أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالُوۡا مَهۡمَا تَاۡتِنَا بِهٖ مِنۡ اٰيَةٍ لِّـتَسۡحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحۡنُ لَكَ بِمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور انہوں نے کہا (اے موسی) آپ جب بھی ہمیں مسحور کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں گے تو ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں

تفسیر:

132 ۔ تا۔ 133:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور انہوں نے کہا (اے موسی) آپ جب بھی ہمیں مسحور کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی نشانی لائیں گے تو ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ پس ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور ٹڈی دل کے بادل اور جوئیں اور مینڈک اور خون، در آنحالیکہ یہ الگ الگ نشانیاں تھیں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ تھی ہی مجرم قوم “

قوم فرعون پر طوفان اور ٹڈی دل وغیرہ بھیجنے کا عذاب :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی جہالت اور گمراہی بیان کی تھی کہ انہوں نے خشک سالی، قحط اور پھلوں کی کم پیداوار کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کی نحوست (العیاذ باللہ) کی طرف منسوب کیا اور یہ نہ جانا کہ بارش کا نہ ہونا اور غلہ اور پھلوں کا کم پیدا ہونا یا زیادہ ہونا، یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور ان سب چیزوں کا اللہ تعالیٰ خالق ہے کسی مخلوق میں اس کا دخل نہیں ہے، اور اس آیت میں ان کی ایک اور جہالت اور گمراہی بیان فرمائی ہے کہ وہ معجزہ اور سحر میں فرق نہیں کرتے تھے، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی جو اژدہا بن گئی تھی، اس کو سحر کہتے تھے، حالانکہ ان کے تمام بڑے بڑے ساحر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزہ کے سامنے عاجز ہوچکے تھے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب فرعون کی قوم نے یہ کہا : اے موسیٰ ! آپ جب بھی ہمیں مسحور کرنے کے لیے کوئی نشانی لائیں گے تو ہم آپ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں، اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تیز مزاج تھے، اس وقت انہوں نے قوم فرعون کے خلاف دعاء ضرر کی : ” اے میرے رب ! تیرا بندہ فرعون زمین میں بہت تکبر اور سرکشی کر رہا ہے اور اس کی قوم نے تیرے عہد کو توڑ دیا ہے، اے میرے رب ان پر عذاب نازل فرما جو ان کے لیے عذاب ہو اور میری قوم کے لیے نصیحت ہو اور بعد والوں کے لیے نشانی اور عبرت ہو، تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفان بھیجا۔ ور وہ زبردست طوفانی بارش تھی جس سے ان کے گھروں میں پانی بھر گیا، بنو اسرائیل اور قبطیوں کے گھر ملے جلے تھے، قبطیوں کے گھر تو پانی سے بھر گئے حتی کہ ان کی گردنوں تک پانی پہنچ گیا۔ ان میں سے جو شخص بیٹھتا وہ پانی میں ڈوب جاتا اور بنو اسرائیل کے گھروں میں پانی کا ایک قطرہ بھی داخل نہیں ہوا، اور قبطیوں کی زمینوں پر پانی جمع ہوگیا، وہ کھیتی باڑی اور دیگر کوئی کام نہ کرسکے، ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک یہی کیفیت رہی، تب فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ ہم کو اس بارش کے طوفان سے نجات دے دے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تو ان سے وہ طوفان اٹھا لیا گیا، اور اس سال ان کی بہت اچھی فصل ہوئی ایسی کبھی نہ ہوئی تھی، ہر طرف سبزہ پھیل گیا اور درخت ہرے بھرے ہوگئے۔ تب قبطیوں نے کہا یہ پانی تو ہمارے حق میں نعمت تھا اس سے ہماری فصل اچھی ہوئی اور ہمارے درخت پھلوں سے لد گئے، سو وہ ایمان نہیں لائے اور ایک مہینہ تک آرام اور عافیت سے رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر ٹڈی دل کے بادل بھیجے انہوں نے ان کی تمام فصلوں، پھلوں، حتی کہ درختوں تک کو چاٹ لیا۔ بلکہ انہوں نے دروازوں کو مکان کی چھتوں کو ہر قسم کی لکڑی کو ان کے سازوسامان کو، کپڑوں کو حتی کہ دروازوں کی کیلوں تک کو کھالیا، وہ ٹڈیاں ہر چیز کو کھا رہی تھیں اور ان کی بھوک ختم نہیں ہو رہی تھی۔ تب قطبی بہت چیخے چلائے اور بہت فریاد کی اور کہا : اے موسیٰ ! آپ سے آپ کے رب نے جو وعدہ کیا ہے اس وعدہ کے واسطے اپنے رب سے دعا کیجیے اگر اس نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور انہوں نے حضرت موسیٰ سے بہت پختہ وعدہ کیا اور بہت پکی قسمیں کھائیں۔ ان پر ٹڈیوں کا یہ عذاب ایک سنیچر سے دوسرے سنیچر تک رہا تھا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے ٹڈیوں کا یہ عذاب دور کردیا۔ بعض احادیث میں ہے کہ ٹڈیوں کے سینہ پر لکھا ہوا تھا : ” جنداللہ الاعظم ” (اللہ کا عظیم لشکر)

ایک روایت یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا فضا میں مشرق سے مغرب کی طرف گھمایا تو ٹڈیاں جہاں سے آئی تھیں وہیں واپس چلی گئیں، ان کے کھیتوں میں جو بچا کھچا غلہ باقی رہ گیا تھا انہوں نے کہا یہ بھی کافی ہے اور ہم اپنے دین کو نہیں چھوڑیں گے، انہوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اپنی بداعمالیوں پر ڈٹے رہے۔ سو وہ ایک ماہ تک عافیت سے رہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر قمل بھیج دیں، قمل کی تفسیر میں اختلاف ہے، سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ گندم کے جو سرسریاں وغیرہ نکلتی ہیں وہ قمل ہیں، مجاہد، سدی، قتادہ اور کلبی وغیرہ نے کہا ہے کہ قمل بغیر پروں کی ٹڈیاں ہیں، بعض نے کہا وہ چیچڑ کی ایک قسم ہیں اور بعض نے کہا وہ جوئیں ہیں اور بعض نے کہا وہ ایک قسم کا کیڑا ہے، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا : وہ شہر سے باہر بستیوں کے پاس کسی بڑے ٹیلے کے پاس جائیں اور اس ٹیلے پر اپنا عصا مریں، عصا مارنے سے اس ٹیلے کے اندر سے وہ کیڑے (قمل) پھوٹ پڑے، وہ ان کے بچے کھچے کھیتوں کو کھا گئے وہ ان کے کپڑوں میں گھس گئے، ان کا کھانا ان کیڑوں سے بھرجاتا وہ ان کے بالوں میں، ان کی پلکوں میں، ان کی بھنؤؤں میں گھس گئے، وہ ان کے ہونٹوں اور ان کی کھالوں میں گھسنے لگے۔ ان کا چین وقرار جاتا رہا، وہ سو نہیں سکتے تھے، بالآخر وہ بےچین اور بےقرار ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے اور رو رو کر فریاد کی اور کہا : ہم توبہ کرتے ہیں آپ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے یہ عذاب اٹھالے، ان پر سات دن یہ عذاب رہا تھا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ان سے یہ عذاب اٹھا لیا گیا، لیکن انہوں نے پھر عہد شکنی کی اور دوبارہ برے اعمال شروع کردیے اور کہنے لگے کہ ہم یہ یقین کرنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ ایک جادوگر ہیں جنہوں نے ریت کے ٹیلے کو قمل سے بدل ڈالا، پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر مینڈکوں کا عذاب بھیجا۔ جس سے ان کے گھر اور ان کے صحن بھر گئے، ان کے کھانے اور کھانے کے برتن مینڈکوں سے بھر گئے، وہ جب بھی کسی کھانے کے برتن کو یا کھانے کو کھولتے تو اس میں مینڈک بھرے ہوئے ہوتے۔ جب کوئی شخص بیٹھتا تو مینڈک اچھل کر اس کی ٹھوڑی پر چڑھ جاتے اور جب وہ بات کرنا چاہتا تو مینڈک پھدک کر اس کے منہ کے اندر چلے جاتے، وہ ان کی دیگچیوں میں اچھل کر چلے جاتے اور ان کا کھانا خراب کردیتے اور ان کی آگ بجھا دیتے۔ وہ جب سونے کے لیے کروٹ لیتے تو دوسری جانب مینڈکوں کا ڈھیر لگ جاتا اور وہ کروٹ نہ بدل سکتے۔ وہ منہ میں نوالہ ڈالنے کے لیے منہ کھولتے تو نوالہ سے پہلے مینڈک منہ میں چلا جاتا، وہ آٹا گوندھتے تو آٹے میں مینڈک لتھڑ جاتے، اور جب وہ سالن کی دیگچی کھولتے تو وہ دیگچی مینڈکوں سے بھری ہوئی ہوتی تھی۔ 

حضرت عباس نے فرمایا : پہلے مینڈک خشکی کے جانور تھے لیکن جب انہوں نے اللہ کے حکم کی اطاعت کی اور جوش کھاتی ہوئی دیگچی میں پھدک کر چلے جاتے اور بھڑکتے ہوئے تنور میں چھلانگ لگا دیتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اچھی اطاعت کی وجہ سے ان کو پانی کا جانور بنادیا۔ قبطیوں پر ایک ہفتہ تک مینڈکوں کا عذاب رہا۔ وہ پھر روتے پیٹتے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے اور بہت معافی مانگی اور توبہ کی اور قسمیں کھائیں اور بہت پکے وعدے کیے کہ وہ اب وعدہ نہیں توڑیں گے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، اللہ تعالیٰ نے ان سے مینڈکوں کا عذاب اٹھا لیا، اور وہ ایک ماہ تک آرام اور عافیت کے ساتھ رہے، پھر انہوں نے اپنے وعدوں اور قسموں کو توڑ دیا اور اپنے کفر کی طرف لوٹ گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر ان کے خلاف دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خون کا عذاب بھیجا، پھر دریائے نیل میں خون بہنے لگا۔ ان کے گھروں میں رکھا ہوا پانی خون بن گیا۔ وہ کنوؤں اور نہروں سے جو پانی لاتے تھے وہ سرخ رنگ کا گاڑھا خون ہوتا تھا۔ انہوں نے فرعون سے شکایت کی کہ اب تو ہمیں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے۔ فرعون نے کہا کہ یہ موسیٰ کا جادو ہے، قبطیوں نے کہا یہ جادو کہاں سے ہوگیا ہمارے تمام برتنوں میں سرخ سیال خون بھرا ہوا ہے، پھر فرعون نے قبطی اور اسرائیلی کو جمع کیا قبطی کے پیالہ میں خون ہوتا اور اسرائیلی کے پیالہ میں پانی ہوتا، پھر جب قبطی اسرائیلی کا پیالہ لے کر پانی پینا چاہتا تو اس کے منہ کے پاس جا کر خون بن جاتا، وہ پانی کے متکوں کو دیکھتے تو قبطی کے مٹکے میں خون ہوتا اور اسرائیلی کے مٹکے میں پانی ہوتا حتی کہ پیاس سے مجبور ہو کر قوم فرعون کی عورت اسرائیلی کے پاس جا کر پانی انگتی۔ اسرائیلی اس کو پیالے میں پانی دیتا لیکن قبطی عورت جب اس سے پیالہ کو پکڑتی تو وہ خون بن جاتا۔ پھر وہ عورت اسرائیلی سے کہتی کہ تم میرے منہ میں اس پانی کی کلی کردو، جب اسرائیلی کلی کرتا تو قبطی کے منہ میں پہنچ کر وہ پانی خون بن جاتا۔ اور فرعون کو جب پیاس لگتی تو وہ درختوں کی ترچھال کو چباتا اور اس میں سے سخت کھارا اور کڑوا پانی نکلتا۔ وہ سات دن تک اس سخت عذاب میں مبتلا رہے اور خون کے سوا کوئی چیز نہ پی سکے۔ پھر وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس روتے پیٹتے ہوئے آئے اور کہنے لگے : اے موسیٰ ! اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہم سے اس عذاب کو اٹھا لے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنو اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ عذاب اٹھا لیا، ان پر طوفان، ٹڈی دل، سرسریوں، مینڈکوں اور خون کا عذاب پے بہ پے آیا، ہر عذاب کا دورانیہ سات دن تھا۔ اور دو عذابوں کے درمیان عافیت کا وقفہ ایک ماہ تھا۔ لیکن ہر قسم کا عذاب بھگتنے کے باوجود وہ راہ راست پر نہیں آئے اور وہ ایمان لانے سے تکبر کرتے رہے اور در اصل وہ تھے ہی مجرم لوگ (معالم التنزیل ج 2، ص 160 ۔ 161، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، تفسیر ابن ابی حاتم ج 5، ص 1544 ۔ 1549 ۔ جامع البیان جز 9، ص 46 ۔ 50 ۔ زاد المسیر، ج 3، ص 250 ۔ 251 ۔ الدر المنثور، ج 3، ص 520)

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ قوم فرعون ایمان نہیں لائے گی تو پھر اتنے معجزات دکھانے کی کیا ضرورت تھی !

امام رازی نے اس کے دو جوابات دیے ہیں، ایک جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک ہے جو چاہے کرے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ علم تھا کہ اس قدر معجزات دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے، اور اس کا یہ جواب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرعون کی قوم کی شقاوت اور قساوت دکھانا چاہتا تھا، کیونکہ اس قوم کو بعد میں سمندر میں غرق کردیا گیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے بار بار نشانیاں دکھا کر اپنی حجت پوری کی تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ قوم فرون کو غرق کردیا گیا اگر ان کو موقع دیا جاتا تو ہوسکتا تھا وہ ایمان لے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بار بار مواقع دیے لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی اور تکبر پر قائم رہے اور ایمان نہ لائے۔

علامہ قرطبی مالکی متوفی 668 ھ نے لکھا ہے کہ اسرائیل نے ازسماک از نوف شامی روایت کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ساحروں پر غلبہ پانے کے بعد چالیس سال تک رہے اور بیس سال تک انہیں مختلف معجزات دکھاتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کردیا۔ (الجامع لاحکام القرآن جز 7، ص 240، مطبوعہ دار الفکر، بیروت، 1415 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 132