مختار النبی جو چاہیں جس کو نواز دیں اور جب چاہیں جس کے لیے شریعت کا حکم تبدیل کر دیں اللہ کے کرم سےامام احمد بن حنبلؒ اپنی مسند میں ایک روایت لاتے ہیں جسکی سند و متن یوں ہے

20287 – حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن رجل منهم، ” أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم على أنه لا يصلي إلا صلاتين، فقبل ذلك منه(مسند احمد،الناشر:مؤسسة الرسالة،برقم ۲۰۲۸۷)؎

ایک صاحب خدمت اقدس حضور سید عالم ﷺ میں حاضر ہو کر اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ صرف دو ہی نمازیں پڑھا کرے گا نبی پاکﷺ نے (اس شرط کو )قبول فرما لیااسکی سند کے بارے میں علامہ شعیب الارنووط لکھتے ہیں :

رجاله ثقات رجال الصحيح. غير الرجل المبهم الذي روى عنه نصر

اسکی سند کے سارے رجال صحیح (مسلم) کے ہیں سوائے رجل مبہم کے جس سے نصر بن عاصم(تابعی الکبیر) بیان کر رہے ہیںاعتراض:

اس پر اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ سند میں قتادہ مدلس ہےالجواب:

تو اسکا جواب ہے کہ سند میں امام شعبہ ہیں اور وہ جب قتادہ، الاعمش اور ابو اسحاق السبیعی کی عن والی روایت بیان کریں گے تو بالتفاق محدثین روایت محمول علی سماع ہوگی جیسا کہ امام شعبہ کا خود کا قول ثابت ہے

یہ اصول مسلمہ ہے

اعتراض۲:

اس سند میں سارے رجال ثقہ ہونے کے باوجود علت یہ ہے کہ تابعی نصر بن عاصم نے مبہم رجل سے یہ روایت بیان کی ہے اور رجل کے نامعلوم ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہےالجواب:

یہ اعتراض اصولا تو صحیح ہے لیکن یہاں یہ اعتراض اس روایت کی سند کی صیحت کے منافی نہیں ہے

کیونکہ امام نصر بن عاصم جو کہ کبیر تابعی ہیں اور انکا سماع انکے اپنے والد جو کہ صحابی رسول تھے اور یہ مالک بن حویرث اور دوسرے اصحاب رسول ابو معاویہ الیثی وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور انکا کوئی بھی تابعی شیخ ہے ہی نہیںاور دوسری بات یہ روایت امام نصر بن عاصم نے اصحاب رسول سے بیان کرتے ہوئے عن رجل کہا ہے تو نبی پاک کے تمام اصحاب عدل اور ثبت تھے تو یہ کوئی علت ہی نہیں جسکی وجہ سے روایت ضعیف ہو

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ انہوں نے یہ اصحاب رسول میں سے کسی رجل سے سنی ہے اسکی دلیل کیا ہے تو

اسکا جواب یہ ہے کہ محدثین نے ہی نشاندہی کی ہے کہ عاصم بن نصر عن رجل کہہ کر اصحاب رسول سے ہی روایت بیان کردیتے تھے

جیسا کہ خود امام احمد اس روایت کو جس باب میں لائے ہیں اسکا نام رکھا ہے :حديث رجال من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم

تو امام احمد نے تصریح کر دی کہ یہ روایت اصحاب رسول سے ہے جو رجل ہے تو یہ اعتراض وارد ہی نہیں ہوتا پھر اور

جیسا کہ امام ابو نعیم الاصبھانی انکے ترجمے میں ایک باب قائم کرتے ہیں :نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الصَّحَابَةِاور پھر اس باب میں یہی روایت لاتے ہیں :7303 – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ أَلَّا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ، فَقَبِلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنْ يُقْبَلْ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ أُمِرَ بِالْخَمْسِ»

(معرفة الصحابة، برقم: ۷۳۰۳، ابو نعیم الاصبھانیؒ)اور اسی طرح محدث کبیر امام ابن اثیر لکھتے ہیں :6678- نضر بن عاصم، عن رجل من الصحابة

ع: نصر بن عاصم الليثي عن رجل من الصحابة أنه أتى النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأسلم على أن لا يصلي إلا صلاتين فقبل ذلك، وقال: ” إذا دخل في الإسلام أمر بالخمس “.

(أسد الغابة في معرفة الصحابة، برقم: ۶۶۷۸)یعنی نصر بن عاصم نے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت کیااس تحقیق سے معلوم ہوا اسکی سند صحیح مسلم کی شرط پر ہے

اور جو رجل مبہم ہے وہ اصحاب رسول میں سے ہے محدثین کی تصریح کے مطابق اور یہ حدیٖث صحیح ہے

تحقیق: دعاگو اسد الطحاوی الحنفی البریلوی