،دریائی یاسن کو منصوعی ریشم حلال۔

۲؎ سبحان اﷲ!یہ ہے حضور کی فطرت سلیمہ کہ ابھی ریشم حرام نہیں ہوا مگر طبیعت پاک میں نفرت پہلے ہی سے ہے۔