أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـمَّا وَقَعَ عَلَيۡهِمُ الرِّجۡزُ قَالُوۡا يٰمُوۡسَى ادۡعُ لَـنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنۡدَكَ‌ۚ لَئِنۡ كَشَفۡتَ عَنَّا الرِّجۡزَ لَـنُؤۡمِنَنَّ لَكَ وَلَـنُرۡسِلَنَّ مَعَكَ بَنِىۡۤ اِسۡرَآءِيۡلَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

اور جب بھی ان پر کوئی عذاب آتا تو و کہتے اے موسیٰ ! آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس کی بناء پر ہمارے حق میں دعا کیجیے، اگر آپ نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ہم ضرور بہ ضرور آپ کے ساتھ بنو اسرائیل کو روانہ کردیں گے

تفسیر:

134 ۔ تا۔ 136:۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ” اور جب بھی ان پر کوئی عذاب آتا تو و کہتے اے موسیٰ ! آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس کی بناء پر ہمارے حق میں دعا کیجیے، اگر آپ نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ہم ضرور بہ ضرور آپ کے ساتھ بنو اسرائیل کو روانہ کردیں گے۔ پس جب ہم نے ان سے اس مدت معینہ تک کے لیے عذاب دور کردیا جس مدت تک پہنچنا ان کے لیے مقدر تھا تو وہ فوراً اپنا عہد توڑنے والے تھے۔ پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا کیوں کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے لاپروائی برتتے تھے “

ستر ہزار فرعونیوں کا طاعون میں مبتلا ہونا :

اس آیت میں رجز کا ذکر کیا ہے اس کا معنی عذاب ہے۔ ایک تفسیر یہ ہے کہ اس عذاب سے مراد وہی پانچ قسموں کا عذاب ہے جس کا اس سے پہلی آیت میں ذکر فرمایا ہے یعنی طوفان، ٹڈیوں اور قمل وغیرہ کا عذاب اور دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد طاعون ہے۔ امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن زید نے کہا رجز سے مراد وہ عذاب ہے جو ان پر ٹڈیوں اور سرسریوں کی صورت میں مسلط کیا گیا تھا وہ ہر بار یہ عہد کرتے تھے کہ اگر ان سے یہ عذاب دور کردیا گیا تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں گے اور ہر بار اس عہد کو توڑدیتے تھے۔ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں جب قوم فرعون پر ان مذکورہ پانچ قسموں کا عذاب آچکا اور وہ ایمان نہیں لائی اور نہ انہوں نے بنو اسرائیل کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھیجا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا : تم میں سے ہر شخص ایک مینڈھا ذبح کرے پھر اسکے خون سے اپنی ہتھیلی کو رنگ لے پھر اپنے دروازے پر وہ ہاتھ مارے۔ قبطیوں نے بنو اسرائیل سے پوچھا : تم اپنے دروازوں پر یہ خون کیوں لگا رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ تم پر ایک عذاب بھیجے گا جس سے ہم سلامت رہیں گے اور تم ہلاک ہوجاؤگے، قبطیوں نے کہا : تو اللہ تعالیٰ تم کو صرف ان علامات سے پہچانے گا ؟ انہوں نے کہا : ہم کو ہمارے نبی نے اسی طرح کم دیا ہے۔ پھر صبح کو فرعون کی قوم کے ستر ہزار افراد کو طاعون ہوچکا تھا اور شام کو وہ سب مرچکے تھے اور ان کدفنایا بھی نہیں گیا۔ اس وقت فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا : اے موسیٰ آپ کے رب نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کیجیے اگر آپ نے ہم سے یہ عذاب دور کردیا تو ہم ضرور بہ ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور ہم ضرور بہ ضرور آپ کے ساتھ بنو اسرائیل کو روانہ کردیں گے۔ پس جب ہم نے ان سے اس مدت معینہ تک کے لیے عذاب دور کردیا جس مدت تک عذاب پہنچنا ان کے لیے مقدر تھا تو وہ فوراً اپنا عہد توڑنے والے تھے۔ 

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں رجز سے مراد ان مذکورہ پانچ قسموں کا عذاب ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد طاعون کا عذاب ہو۔ قرآن مجید میں اور کسی حدیث میں یہ ذکر نہیں ہے کہ یہاں رجز سے کون سا عذاب مراد ہے۔

عقائد میں تقلید کا مذموم ہونا اور فروع میں تقلید کا ناگزیر ہونا :

اس کے بعد فرمایا : پھر ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور وہ ان سے لاپرواہی برتتے تھے۔ اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قوم فرعون سے متعدد بار عذاب کو دور کیا لیکن وہ اپنے کفر اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے اور وہ بالآخر اس میعاد پر پہنچ گئے جو ان کو ڈھیل دینے کی آخری حد تھی۔ انتقام کا معنی ہے نعمت سلب کرنا اور سزا دینا اور ” الیم ” کا معنی ہے سمندر۔ امام رازی نے کشاف کے حوالہ سے لکھا ہے ” یم ” کا معنی ہے بہت گہرا سمندر جس کی گہرائی کا اندازہ نہ کیا جاسکے۔ غفلت کا معنی ہے قوت حافظہ، حاضر دماغی اور بیدار مغزی میں کمی کی وجہ سے سہو کا طاری ہونا اور انسان کا کسی چیز کو بھول جانا۔ (المفردات ج 2، ص 469، مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز، مکہ مکرمہ) ۔ اب یہاں پر یہ اعتراض ہے کہ غفلت انسان کا اختیار فعل نہیں ہے تو پھر غفلت کی وجہ سے ان کو کیوں سزا دی گئی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے ان کو سمندر میں اس لیے غرق کردیا کہ وہ ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے غافل تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں غفلت سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرتے تھے اور لاپرواہی برتتے تھے اور ان سے کوئی سبق اور نصیحت حاصل نہیں کرتے تھے۔ ایک اور اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں ان کو سزا دینے کے دو سبب بیان کیے ہیں۔ ایک آیات کی تکزیب کرنا اور دوسرا ان سے لاپرواہی برتنا۔ حالانکہ ان کے علاوہ اور بہت سارے گناہ کرتے تھے مثلا بنو اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور ان سے بلاوفہ بےگار لیتے تھے، اور زمین میں طرح طرح سے فساد کرتے تھے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں حصر کا کوئی کلمہ نہیں ہے کہ ان کو صرف ان ہی دو سییوں سے سزا دی گئی ہے اور دو سییوں کا خصوصیت سے اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ تمام فساد اور گناہوں کی جڑ یہ دو چیزیں تھیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آتے اور ان نشانیوں سے سبق حاصل کرتے تو دوسرے گناہوں میں نہ پڑتے۔ 

امام رازی نے فرمایا ہے : اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بلا دلیل اندھی تقلید کرنا مذموم اور باطل ہے جیسا کہ فرعون کی قوم کھلی کھلی اور واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود کفر میں فرعون کی تقلید کرتی تھی۔ (تفسیر کبیر ج 5، ص 348، مطبعہ بیروت)

سہل سنت جو ائمہ اربعہ کی تقلید کرتے ہیں اس پر اس آیت سے اعتراض نہیں ہوتا۔ اولاً اس لیے کہ اس آیت میں اصول میں تقلید کی مذمت ہے اور اہل سنت اصول ائمہ کی تقلید نہیں کرتے بلکہ اصول (یعنی توحید اور رسالت) کو دلائل سے مانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اصول میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور عقائد میں سب متفق ہیں اور فروع میں ائمہ کی تقلید کرتے ہیں اور اس تقلید کا یہ معنی ہے کہ احکام فرعیہ پر عمل کا جو طریقہ ہمارے امام نے کتاب اور سنت سے مستنبط کیا ہے اس میں ظن غالب یہ ہے کہ وہی صحیح ہے۔ اور دوسرے امام کا طریقہ خطا پر مبنی ہے لیکن ہوسکتا ہے کہ ہمارے امام کے اجتہاد میں غلطی ہو اور دوسرے امام کا اجتہاد صحیح ہو لیکن اجتہادی غلطی پر مواخذہ نہیں ہوتا اور اس پر بہرحال ایک اجر ملے گا۔ اس کے برخلاف عقائد میں تقلید نہیں ہوتی نہ ان میں ائمہ کا اختلاف ہوتا ہے، اور ثانیا اس لیے کہ ہم ائمہ کی اندھی تقلید نہیں کرتے انہوں نے احکام فرعیہ پر عمل کرنے کے جو طریقے کتاب اور سنت سے اخذ کیے ہیں ان سب پر قرآن اور حدیث سے دلائل موجود ہیں جن پر مفصل کتابیں دستیاب ہیں۔ اس کے باوجود ائمہ نے کہا ہے کہ اگر ہمارا کوئی قول حدیث کے خلاف و تو حدیث پر عمل کرو اور ہمارے قول کو چھوڑ دو ۔ اور ایک عام انسان کو اتنا علم نہیں ہوتا کہ وہ از خود احکام فرعیہ پر عمل کرنے کے طریقوں کو کتاب اور سنت سے نکال سکے بلکہ اس کو قرآن مجید کی تمام آیات کے معانی کا ہی علم نہیں ہوتا اور نہ اس کی نظر میں تمام احادیث ہوتی ہیں، نہ ان کے معانی کا علم ہوتا ہے، اس وجہ سے اس کے لیے امام کی تقلید کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 7 الأعراف آیت نمبر 134