أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اَخَذۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ بِالسِّنِيۡنَ وَنَقۡصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَذَّكَّرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے فرعون کے متبعین کو کئی سال قحط اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا تاکہ وہ نصیحت قبول کریں

تفسیر:

130 ۔۔ تا۔۔ 131:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور بیشک ہم نے فرعون کے متبعین کو کئی سال قحط اور پھلوں کی پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔ پس جب ان پر حوشحالی آتی تو وہ کہتے کہ یہ ہمارے سبب سے ہے اور جب ان پر بدحالی آتی تو وہ اس کو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی نحوست قرار دیتے، سنو ! ان کافروں کی نحوست اللہ کے نزدیک (ثابت) ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے “

مشکل اور اہم الفاظ کے معانی :

آل فرعون : فرعون کی قوم اور اس کے خواص اور یہ اس کے درباریوں کی جماعت ہے۔ ” آل ” کا استعمال کسی شخص کے قرابت داروں میں ہوتا ہے۔ جیسے آل ابراہیم اور آل عمران یا اس کا استعمال کسی کے متبعین اور اس کے پیروکاروں میں ہوتا ہے۔ جیسے قران مجید میں ہے : ” ادخلوا آل فرعون اشد العذاب : فرعون کے متبعین کو بہت سخت عذاب میں ڈال دو ” (المومن :46) ۔ اس کی پوری تحقیق ہم نے البقرہ : 149 میں کی ہے۔ 

سنین : یہ سنۃ کی جمع ہے جس کا معنی سال ہے، لیکن اس کا اکثر استعمال ان سالوں کے لیے کیا جاتا ہے جس میں خشک سالی اور قحط ہو، حدیث میں ہے : ” واجعلہا علیہم کسنی یوسف : اے اللہ ان پر یوسف (علیہ السلام) کی طرح قحط کے سال مقرر کردے ” (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 804 ۔ صحیح مسلم، المساجد، 294، 675، 1512 ۔ سنن نسائی، رقم الحدیث : 1074 ۔ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :1074، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : 1244، مسند احمد بن حنبل، ج 2 ص 239)

الحسنۃ : ہر اس چیز کو حسن کہتے ہیں جو خوبصورت ہو اور اس کی طرف رغبت کی جاتی ہو، اس کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو حساً حسن ہو جیسے خوبصورت چہرے، خوب صورت نقوش وغیرہ، دوسری وہ جو عقلاً حسن ہو جیسے فائدہ مند اور نفع آور کام، دوا اور پرہیز وغیرہ۔ تیسری وہ جو شرعاً حسن ہوں جیسے ایمان اور اعمال صالحہ اور الحسنہ ہر اس نعمت کو کہتے ہیں جس کے حصول سے انسان اپنی روح، بدن اور احوال میں فرحت اور سرور کو پائے، یہاں الحسنہ سے مراد ہے کھیتوں اور باغات کا سرسبز اور شاداب ہونا اور زمین کا زرخیز ہونا اور السیئہ اس کی ضد ہے یعنی خشک سالی اور قحط۔

لیطیروا : تطیر اور تشاءم کا معنی ہے بدشگونی اور بدفالی نکالنا، حدیث میں ہے : ” لاعدوی ولا طیرۃ ” کوئی مرض بنفسہ متعدی نہیں ہوتا اور نہ کوئی بدشگونی ہے (صحیح البخاری، رقم لحدیث : 5753 ۔ صحیح مسلم، سلام : 102، (2220) 5680، مسند احمد، ج 1، ص 174)

نیز حدیث میں ہے تین چیزوں میں سے کوئی شخص سلامت نہیں : ” الطیرۃ والحسد والظن ” بدشگونی، حسد اور بدگمانی، کہا گیا پھر ہم کیا کریں ؟ فرمایا : جب تم بدشگونی نکالو تو اپنے کام پر روانہ ہو، اور جب تم حسد کرو تو اس کے درپے نہ ہو اور جب تم بدگمانی کرو تو اس کی تحقیق نہ کرو۔ (کنزل العمال رقم الحدیث : 43789، فتح الباری، ج 10، ص 482)

ایک اور حدیث میں ہے الطیرۃ شرک بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے کوئی شخص نہیں ہے مگر۔۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 3910 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1620، ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3538 ۔ مسند احمد، ج 1، ص 440، 389)

حدیث کا معنی یہ ہے کہ بدشگونی کو موثر حقیقی اعتقاد کرنا شرک ہے اور ہم میں سے ہر شخص کے دل میں بدشگونی کا خیال آتا ہے۔ لیکن اللہ پر توکل سے بدشگونی زائل ہوجاتی ہے۔

قوم فرعون پر پے در پے بلائیں اور آفتیں نازل کرنے کی حکمت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : عنقریب تمہارا رب تمہارے دشمن و ہلاک کردے گا، اور اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اس نے وقفہ وقفہ سے فرعون کی قوم پر عذاب نازل فرمایا تاکہ ان پر الہ تعالیٰ کی حجت پوری ہو، ایک قسم کا عذاب نازل کرنے کے بعد ان کو توبہ کرنے اور رجوع کرنے کا موقع دیا۔ پھر دوسری قسم کا عذاب نازل فرمایا۔ اور اس طرح وقفہ وقفہ سے چھ قسم کا عذاب نازل فرمایا، لیکن جب انہوں نے کسی طرح رجوع نہیں کیا تو پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سمندر میں غرق کردیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوگیا کہ اس نے بنو اسرائیل کے دشمن کو ہلاک کردیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان پر پے بہ پے مصائب اور بلائیں اس لیے نازل فرمائیں کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کریں کیونکہ انسان کی عات ہے کہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کا دل نرم ہوجاتا ہے اور وہ تکلیف اور گھبراہٹ میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے : ” واذا مسکم الضر فی البحر ضل من تدعون الا ایاہ : اور جب تم کو سمندر میں آفت پہنچتی ہے تو اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ سب گم ہوجاتے ہیں ” (بنو اسرائیل : 67) ۔ ” واذا مس الانسان ضر دعا ربہ منیبا الیہ : اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے در آنحالیکہ وہ اس کی طرف رجوع کر رہا ہوتا ہے ” (الزمر :8) ۔ پس جب ان پر خوش حالی آتی تو وہ یہ کہتے کہ یہ ہمارے سبب سے ہے اور جب ان پر بدحالی آتی تو وہ اس کو موسیٰ اور ان کے اصحاب کی نوحست قرار دیتے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ ان کو متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو پے بہ پے آفتیں اور بلائیں نازل کیں ان سے انہوں کوئی سبق یا نصیحت حاصل نہیں کی بلکہ ان کا کفر اور سرکشی اور بڑھ گئی، اور اللہ تعالیٰ جب بھی ان کو سرزنش اور نصیحت کرنے کے لیے ان پر کوئی مصیبت نازل فرماتا تو وہ اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کی نحوست قرار دیتے۔ اسلام نے کسی چیز سے برا شگون نکالنے یا کسی چیز کو منحوس سمجھنے کی بہت مذمت کی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز سے نیک شگون تو لیتے تھے لیکن بدشگونی کی آپ نے مذمت فرمائی ہے۔ 

فال اور شگون نکالنے کی تحقیق :

امام رازی نے لکھا ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ آئے تو یہود نے اس کو بدشگونی کہا اور کہا : ان کے آنے سے چیزیں مہنگی ہوگئیں اور بارشیں کم ہوگئیں۔ عرب بدفالی اور بدشگونی کو طائر، تطیر اور طیرہ کہتے تھے وہ طائر (پرندہ) سے فال نکالتے اور فال نکالنے کے لیے پرندہ کو اڑاتے۔ پھر اگر پرندہ دائیں جانب سے آتا تو اس کو نیک شگون قرار دیتے اور اگر وہ بائیں جانب سے آتا تو اس کو بدشگون قرار دیتے۔ اس کے بعد مطلقاً بدشگونی کے لیے طائر اور تطیر کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 344، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت، روح المعانی ج 9، ص 32، بیروت)

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی چیز سے بد فال نہیں نکالتے تھے، آپ جب کسی عامل کو بھیجتے تو اس کا نام پوچھتے اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے اور آپ کے چہرے پر بشاشت دکھائی دیتی، اور اگر آپ کو اس کا نام ناپسند ہوتا تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی دکھائی دیتی، اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو آپ اس کا نام پوچھتے اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے اور آپ کے چہرے پر بشاشت دکھائی دیتی اور اگر آپ کو اس کا نام ناپسند ہوتا تو آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی دکھائی دیتی۔ (سنن ابوداود، رقم الحدیث : 3920 ۔ مسند احمد، ج 5، ص 430، جامع الاصول، رقم الحدیث : 5798)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کلمہ (بات) سنا جو آپ کو اچھا لگا آپ نے فرمایا : ہم نے تمہارے منہ سے فال لے لی ہے (سنن ابو داود، رقم الحدیث :3917، جامع الاصول، رقم الحدیث : 5799)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کلمہ (بات) سنا جو آپ کو اچھا لگا آپ نے فرمایا : ہم نے تمہارے منہ سے فال لے لی ہے۔ (سنن ابو داود رقم الحدیث : 3917 ۔ جامع الاصول، رقم الحدیث : 5799)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی کام کے لیے روانہ ہوتے تو آپ کو یہ سننا اچھا لگتا یا راشد (اے ہدایت پانے والے) یا نجیح (اے کامیاب ہونے والے) ۔ (سنن الترمذی، رقم الحدیث : 3919 ۔ جامع الاصول، رقم الحدیث : 5801)

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا بدشگونی شرک ہے، حضرت ابن سعود نے کہا : ہم میں سے ہر شخص کو بدشگونی عارض ہوتی ہے اور اس کے دل میں اس سے سخت ناپسندیدگی آتی ہے لیکن اللہ پر توکل اس کو زائل کردیتا ہے۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 3910، سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1620 ۔ مسند احمد ج 1، ص 389، رقم الحدیث : 3687 ۔ سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 3538 ۔ الادب المفرد، رقم الحدیث : 909، جامع الاصول، رقم الحدیث : 5802)

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی مرض متعدی ہوتا ہے نہ کوئی بدشگونی ہے اور مجھ کو فال پسند ہے، صحابہ نے پوچھا : فال کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرایا : اچھی بات، نیک بات۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5754 ۔ صحیح مسلم، سلام، 110 (2223) ، 5690 ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 3916 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 1621 ۔ مسند احمد، ج 3، ص 130، سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث : 353 ۔ الادب المفرد، رقم الحدیث : 1615، جامع الاصول، رقم الحدیث : 5803)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی مرض متعدی ہوتا ہے نہ کوئی بدشگونی ہے، (اور اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو) تین چیزوں میں نحوست ہوتی، گھوڑے میں، عورت میں اور مکان میں۔ (صحیح البخاری، رقم الحدیث : 5093 ۔ صحیح مسلم، سلام : 115 (2225) ۔ سنن ابو داود، رقم الحدیث : 3922 ۔ سنن الترمذی، رقم الحدیث : 2833 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 3571 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 115، طبع قدیم، رقام الحدیث : 5963، طبع جدید، الادب المفرد، رقم الحدیث : 915 ۔ جامع الاصول رقم الحدیث : 5803)

حضرت رویفع (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بدشگونی کی وجہ سے اپنی مہم پر نہیں گیا وہ شرک میں آلودہ ہوگیا۔ (مسند البزار، رقم الحدیث : 3046 ۔ مجمع الزوائد، ج 5، ص 106)

بدشگونی کی ممانعت کا سبب : 

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852 ھ لکھتے ہیں : 

تطیر (بدشگونی) کی اصل وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین طیر (پرندہ) پر اعتماد کرتے تھے، جب ان میں سے کوئی شخص کسی کام کے لیے نکلتا تو وہ پرندوں کی طرف دیکھتا اگر وہ پرندہ دائیں طرف اڑتا تو وہ اس سے نیک شگون لیتا اور اپنے کام پر روانہ ہوجاتا اور اگر وہ پرندہ بائیں جانب اڑتا تو وہ اس سے بدشگونی نکالتا اور لوٹ آتا، بعض اوقات وہ کسی مہم پر روانہ ہونے سے پلے خود پرندہ کو اڑاتے تھے، پھر جس جانب وہ اڑتا تھا اس پر اعتماد کرکے اس کے مطابق مہم پر روانہ ہوتے یا نہ ہوتے۔

جب شریعت آگئی تو اس نے ان کو اس طریقہ سے روک دیا، چونکہ مشرکین بدفال اور بدشگون پر اعتماد کرتے تھے تو مسلمانوں میں بھی اس کے اثرات آگئے۔ اس وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزوں سے کوئی شخص خالی نہیں ہوتا، بدشگونی، بدگمانی، اور حسد۔ پس جب بدشگونی نکلے تو تم واپس نہ ہونا، اور جب تم حسد کرو تو اس کو طلب نہ کرنا اور جب تم بدگانی کرو تو اس کی تحقیق نہ کرنا اور تم اللہ ہی پر توکل کرو، اس حدیث کو امام عبدالرزاق نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام بیہقی اور امام ابن عبدی نے حضرت ابوہریرہ (رض) علیہ وسلم سے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص کاہن کے پاس گیا یا جس نے تیر سے فال نکالی یا جو شخص بدشگونی کی وجہ سے سفر سے واپس آگیا وہ بلند درجات کو نہیں پاسکتا۔ نیز امام ابوداود، امام ترمذی اور امام ابن حبان نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدشگونی نکالنا شرک ہے، آپ نے اس کو شرک اس لیے قرار دیا کہ ان کا اعتقاد یہ تھا کہ شگون اور فال کی وجہ سے کوئی نفع حاصلہوتا ہے یا کوئی ضرر دور ہوتا ہے، گویا انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شگون کو شریک کرلیا اور جس نے بدشگونی پروا نہیں کی اور سفر پر روانہ ہوگیا تو اس پر اس بدشگونی کا اثر نہیں ہوگا۔ (فتح الباری ج 10 ص 213، مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ، لاہور۔ 1401)

نیک فال کے جواز کا سبب اور بدفال کو شرک قرار دینے کی توجیہ : 

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں : بدشگونی یہ ہے کہ انسان کوئی بات سنتا ہے یا کوئی چیز دیکھتا ہے اور اس سے اس کو یہ خوف ہوتا ہے کہ جس چیز کو اس نے حاصل کرنے کا قصد کیا ہے وہ حاصل نہیں ہوسکے گی اور فال اس کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کوئی بات سنے یا کوئی چیز دیکھے تو پھر یہ امید رکھے کہ جس چیز کو اس نے حاصل کرنے کا قصد کیا ہے وہ حاصل ہوجائے گی۔ اسی وجہ سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور سب سے اچھی چیز فال ہے۔ (صحیح مسلم رقم :2233 ۔ صحیح بخاری رقم :2755 ۔ مسند احمد، ج 2، ص 266)

حضرت بریدہ بن حصیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدشگون نہیں لیتے تھے لیکن آپ (نیک) فال نکالتے تھے۔ حضرت بریدہ اپنے اہل قبیلہ بنی سہم کے ستر نفر کے ساتھ (ہجرت کے سفر میں) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گرفتار کرنے کے لیے پہنچے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا بریدہ ! تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر کی طرف مڑ کر فرمایا : برد امرنا و صلح۔ ہمارا معاملہ ٹھنڈا اور اچھا ہوگیا۔ (آپ نے بریدہ سے برد کی فال نکالی اور برد کا معنی ہے، ٹھنڈا ہونا۔ سعیدی) پھر فرمایا : تم کن لوگوں سے ہو ؟ میں نے کہا، اسلم سے، آپ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا : ” سلمنا ” ہم سلامتی سے رہیں رہیں گے۔ پھر فرمایا تم کسی قبیلہ سے ہو ؟ میں نے کہا بنو سہم سے، آپ نے فرمایا : خرج سہمنا، ہمارا حصہ نکل آیا۔ (الاستیعاب علی ھامش الاصابہ، ج 1، ص 174، اسد الغابہ، ج 1، ص 196)

آپ فال کو اس لیے پسند فرماتے تھے کہ نیک فال سے انشراح نفس (شرح صدر، تسکین قلب) ہوجاتا ہے، اور انسان کو جب یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس کی حاجت پوری ہوجائے گی اور اس کی امید بر آئے گی اور وہ اللہ تعالیٰ سے بھی یہ حسن ظن رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہ فرمایا ہے کہ میں بندہ کے گمان کے ساتھ ہوں اور آپ بد شگونی کو اس لیے ناپسند فرماتے تھے کہ یہ مشرکین کا عمل ہے اور اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی ہوتی ہے، جیسا کہ امام ابوداود نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : بدشگونی شرک ہے اور جو شخص بدشگونی کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (یعنی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طریقہ پر نہیں ہے) سوا اس شخص کے جو بدشگونی کے باوجود اپنی مہم پر روانہ ہوجائے اور بدشگونی کی بالکل پرواہ نہ کرے۔ البتہ انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ اس کے دل میں بدشگونی کا بالکل خیال نہ آئے، یہی وجہ ہے کہ جب حضرت معاویہ بن الحکم نے عرض کیا کہ ہم میں سے بعض لوگ بدشگونی کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا : یہ وہ چیز ہے جو ان کے دلوں میں کھٹکتی ہے تو وہ اس کے درپے نہ ہوں، اور بعض روایات میں ہے اس سے ان کو ضرر نہیں ہوگا، لیکن جب انسان اللہ پر توکل کرے تو بدشگونی جاتی رہتی ہے، اسی لیے آپ نے فرمایا : جب تم بدشگونی نکالو، تو اپنی مہم پر روانہ ہو اور اللہ پر توکل کرو۔ (الکامل ابن عدی، ج 4، ص 1523)

عورت، مکان اور گھوڑے میں بدشگونی کی توجیہ : 

بدشگونی نیک فال کی ضد ہے۔ آپ نے فرمایا : شوم (بدشگنوی یا نحوست) کوئی چیز نہیں ہے، شوم صرف تین چیزوں میں ہے : عورت، گھوڑا اور مکان۔ (صحیح بخاری رقم الحدیث : 5772، 5753 ۔ صحیح مسلم رقم الحدیث : 2225 ۔ سنن الترمذی رقم الحدیث : 2833 ۔ سنن النسائی رقم الحدیث : 3571)

بعض علماء نے یہ کہا کہ اس حدیث میں نفی کے عموم سے یہ تین چیزیں مستثنی ہیں اور ان تین چیزوں میں فی الواقع شوم ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس حدیثکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ جیسے زمانہ جاہلیت میں مشرکین بعض چیزوں سے بدشگونی لیتے تھے اور ان کو منحوس (بےبرکت) کہتے تھے اسی طرح ان تین چیزوں میں نحوست ہے، اور یہ چیزیں فی الواقع مضر ہیں، بلکہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی مخصوص مکان یا کسی مخصوص عورت کے متعلق انسان کے دل میں خیال آئے کہ یہ منحوس ہے تو وہ اپنے اطمینان کے لیے دوسرا مکان بدل لے یا دوسری عورت سے نکاح کرلے، لیکن وہ یہ اعتقاد رکھے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی چیز اپنی ذات میں مضر نہیں ہے اور ہر چیز کا وہی خالق ہے اور اس کی نظیر یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جذام کے مریض سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہیں اور یہ جواب ہر اس چیز میں جاری ہوسکتا ہے جس کے متعلق انسان کے دل میں یہ خیال آئے کہ وہ منحوس ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جس علاقہ میں طاعون پھیلا ہوا ہو وہاں جانے سے منع کیا ہے، اور وہاں کے رہنے والوں کو اس علاقہ سے نکلنے سے بھی منع کیا ہے اور اگر مکان، عورت اور گھوڑے میں نحوست ہو تو اس کو تبدیل کرنے کی رخصت ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں تین قسم کی چیزیں ہیں ؟ 

پہلی قسم وہ ہے جس سے بلکل ضرر نہیں ہوتا، نہ ہمیشہ نہ اکثر اوقات، نہ بعض اوقات، نہ نادراً یہی وجہ ہے کہ شریعت نے اس کا بالکل اعتبار نہیں کیا جیسے کسی سفر میں کوے کا ملنا، یا کسی گھر میں الو بولنا۔ زمانہ جاہلیت میں مشرکین ان چیزوں میں ضرر کا اعتقاد کرتے تھے اور ان کو منحوس اور بدشگون کہتے تھے، اسلام نے ان کا رد کیا اور کہا : ان میں کوئی بد شگونی نہیں ہے۔

دوسری قسم وہ ہے جس میں بالعموم ضرر ہو مثلا کسی علاقہ میں طاعون ہو یا اور کوئی وبا ہو تو احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اس علاقہ میں جانا نہیں چاہیے اور وہاں سے بھاگنا بھی نہیں چاہیے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ بھاگنے والے کو ضرر لاحق ہوجائے اور بھاگنے کے سلسلہ میں اس کی محنت رائیگاں چلی جائے۔ 

تیسری قسم وہ ہے جس کا ضرر کلیۃً نہ ہو، بعض صورتوں میں ہو اور اکثر میں نہ ہو، مثلاً زیادہ عرصہ کسی مکان میں رہنے سے ضرر ہو یا بیوی یا گھوڑے سے کوئی ضرر پہنچے تو اس کو تبدیل کرنے کی رخصت ہے۔ (المفہم، ج 6، ص 626 ۔ 631، مطبوعہ دار ابن کثیر دمشق، یروت، 1417 ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن خلیفہ و شتانی ابی مالکی لکھتے ہیں : 

بعض روایات اس طرح ہیں ” اگر کسی چیز میں شوم (نحوست) ہو تو وہ عورت، کان اور گھوڑے میں ہے ” (صحیح مسلم، سلام، 117 ۔ 118)

اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ ان تین چیزوں میں قطعیت کے ساتھ بدشگونی یا نحوست نہیں ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز میں نحوست نہیں ہے لیکن اگر تم میں سے کوئی اپنے مکان میں رہنے کو ناپسند کرتا و تو اس مکان کو تبدیل کردے اور اگر کوئی شخص بیوی کو ناپسند کرتا ہو تو اس کو طلاق دے اور گھوڑا پسند نہ ہو تو اس کو فروخت کردے۔ ایک جواب یہ ہے کہ مکان کی نحوست یہ ہے کہ مکان تنگ ہو یا اس کے پڑواسی اچھے نہ ہوں، اور گھوڑے کی نحوست یہ ہے کہ اس کے ساتھ جہاد نہ کیا جاسکے اور عورت کی نحوست یہ ہے کہ اس سے اولاد نہ ہو۔ اور یہ نحوست اس معنی میں نہیں ہے جس معنی میں زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں سے نحوست اور بدشگونی کا معنی یہ تھا کہ کسی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے انسان کسی چیز کو دیکھ لے یا اس کی آواز سن لے تو پھر وہ ناکام ہوجائے، اور عورت، گھوڑے اور مکان میں جس قسم کی نحوست بیان کی گئی ہے یہ وہ نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نحوست کی نفی اور اثبات کے محل الگ الگ ہیں۔ ایک اور جواب یہ ہے کہ عورت، گھوڑے اور مکان میں شوم کا معنی تطیر (بدشگونی یا نحوست) نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ یہ چیزیں اس کی طبیعت کے موافق نہ ہوں عورت کی سعادت یہ ہے کہ وہ صالحہ (نیک) ہو اور مکان کی سعادت یہ ہے کہ وہ وسیع ہو اور گھوڑے کی سعادت یہ ہے کہ اس پر آسانی سے سواری ہوسکے، اور ان کی شقاوت یہ ہے کہ یہ چیزیں اچھی نہ ہوں، علامہ طیبی نے یہ کہا ہے کہ ان تین چیزوں میں شوم نہیں ہے اور حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں شوم ہوسکتی ہے تو ان تین چیزوں میں ہوسکتی تھی کیونکہ انسان ان چیزوں کے ساتھ زیادہ رہتا ہے تو اگر نحوست ہوتی تو ان میں ہوتی اور جب ان میں نحوست نہیں ہے تو کسی چیز میں نحوست نہیں ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج 7، ص 428 ۔ 429، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1415 ھ)

بعض لوگ بعض دنوں یا بعض مہینوں کو منحوس سمجھتے ہیں یا بعض کام بعض دنوں میں اچھا نہیں جانتے اور اس سلسلہ میں بعض ضعیف یا بعض موضوع روایات بھی پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان احادیث صحیح کے سامنے یہ تمام امور باطل ہیں، تمام دن اللہ کے بنائے ہوئے ہیں اور کسی میں کوئی نحوست نہیں ہے اور اس طرح کا عقیدہ رکھنا زمانہ جاہلیت کے مشرکین کے عقائد کی طرح ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس قس کے عقائد سے محفوظ رکھے۔ 

بدشگونی لینا کفار کا طریقہ ہے : 

قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی شخص یا کسی چیز کو منحوس قرار دینا کفار کا طریقہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” فاذا جاءتہم الحسنۃ قالوا لنا ھذہ وان تصبھم سیئۃ یطیروا بموسی و من معہ الا انما طئرہم عنداللہ ولکن اکثرم لا یعلمون : تو جب انہیں خوشحالی پہنچتی تو کہتے یہ ہماری وجہ سے ہے اور اگر انہیں کوئی بدحالی پہنچتی تو (اسے) موسیٰ اور ان کے اصحاب کی نحوست قرار دیتے سنو ان (کافروں) کی نحوست اللہ کے نزدیک (مقدر) ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے ” (الاعراف :131) ۔ ” قالوا انا تطیرنا بکم لئن لم تنتھوا لنرجمنکم ولیمسنکم منا عذاب اللیم : (کافروں نے) کہا ہم نے تم سے برا شگون لیا ہے، اگر تم باز نہ آئے تو ہم تمہیں ضرور سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا ” (یس :18) ۔ ” قالوا اطیرنا بک و بمن معک قال طئرکم عنداللہ بل انتم قوم تفتنون : (کافروں نے حضرت صالح سے) کہا : ہم نے آپ کے ساتھیوں سے برا شگون لیا ہے۔ (حضرت صالح نے) فرمایا : تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس، بلکہ تم لوگ فتنہ میں مبتلا ہو ” (النمل :47)

کسی چیز سے بدشگونی لینے یا کسی دن کو منحوس قرار دینے کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات :

علامہ شرف الدین حسین بن محمد بن عبداللہ الطیبی المتوفی 743 ھ لکھتے ہیں : 

(نیک) فال نکالنے کی رخصت ہے اور تطیر (بدشگونی) منع ہے۔ اگر کوئی انسان کسی چیز کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے اور وہ اس کو اپنی حاجت یا مہم پر جانے کے لیے ابھارے تو وہ اس پر عمل کرے، اور اگر وہ کوئی ایسی چیز دیکھے جس کو منحوس شمار کیا جاتا ہو اور وہ اس کو اس کی مہم پر جانے سے منع کرے تو اس پر عمل کرنا جائز نہیں بلکہ وہ اپنی مہم پر اور اپنی حاجت پوری کرنے کے لیے روانہ ہوجائے اور اگر اس نے اس بدشگونی کو قبول کرلیا اور اپنی مہم پر روانہ نہیں ہوا تو یہ طیرہ (بدشگونی) ہے۔ (الکاشف عن حقائق السنن ج 8، ص 313 ۔ 314، مطبوعہ ادارۃ القرآن، کراچی، 1413 ھ)

سنن ابو داود اور سنن ترمذی میں ہے الطیرۃ (بدشگونی لینا) شرک ہے، آپ نے اس کو اس لیے شرک فرمایا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں مشرکین جن چیزوں کو منحوس قرار دیتے تھے ان کو ناکامی اور نامرادی کے حصول میں سبب موثر خیال کرتے تھے اور یہ شرک جلی ہے اور اگر ان چیزوں کو من جملہ اسباب قرار دیا جائے تو پھر شرک خفی ہے۔ (الکاشف عن حقائق السنن۔ ج 7، ص 320)

حضرت سعد بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر کسی چیز میں شوم (نحوست) ہو تو وہ مکان، گھوڑے اور عورت میں ہے۔ (سنن ابو داود، رقم الحدیث : 3921 ۔ صحیح مسلم، سلام، 117 ۔ 118 ۔ شرح السنہ، ج 6، ص 273 ۔ مسند احمد، ج 1، ص 180)

اس حدیث میں شوم کا معنی نحوست نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے جو چیز شریعت اور طبیعت کے مخالف ہو اور مکان میں شوم یہ ہے کہ وہ تنگ ہو اور اس کے پڑوسی اچھے نہ ہوں، اور عورت میں شوم یہ ہے کہ وہ بانجھ ہو یا بدزبان ہو، اور گھوڑے میں شوم یہ ہے کہ اس پر جہاد نہ ہوسکے یا وہ اڑیل ہو یا بہت مہنگا ہو، اس کی تائید علامہ بغوی کی اس عبارت سے ہوتی ہے۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اگر تمہیں اپنا مکان رہائش کے لیے ناپسند ہو یا بیوی سے صحبت ناپسند ہو یا گھوڑا پسند نہ ہو تو وہ ان کو تبدیل کرلے حتی کہ اس کی ناپسندیدگی زائل ہوجائے۔ جیسا کہ حدیث میں ہے : حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : ہم پہلے ایک گھر میں رہتے تھے ہماری تعداد بھی بہت زیادہ تھی اور ہمارا مال بھی بہت زیادہ تھا، پھر ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہماری تعداد بھی بہت زیادہ تھی اور ہمارا مال بھی بہت زیادہ تھا، پھر ہم دوسرے گھر میں منتقل ہوگئے ہماری تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارا مال بھی کم ہوگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس گھر کو چھوڑ دو در آنحالیکہ یہ مذموم ہے۔ (سنن ابو داود رقم : 3924 ۔ سنن بیہقی ج 8، ص 140، کنز العمال رقم : 28640) 

رسول اللہ سلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس مکان سے اس لیے منتقل ہونے کا حکم دیا کیونکہ وہ لوگ اس گھر میں رہنے سے متوحش اور متنفر تھے اور وہ ان کے مزاج کے موافق نہ تھا، نہ اس لیے کہ اس مکان فی نفسہ کوئی نحوست تھی۔ (شرح السنۃ، ج 6، ص 274)

علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ قاضی عیاض نے اس حدیث کا یہ معنی کیا ہے کہ اگر کسی چیز میں شوم ہوتی تو ان تین چیزوں میں شوم ہوتی اور جب ان میں شوم نہیں ہے تو پھر کسی چیز میں شوم نہیں ہے۔ (الکاشف عن حقائق السنن ج 8، ص 321، مطبوعہ کراچی )

امام حسین بن مسعود بغوی متوفی 516 ھ لکھتے ہیں : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تطیر کو اس لیے باطل کہا ہے کہ نفع یا ضرر پہنچانے میں کسی چیز کی تاثیر نہیں ہے، انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے کام پر جائے خواہ فال اس کے موافق ہو یا مخالف، وہ اپنے رب پر توکل کرکے اپنی مہم پر روانہ ہو، زمانہ جاہلیت میں لوگ صفر کے مہینہ کو منحوس قرار دیتے تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو باطل فرمایا اور فرمایا : لا صفر۔۔۔ (شرح السنہ ج 6، ص 267، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت، 1412 ھ)

خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ مہینہ کا آخری بدھ دائمی منحوس ہے) (تاریخ بغداد، ج 14، ص 405، الموضوعات لابن الجوزی، ج 1، ص 375)

حافظ سیوطی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔ (الجامع الصغیرج 1، رقم : 8) اور بعض علماء نے اس کو موضوع کہا ہے۔ (سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ رقم : 1581) علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ اس کی اسانید ضعف اور وضع سے خالی نہیں۔ (اللآلی المصنوعہ ج 1، ص 439 ۔ 442)

علاہ شمس الدین عبدالروؤف المناوی الشافعی المتوفی 1021 ھ لکھتے ہیں : 

اس دن کا منحوس ہونا تطیر کی جہت سے نہیں ہے۔ اور یہ کیسے ہوسکتا ہے، تمام ایام اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور بعض ایام کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہیں۔ اور تطیر (بدشگونی) امو دین میں سے نہیں ہے بلکہ یہ فعل جاہلیت سے ہے، نجومی کہتے ہیں کہ بدھ کا دن عطارد کا دن ہے اور عطارد منحوس ستارہ ہے اور ان کا یہ قول دین سے خارج ہے، یہ دن قوم عاد کے لیے نامبارک تھا کیونکہ اس دن ان پر عذاب آیا تھا۔ سو اس دن کو منحوس فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ اس دن اللہ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ اس دن اللہ کا عذاب آیا تھا، اور اللہ سے بکثرت توبہ اور استغفار کرنا چاہیے جس طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب الحجر میں گئے تو آپ نے فرمایا ان معذبین کے پاس سے روتے ہوئے گزرنا، اول تو ٰیہ حدیث سنداً ضعیف یا موضوع ہے اور یہ ان احادیث صحیحہ سے تصادم اور تعارض کی صلاحیت نہیں رکھتی جن میں یہ تصریح ہے کہ کسی چیز میں شوم یا نحوست نہیں ہے اور برتقدیر تسلیم اس کی یہی راویل ہے کہ یہ دن قوم عاد کے لیے نامبارک ثابت ہوا تھا، اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ قیامت تک کے لیے یہ دن ہر شخص کے لیے نامبارک ہے، علامہ شامی نے دیلمی کی سند ضعیف سے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ جس نے بدھ کے دن ناخن تراشے اس سے وسوسہ اور خوف نکل جاتا ہے اور اس کو امن اور شفا حاصل ہوتی ہے۔ (رد المحتار، ج 5، ص 260)

اور منہاج الحلیمی میں اور شعب البیہقی میں یہ حدیث ہے کہ بدھ کے دن زوال کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اور صاحب الہدایہ نے کتاب تعلیم و تعلم میں لکھا ہے کہ بدھ کے دن جو کام شروع کیا جائے وہ پورا ہوجاتا ہے۔ علامہ مناوی نے بدھ کی سعادت اور برکت کے متعلق بہت سے اقوال نقل کیے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب سے یہ دنیا بنی ہے ہفت کے دنوں میں سے ہر دن میں کوئی نہ کوئی مصیبت اور آفت نازل ہوئی اور ہر دن میں کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہے اس لیے کوئی دن بھی منحوس نہیں ہے۔ تمام دن اللہ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کسی دن بھی کوئی کام کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے۔ احادیث صحیحہ سے یہی ثابت ہے اور جن روایات میں بعض ایام کی نحوست کا ذکر ہے وہ موضوع ہیں یاشدید ضعیف ہیں۔ (فیض القدیر ج 1، ص 86 ۔ 89، ملخصاً و موضحاً ، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ، 1418 ھ)

علامہ بدر الدین عینی حنفی 855 ھ لکھتے ہیں : 

زمانہ جاہلیت میں لوگ بدشگونی کی وجہ سے اپنے مطلوبہ کاموں کرنے سے رک جاتے تھے، شریعت اسلا نے بدشگونی کو باطل کیا اور اس سے منفع فرمایا اور یہ خبر دی کہ کسی نفع کے حصول یا کسی ضرر کے دور کرنے میں شگون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ (عمدۃ القاری ج 21، ص 247، مطبوعہ ادارہ الطباعۃ المنیریہ، مصر، 1348 ھ)

ملا علی قاری حنفی متوفی 1014 ھ لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدشگونی لینا شرک ہے “۔ کیونکہ زمانہ جاہلیت میں لوگوں کا عقیدہ تھا کہ بدشگونی کے تقاضے پر عمل کرنے سے ان کو نفع حاصل ہوتا ہے یا ان سے ضرر دور ہوتا ہے اور جب انہوں نے اس کے تقاضے پر عمل کیا تو گویا انہوں نے شرک کیا اور یہ شرک خفی ہے، اور اگر کسی شخص نے یہ اعتقاد کیا کہ حصول نفع یا دفع ضرر میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی چیز مستقل موثر ہے تو یہ شرک جلی ہے، آپنے اس کو شرک اس لیے فرمایا کہ وہ یہ اعتقاد کرتے تھے کہ جس چیز سے انہوں نے بدفالی لی ہے وہ مصیبت کے نزول میں موثر سب ہے اور بالعموم ان اسباب کا لحاظ کرنا شرک خفی ہے۔ خصوصاً جب اس کے ساتھ جہالت اور سوء اعتقاد بھی ہو تو اس کا شرک خفی ہونا اور بھی واضح ہے۔ (مرقات ج 9، ص 607، مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان، 1390 ھ) 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی حنفی متوفی 1052 ھ لکھتے ہیں : 

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لاطیرۃ ” یعنی حصول نفع اور دفع ضرر میں بدشگونی لینے کی کوئی تاثیر اور دخل نہیں ہے اور بدشگونی نہیں لینا چاہیے اور نہ اس کا اعتبار کرنا چاہیے، جو کچھ ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا، شریعت نے اس کو سبب نہیں بنایا۔ (اشعۃ اللمعات ج 3، ص 620، مطبوعہ تیج کمار لکھنؤ)

نیز شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں : نبھی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” لاصفر ” بعض علماء کے نزدیک اس سے مراد ماہ صفر ہے جو محرم کے بعد آتا ہے، عام لوگ اس ماہ کو مصیبتوں، بلاؤں اور آفتوں اور حادثوں کا مہینہ قرار دیتے تھے، یہ اعتقاد بھی باطل ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں۔ (اشعۃ اللمعات، ج 3، ص 620، مطبوعہ لکھنؤ)

بقیہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن راشد سے پوچھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد ” ولا صفر ” کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے کہا : لوگ ماہ صفر کے دخول کو منحوس سمجھتے تھے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” لا صفر ” یعنی صفر میں نحوست نہیں ہے۔ (مرقات ج 9، ص 4، مطبوعہ ملتان)

اس سے معلوم ہوا کہ کسی دن کو منحوس، نامسعود اور نامبارک خیال کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی 1340 ھ سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص کے متعلق مشہور ہے کہ وہ منحوس ہے اگر اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کسی کام کو جاتے ہوئے وہ سامنے آجائے تو ضور وقت اور پریشانی ہوتی ہے اور یہ بات بار بار کے تجربہ سے ثابت ہے، اب اگر کہیں کام کو جاتے ہوئے وہ سامنے آجائے تو لوگ اپنے مکان پر واپس آجاتے ہیں اور کام پر نہیں جاتے۔ اعلی حضرت اس کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں : 

الجواب : شرع مطہر میں اس کی کچ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔ شریعت میں حکم ہے۔ ” اذا تطیرتم فامضوا ” جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو، وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ ” اللہم لاطیر الا طیرک ولا خیر الا خیرک ولا الہ غیرک ” پڑھ لے اور اپنے رب پر بھروسہ کرکے اپنے کام کو چلا جائے، ہرگز نہ رکے نہ واپس آئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ ج 9، ص 129، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی 

بدشگونی کے سلسلہ میں خلاصہ بحث : 

خلاصہ یہ ہے کہ تمام دن اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ہیں اور کون دن نامسعود اور نامبارک نہیں ہے، اسی طرح تمام انسان اور اشیاء اللہ کی پیدا کردہ ہیں اور ان میں سے کوئی چیز منحوس نہیں ہے اور حوادث، آفات، بلاؤں اور مصائب کے نازل ہونے میں کسی چیز کا دخل نہیں ہے۔ بیماریوں، آفتوں اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا تعلق تکوین اور تقدیر سے ہے، دن اور کسی شے کا کسی شر کے حدوث اور کسی آفت کے نزول میں کوئی دخل اور اثر نہیں ہے، ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور بس ! اسی لیے کسی بھی ناجائز صحیح کام کو کسی دن اور کسی چیز کی خصوصیت کی وجہ سے ترک کرنا جائز نہیں ہے اور کوئی دن اور کوئی چیز منحوس، نامسعود اور نامبارک نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 130