مسجد کے ادب و احترام کے متعلق اہم مسائل :-

مسئلہ: مسجد میں ا یسا اکل و شرب ( کھانا پینا ) جس سے اس کی تلوث ہو مطلقاً ناجائز ہے اگرچہ معتکف ہو ۔ ردالمحتار باب الاعتکاف میں ہے ’’ الظاہر ان مثل النوم والاکل والشرب اذا لم یشغل المسجد ولم یلوثہ لان تنظیفۃ واجب کما مر ‘‘ اسی طرح اتنا کثیر کھانا مسجد میں لانا کہ نماز کی جگہ گھیرے ممنوع ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۳)

مسئلہ: اور بلاشبہ اگران افعال کا دروازہ کھول دیاجائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری ۔ مسجدیں چوپال ہوجائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی ۔( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۳)

مسئلہ: اسباب بھی بلا ضرورت مسجد میں نہ رکھنا چاہئے ۔ مسجد کو گھر سے مشابہ بھی نہ کرنا چاہئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ ان المساجد لم تبن لہذا ‘‘ خصوصاً اگر چیزیں (اسباب)رکھنے سے نماز کی جگہ رکے تو سخت ناجائز و گناہ ہے ۔ مسجد کو گھر بنانا کسی کے لئے جائز نہیں ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۵ ،اور ص ۵۹۴)

مسئلہ: مٹی کے تیل (Kerosine) میں بدبو ہے اور بدبو کا مسجد میں لے جانا کسی طرح جائز نہیں۔ مسجد میں مٹی کا تیل جلانا حرام ہے ۔ ( فتاوٰی رضویہ ، جلد۳،ص ۵۹۸ و ۵۹۷ و جلد ۶ ، ص ۴۴۴)

مسئلہ: مسجد میں کچا لہسن اور پیاز کھانا یا کھاکر جانا جائز نہیں جب تک منہ میں بو باقی ہو ۔ کیونکہ فرشتوں کو ا س سے تکلیف ہوتی ہے ۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں ’’ من اکل من ہذا الشجرۃ المنتنۃ فلا یقربن مسجدنا فان الملائکۃ تتاذی مما یتاذی منہ الانس ‘‘ ترجمہ :- ’’ جو اس بدبودار درخت سے کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کہ فرشتوں کو اس چیز سے ایذا ہوتی ہے جس سے آدمی کو ایذا ہوتی ہے ۔ رواہ بخاری و مسلم عن جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ (بہارشریعت ، حصہ ۳ ، ص ۱۸۴، اور فتاوٰی رضویہ ، جلد ۳ ، ص ۵۹۸)

مسئلہ: مسجد میں اس طرح کھانا پینا کہ مسجد میں گرے اور مسجد آلودہ ہو مطلقاً حرام ہے ۔ معتکف ہویا غیر معتکف اسی طرح ایسا کھانا جس سے نماز کی جگہ گھرے یعنی رُکے وہ بھی ناجائز و حرام ہے ۔ ( احکام شریعت ، حصہ ۲مسئلہ ۱ ص ۲،مصنف امام احمد رضاؔ محدث بریلوی۔)