وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًاؕ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-اَفَلَا تَتَّقُوْنَ(۶۵)

اور عاد کی طرف (ف۱۱۷) ان کی برادری سے ہود کوبھیجا (ف۱۱۸)کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تمہیں ڈر نہیں(ف۱۱۹)

(ف117)

یہاں عادِ اُولٰی مراد ہے ، یہ حضرت ہُود علیہ السلام کی قوم ہے اور عادِ ثانیہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ہے اسی کو ثَمُود کہتے ہیں ، ان دونوں کے درمیان سو برس کا فاصلہ ہے ۔ (جمل)

(ف118)

ہُود علیہ السلام نے ۔

(ف119)

اللہ کے عذاب کا ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ(۶۶)

اس کی قوم کے سردار بولے بے شک ہم تمہیں بیوقوف سمجھتے ہیں اور بے شک ہم تمہیں جھوٹوں میں گمان کرتے ہیں (ف۱۲۰)

(ف120)

یعنی رسالت کے دعوٰی میں سچا نہیں جانتے ۔

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ(۶۷)

کہا اے میری قوم مجھے بے وقوفی سے کیا علاقہ(تعلق) میں تو پروردگار عالم کا رسول ہوں

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ(۶۸)

تمہیں اپنے رب کی رسالتیں پہنچاتا ہوں اور تمہارا مُعَتَمدخیر خواہ ہوں(ف۱۲۱)

(ف121)

کُفّار کا حضرت ہُود علیہ السلام کی جناب میں یہ گستاخانہ کلام کہ تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں ، جھوٹا گمان کرتے ہیں ، انتہا درجہ کی بے ادبی اور کمینگی تھی اور وہ مستحق اس بات کے تھے کہ انہیں سخت ترین جواب دیا جاتا مگر آپ نے اپنے اَخلاق و ادب اور شانِ حِلۡم سے جو جواب دیا اس میں شانِ مقابَلہ ہی نہ پیدا ہونے دی اور ان کی جَہالت سے چشم پوشی فرمائی ۔ اس سے دنیا کو سبق ملتا ہے کہ سُفَہاء اور بدخِصَال لوگوں سے اس طرح مُخاطَبہ کرنا چاہئے مع ہٰذا آپ نے اپنی رِسالت اور خیر خواہی و امانت کا ذکر فرمایا ۔ اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اہلِ عِلم و کمال کو ضرورت کے موقع پر اپنے منصب و کمال کا اِظہار جائز ہے ۔

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْؕ-وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةًۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۶۹)

اور کیا تمہیں اس کا اَچَنبھا(تعجب)ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آئی تم میں کے ایک مرد کی معرفت کہ وہ تمہیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کا جانشین کیا (ف۱۲۲) اور تمہارے بدن کا پھیلاؤ بڑھایا (ف۱۲۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۲۴) کہ کہیں تمہارا بھلا ہو

(ف122)

یہ اس کا کتنا بڑا احسان ہے ۔

(ف123)

اور بہت زیادہ قوّت وطُولِ قامت عنایت کیا ۔

(ف124)

اور ایسے مُنۡعِم پر ایمان لاؤ اور طاعات و عبادات بجا لا کر اس کے احسان کی شکر گزاری کرو ۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۚ-فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۷۰)

بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو (ف۱۲۵) کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو (ف۱۲۶) ہمارے باپ دادا پوجتے تھے انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ (ف۱۲۷) جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو

(ف125)

یعنی اپنے عبادت خانہ سے حضرت ہُود علیہ السلام اپنی قوم کی بستی سے علیحدہ ایک تنہائی کے مقام میں عبادت کیا کرتے تھے جب آپ کے پاس وحی آتی تو قوم کے پاس آ کر سنا دیتے ۔

(ف126)

بُت ۔

(ف127)

وہ عذاب ۔

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌؕ-اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍؕ-فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ(۷۱)

کہا (ف۱۲۸) ضرور تم پر تمہارے رب کا عذاب اور غضب پڑ گیا (ف۱۲۹) کیا مجھ سے خالی ان ناموں میں جھگڑرہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے (ف۱۳۰) اللہ نے ان کی کوئی سند نہ اُتاری تو راستہ دیکھو (ف۱۳۱) میں بھی تمہارے ساتھ دیکھتا ہوں

(ف128)

حضرت ہود علیہ السلام نے ۔

(ف129)

اور تمہاری سرکشی سے تم پر عذاب آنا واجب و لازم ہوگیا ۔

(ف130)

اور انہیں پوجنے لگے اور معبود ماننے لگے باوجود یکہ ان کی کچھ حقیقت ہی نہیں ہے اور اُ لُوہیّت کے معنٰی سے قَطعاً خالی و عاری ہیں ۔

(ف131)

عذابِ الٰہی کا ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠(۷۲)

تو ہم نے اُسے اور اس کے ساتھ والوں کو (ف۱۳۲) اپنی ایک بڑی رحمت فرما کر نجات دی (ف۱۳۳) اور جو ہماری آیتیں جھٹلاتے (ف۱۳۴) تھے ان کی جڑ کاٹ دی (ف۱۳۵) اور وہ ایمان والے نہ تھے

(ف132)

جو ان کے مُتّبِع تھے اور ان پر ایمان لائے تھے ۔

(ف133)

اس عذاب سے جو قومِ ہُود پر اترا ۔

(ف134)

اور حضرت ہُود علیہ السلام کی تکذیب کرتے ۔

(ف135)

اور اس طرح ہلاک کر دیا کہ ان میں ایک بھی نہ بچا ۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ قومِ عاد اَحقاف میں رہتی تھی جو عُمَّان و حَضۡر مُوت کے درمیان عَلاقۂ یمن میں ایک ریگستان ہے ۔ انہوں نے زمین کو فِسق سے بھر دیا تھا اور دنیا کی قوموں کو اپنی جَفا کاریوں سے اپنے زورِ قوّت کے زُعم میں پامال کر ڈالا تھا ۔ یہ لوگ بُت پرست تھے ان کے ایک بُت کا نام صَداء ، ایک کاصَمُود ، ایک کا ہَباء تھا ۔ اللہ تعالٰی نے ان میں حضرت ہُود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ، آپ نے انہیں توحید کا حکم دیا ، شرک وبُت پرستی اور ظلم و جَفا کاری کی ممانَعت کی ، اس پر وہ لوگ منکِر ہوئے آپ کی تکذیب کرنے لگے اور کہنے لگے ہم سے زیادہ زور آور کون ہے ؟ چند آدمی ان میں سے حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے وہ تھوڑے تھے اور اپنا ایمان چھپائے رہتے تھے ۔ ان مؤمنین میں سے ایک شخص کا نام مَرثَد ابنِ سعد بن عضیر تھا وہ اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے جب قوم نے سرکشی کی اور اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام کی تکذیب کی اور زمین میں فساد کیا اور ستم گاریوں میں زیادتی کی اور بڑی مضبوط عمارتیں بنائیں ۔ معلوم ہوتا تھا کہ انہیں گمان ہے کہ وہ دنیا میں ہمیشہ ہی رہیں گے جب ان کی نوبت یہاں تک پہنچی تو اللہ تعالٰی نے بارش روک دی تین سال بارش نہ ہوئی اب وہ بہت مصیبت میں مبتلا ہوئے اور اس زمانہ میں دستور یہ تھا کہ جب کوئی بلا یا مصیبت نازِل ہوتی تھی تو لوگ بیت اللہ الحرام میں حاضر ہو کر اللہ تعالٰی سے اس کے دفۡع کی دعا کرتے تھے اسی لئے ان لوگوں نے ایک وفد بیت اللہ کو روانہ کیا، اس وفد میں قیل بن عنزا اور نعیم بن ہزال اور مرثد بن سعد تھے ، یہ وہی صاحب ہیں جو حضرت ہُود علیہ السلام پر ایمان لائے تھے اور اپنا ایمان مخفی رکھتے تھے ۔ اس زمانہ میں مکّۂ مکرَّمہ میں عمالیق کی سُکونت تھی اور ان لوگوں کا سردار معاویہ بن بکر تھا اس شخص کا نانِہال قومِ عاد میں تھا اسی علاقہ سے یہ وفد مکۂ مکرَّمہ کے حوالی میں معاویہ بن بکر کے یہاں مقیم ہوا اس نے ان لوگوں کا بہت اِکرام کیا ، نہایت خاطر و مَدارَات کی ، یہ لوگ وہاں شراب پیتے اور باندیوں کا ناچ دیکھتے تھے ۔ اس طرح انہوں نے عیش و نشاط میں ایک مہینہ بسر کیا ، معاویہ کو خیال آیا کہ یہ لوگ تو راحت میں پڑ گئے اور قوم کی مصیبت کو بھول گئے جو وہاں گرفتارِ بَلا ہے مگر معاویہ بن بکر کو یہ خیال بھی تھا کہ اگر وہ ان لوگوں سے کچھ کہے تو شاید وہ یہ خیال کریں کہ اب اس کو میزبانی گِراں گزرنے لگی ہے اس لئے اس نے گانے والی باندی کو ایسے اشعار دیئے جن میں قومِ عاد کی حاجت کا تذکِرہ تھا جب باندی نے وہ نظم گائی تو ان لوگوں کویاد آیا کہ ہم اس قوم کی مصیبت کی فریاد کرنے کے لئے مکّۂ مکرّمہ بھیجے گئے ہیں ، اب انہیں خیال ہوا کہ حرم شریف میں داخل ہو کر قوم کے لئے پانی برسنے کی دعا کریں اس وقت مرثد بن سعد نے کہا کہ اللہ کی قسم تمہاری دعا سے پانی نہ برسے گا لیکن اگر تم اپنے نبی کی اطاعت کرو اور اللہ تعالٰی سے توبہ کرو تو بارش ہو گی اور اس وقت مرثد نے اپنے اسلام کا اظہار کر دیا ، ان لوگوں نے مرثدکو چھوڑ دیا اور خود مکّۂ مکرَّمہ جا کر دعا کی ، اللہ تعالٰی نے تین اَبر بھیجے ایک سفید ، ایک سُرخ ، ایک سیاہ اور آسمان سے نِدا ہوئی کہ اے قیل! اپنے اور اپنی قوم کے لئے ان میں سے ایک ابۡر اختیار کر اس نے ابرِ سیاہ کو اختیار کیا بَایں خیال کہ اس سے بہت پانی برسے گا چنانچہ وہ ابر قومِ عاد کی طرف چلا اور وہ لوگ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے مگر اس میں سے ایک ہوا چلی وہ اس شدّت کی تھی کہ اونٹوں اور آدمیوں کو اُ ڑا اُ ڑا کر کہیں سے کہیں لے جاتی تھی ، یہ دیکھ کر وہ لوگ گھروں میں داخل ہوئے اور اپنے دروازے بند کر لئے مگر ہوا کی تیزی سے بچ نہ سکے اس نے دروازے بھی اُکھیڑ دیئے اور ان لوگوں کو ہلاک بھی کر دیا اور قدرتِ الٰہی سے سیاہ پرندے نمودار ہوئے جنہوں نے ان کی لاشوں کو اُٹھا کر سمُندر میں پھینک دیا ۔ حضرت ہُود مؤمنین کو لے کر قوم سے جُدا ہوگئے تھے اس لئے وہ سلامت رہے ۔ قوم کے ہلاک ہونے کے بعد ایمانداروں کو ساتھ لے کر مکّۂ مکرّمہ تشریف لائے اور آخر عُمر شریف تک وہیں اللہ تعالٰی کی عبادت کرتے رہے ۔