مسجد کا صحن بھی مسجد کے حکم میں ہے

 اوراق سابقہ میں تبلیغی جماعت کا مساجد میں آکر ٹھہرنااور مسجد کو مسافر خانہ کی ہیئت پر کردینے کے متعلق جو گفتگو کی گئی ہے اس کے ضمن میں ایک ضروری وضاحت درپیش ہے کہ تبلیغی جماعت والے مسجد کے صحن اور فنائے مسجد کو کھانے پکانے نہانے دھونے سونے لیٹنے وغیرہ اشعال کے لئے اس طرح گھیرتے ہیںکہ مسجد کاصحن ان کے اسباب اور طباخی کے سامان سے بھرجاتا ہے جب ان سے کہاجاتا ہے کہ جناب مسجد کا ادب و احترام ملحوظ رکھو اور مسجد کو مسافر خانہ میںتبدیل مت کرو ،تب لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے یہ جواب دیتے ہیں کہ جناب عالی ! آپ خواہ مخواہ اعتراض کرتے ہیں ۔ ہم تو مسجد کے صحن میں طباخی (Cooking) کرتے ہیں اور مسجد کا صحن مسجد کے حکم میں نہیں بلکہ خارج مسجد ہے ۔

لیکن ! حقیقت یہ ہے کہ مسجد کا صحن بھی مسجد کے حکم میں ہے ۔ جو لوگ صحن مسجد کو خارج از مسجد کہتے ہیں وہ سراسر غلطی پر ہیں ۔ ان کا یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔

 امام اہلسنت ، مجدّد دین و ملت ، اعلیٰ حضرت امام احمد رضامحدث بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان نے اس مسئلہ کی تحقیق میں ایک نفیس رسالہ مسمّیٰ بنام تاریخی ’’ التبصیر المنجد بان صحن المسجد مسجد ‘‘ (۱۳۰۷؁ھ) تصنیف فرما کر دلائل قاہرہ و ساطعہ سے ثابت فرمایا ہے کہ مسجد کا صحن مسجد ہی کے حکم میں ہے ۔ اس رسالہ سے استفادہ کرتے ہوئے فقیر راقم الحروف اس مسئلہ کی عام فہم وضاحت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔:

پہلے ہم اس حقیقت کو سمجھیںکہ مسجد اس بقعہ ( مکان یا جگہ) کا نام ہے جو بغرض نماز پنجگانہ وقف خالص کیا گیا ہو ۔ جتنی جگہ واقف نے وقف کی ہے وہ تمام جگہ مسجد کے حکم میں ہے ۔اس پر عمارت ، بناء چھت وغیرہ کا ہونا شرط نہیں بلکہ اگر عمارت بھی اصلاً نہ ہو اور صرف ایک چبوترہ یا محدود میدان وقف کرنے والے نے نماز کے لئے وقف کردیا تو وہ تمام جگہ مسجد ہوجائے گی اور اس جگہ پر مسجد کے تمام احکام نافذ ہوں گے ۔ فتاوٰی قاضی خاں ، فتاوٰی ذخیرہ اور فتاوٰی عالمگیری وغیرہا میں ہے کہ ’’ رجل لہ ساحۃ امر قوما ان یصلوا فیہا بجماعہ ان قال صلوا فیہا ابدا او امرہم بالصلوۃ مطلقا و نوی الابد صارت الساحۃ مسجدا ۔ لو مات لا یورث عنہ ‘‘ ترجمہ :-’’ کسی شخص کے پاس زمین کاکوئی ٹکڑا ہے ۔ اس نے قوم کو حکم ( اجازت) دیا کہ اس زمین میں جماعت سے نماز پڑھو ۔ اگر اس نے کہاکہ ہمیشہ اس میں نماز پڑھو اور اس نے نماز کا مطلق حکم دیا اور ہمیشہ کے لئے نیت کی تو وہ زمین مسجد ہوجائے گی اور اگر وہ زمین کا مالک ( واقف ) مرگیا تو اب وہ زمین اس کے ورثہ پر تقسیم نہ ہوگی ۔ ‘‘

اب ہم مسجد کی تعمیر کے سلسلہ میں گفتگو کریں ۔ سب سے پہلے زمین کا ایک ٹکڑا تمام کا تمام مسجد کے لئے حاصل ہوا ۔ پھر اس پر عمارت ِ مسجد تعمیر کی جائے گی ۔ ہر عاقل شخص جب کسی بھی عمارت کی تعمیر کرے گا تب وہ ہرممکن کوشش کرے گا کہ یہ عمارت ہر موسم میں کارآمد ہو۔ لہٰذا وہ اس عمارت کو موسم کے اختلاف کو مدنظر رکھ کر عمارت کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔ ایک حصہ مسقف یعنی چھت والا ہوتاہے اور دوسرا حصہ غیر مسقف یعنی بغیر چھت کا کھلا ہوا (Open to sky) ہوتا ہے ۔ مسقف حصہ برف ، بارش ، سردی ، آندھی ، دھوپ وغیرہ سے بچاتا ہے اور دوسرا حصہ جو کھلاہوا اور غیر مُسقف ہوتا ہے وہ دھوپ میں بیٹھنے کے لئے ، کپڑے سکھانے کے لئے ، ہوا لینے اور گرمی سے بچنے کے کام میں آتا ہے ۔

ہر مکان کی تعمیر مندرجہ بالا تقسیم کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے یعنی مسقف حصہ اور غیر مسقف حصہ۔ اوران دونوں حصوں کے الگ الگ نام ہیں:-

مسقف حصہ کو عربی میں ’’ شتوی‘‘ کہتے ہیں۔

غیر مسقف حصہ کو عربی میں ’’ صیفی‘‘ کہتے ہیں ۔

یہ دونوں حصے اس عمارت یامنزل کے یکساںٹکڑے ہوتے ہیں ۔جن کے باعث وہ مکان ہر موسم میں کارآمداور فائدہ بخش ہوتاہے ۔ مثلاً مسقف حصہ موسم برسات میں بارش ، آندھی ، ہوا کے طوفان وغیرہ سے حفاظت کرتاہے ۔ موسم سردی میں سردی ،ٹھنڈی ہوا ، برف وغیرہ سے حفاظت کرتا ہے ۔گرمی کے موسم میں تیز دھوپ ، لو اور گرم ہوا کے جھونکوں سے حفاظت کرتا ہے ۔ اسی طرح غیر مسقف یعنی کھلا ہواحصہ بھی ہر موسم میں کام لگتاہے ۔ سردی کے موسم میں صبح کے وقت دھوپ میں بیٹھ کر بدن گرمانے کے لئے ، گرمی کے موسم میں شام کے وقت ٹھنڈی ہوا کی لہروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے اور رات کے وقت کھلے آسمان کے نیچے چارپائی بچھا کر سونے کے لئے کام میں آتاہے ۔ پچھلے زمانہ میں بجلی کے پنکھے ، ایئرکنڈیشن وغیرہ سہولتیں نہیں تھیں تب موسم گرمامیں لوگ غیر مسقف حصہ میں چارپائیاں بچھا کر سویا کرتے تھے ۔ علاوہ ا زیں غیر مسقف حصہ ہر موسم میں کپڑے وغیرہ سکھانے اور دیگر ضروریات کے کام میں آتا ہے ۔

تعمیر کی مندرجہ بالا تقسیم اور اس کے فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے مساجد بھی شتوی اور صیفی دو حصوں میں منقسم کرکے تعمیر کی گئی ہیں ۔ مسقف یعنی چھت والے حصہ کو ’’ مسجد شتوی‘‘ اور غیر مسقف یعنی بغیر چھت والے حصہ کو ’’ مسجد صیفی‘‘ کہتے ہیں ۔

مسجد شتوی یعنی مسجد کا مسقف چھت والا حصہ برسات کے موسم میں بارش کے پانی سے ، موسم سرما میں سردی اور ٹھنڈی ہوا سے ، اور موسم گرما میں نیز دھوپ اور لو سے نمازیوں کی حفاظت کرتا ہے ۔ اس مسقف حصہ میں نماز پڑھنے والا موسم کے اثرات کی دقّت سے محفوظ رہتا ہے ا ور اسے نماز ادا کرنے میں موسم کا اثر مزاحم اور رخنہ انداز نہیں ہوتا ۔

مسجد صیفی یعنی مسجد کا غیر مسقف بغیر چھت والا حصہ جس کو ’’ صحنِ مسجد ‘‘ کہا جاتا ہے وہ حصہ موسم گرما میں مسجد شتوی یعنی مسجد کے چھت والے حصہ میں محسوس ہونے والی گرمی سے بچنے کے لئے نمازیوں کی سہولت کے لئے بنایا جاتا ہے تاکہ فجر ، مغرب اور عشاء کی نماز کی جماعت اس حصہ میں قائم کی جائے ۔ جس زمانہ میں بجلی کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور بجلی کے پنکھے وغیرہ کی سہولت نہ تھی تب نماز فجر ، نماز مغرب اور نماز عشاء کی جماعت موسم گرما میں مسجد صیفی یعنی مسجد کے صحن میں قائم ہوا کرتی تھی تاکہ کھلے آسمان کے نیچے ٹھنڈی ہوا کی لہروں سے نمازی راحت پاکر نماز پڑھیں ۔

مسجد کی تعمیر کی مندرجہ بالا وضاحت کے بعد ایک اہم نکتہ کی طرف قارئین کرام کی توجہات مرکوز کرنا بھی ضروری ہے کہ مسجد کا مسقف حصہ اور غیر مسقف حصہ جس کو علی الترتیب مسجد شتوی اور مسجد صیفی کہتے ہیں ۔ ان دونوں حصوں کے عربی نام عوام الناس کی زبانوں پر بآسانی نہیں چڑھ سکے لہٰذاعوام الناس نے ان عربی ناموں کے بجائے دوآسان نام (۱) داخل مسجد اور (۲) خارج مسجد بولنے شروع کئے ۔ یعنی مسجد شتوی کو داخل مسجد اور مسجد صیفی کو خارج مسجد کہنے لگے اور مسجد کے دونوں حصے ان دو نامو ںسے مشہور و معروف ہوگئے اور یہ نام ایسے رائج ہوئے کہ ان ناموں کے معنی پر حقیقت کو محمول کرکے ایسی غلط فہمی پھیلی کہ مسجد کے غیر مسقف حصہ یعنی مسجد صیفی یعنی صحنِ مسجد کو عوام واقعی اور شرعاً خارج مسجد یعنی خارج از مسجد سمجھنے لگے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسجد کا صحن شرعاً خارج مسجد نہیں بلکہ داخلِ مسجد اور شاملِ مسجد ہے ۔

عوام الناس کے مسجد کے صحن کو ’’ خارج مسجد‘‘ کہنے سے مسجد کا صحن شرعاً مسجد سے خارج نہیں ہوجائے گا بلکہ اس کی مسجدیت مثل سابق بتمام و کمال باقی اور برقرار رہے گی ۔ مسجد کے صحن کو خارج مسجد کہنے سے مراد مسجد کاباہری حصہ ہی لیتے ہیں ۔ مثلاً علمائے کرام فقہی مسائل بیان کرتے وقت ظاہر بدن کو خارج البدن فرماتے ہیں ۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ بدن کا بیرونی حصہ ۔ ہرگز یہ معنی نہیں کہ بدن سے خارج یعنی بدن سے جدا اور الگ حصہ ۔ اسی طرح خارج مسجد کے معنی مسجد کا بیرونی حصہ ہے ۔ مسجد سے الگ اور جدا حصہ کے معنی میں ہرگز نہیں ۔ الحاصل ! مسجد کا مسقف حصہ یعنی مسجد شتوی کو داخل مسجد کہنا اندرونی حصہ (Internal Portion) کے معنی میں ہے اور غیر مسقف حصہ یعنی مسجد صیفی یعنی مسجد کے صحن کو خارج مسجد کہنا بیرونی (External Portion) کے معنی میں ہے ۔ الگ یا جدا حصہ Disjoined) Portion ) کے معنی میں نہیں ۔

ملت اسلامیہ کے عظیم المرتب علمائے کرام اور ائمہ دین نے صاف تشریح فرمائی ہے کہ مسجد کا مسقف حصہ یعنی مسجد شتوی اور غیر مسقف حصہ یعنی مسجد صیفی یعنی صحن مسجد یہ دونوں حصے یقینا مسجد ہیں ۔mامام طاہر بن احمد بن عبدالرشید بخاری نے ’’ فتاوٰی خلاصہ ‘‘ میں mامام فخرالدین ابو محمد عثمان بن علی زیلعی نے ’’ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں mامام حسین بن محمد سمعانی نے ’’ خزانۃ المفتین ‘‘ میں m امام محقق علی الاطلاق کمال الدین محمد بن الہمام نے ’’ فتح القدیر‘‘ میں m علامہ عبدالرحمن بن محمد رومی نے ’’ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر ‘‘ میں m علامہ سیدی احمد مصری نے ’’ حاشیہ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح ‘‘ میں mخاتم المحققین سیدی محمد بن عابدین شامی نے ’’ ردالمحتار‘‘ میں mمحقق علامہ زین بن نجیم مصری ’’ بحر الرائق‘‘ میں mعلامہ سیدی امام احمد طحطاوی نے ’’ حاشیہ در مختار ‘‘ میں mعلامہ ابراہیم حلبی ’’ شرح صغیر منیہ ‘‘ میں اور m امام محقق علامہ محمدمحمد محمد بن امیر الحاج حلبی ’’ حلیہ ‘‘ میں اس مسئلہ کے ضمن میں حسب ذیل تشریح فرماتے ہیں کہ :-

مسجدکے شتوی اور صیفی دونوں حصے مسجدکے حکم میں ہیں۔

مسجد کے بیرونی حصہ کا نام ’’صحن مسجد‘‘ہے جو مسجد سے جدا اور الگ نہیں ۔

لہٰذاثابت ہوا کہ :-

’’ مسجد کا صحن قطعاً مسجد ہے ۔ جسے ائمہ دین وعلمائے عظام کبھی ’’ مسجد صیفی‘‘ اور کبھی ’’مسجد الخارج‘‘ سے تعبیر فرماتے ہیں اور مسجد کے صحن کو مسجد ہی قرار دیتے ہیں ۔‘‘