وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًاۘ-قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗؕ-قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْؕ-هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۳)

اور ثمود کی طرف (ف۱۳۶) ان کی برادری سے صالح کو بھیجا کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے (ف۱۳۷) روشن دلیل آئی(ص۱۳۸) یہ اللہ کا ناقہ ہے (ف۱۳۹) تمہارے لیے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ(ف۱۴۰) کہ تمہیں دردناک عذاب آلے گا

(ف136)

جو حِجاز و شام کی درمیان سر زمینِ حَجۡر میں رہتے تھے ۔

(ف137)

میرے صدقِ نبوّت پر ۔

(ف138)

جس کا بیان یہ ہے کہ ۔

(ف139)

جو نہ کسی پیٹھ میں رہا ، نہ کسی پیٹ میں ، نہ کسی نر سے پیدا ہوا ، نہ مادہ سے ، نہ حمل میں رہا ، نہ اس کی خِلقَت تدریجاً کمال کو پہنچی بلکہ طریقۂ عادیہ کے خلاف وہ پہاڑ کے ایک پتھر سے دَفۡعتاً پیدا ہوا ۔ اس کی یہ پیدائش معجِزہ ہے پھر وہ ایک دن پانی پیتا ہے اور تمام قبیلۂ ثمود ایک دن ۔ یہ بھی معجِزہ ہے کہ ایک ناقہ ایک قبیلہ کے برابر پی جائے اس کے علاوہ اس کے پینے کے روز اس کا دودھ دوہا جاتا تھا اور وہ اتنا ہوتا تھا کہ تمام قبیلہ کو کافی ہو اور پانی کے قائم مقام ہو جائے یہ بھی معجِزہ اور تمام وُحُوش و حیوانات اس کی باری کے روز پانی پینے سے باز رہتے تھے یہ بھی معجزہ ۔ اتنے معجزات حضرت صالح علیہ السلام کے صدقِ نبوّت کی زبردست حُجّتیں ہیں ۔

(ف140)

نہ مارو ، نہ ہکاؤ ، اگر ایسا کیا تو یہی نتیجہ ہوگا ۔

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًاۚ-فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۷۴)

اور یاد کرو (ف۱۴۱) جب تم کو عاد کا جانشین کیا اور ملک میں جگہ دی کہ نرم زمین میں محل بناتے ہو (ف۱۴۲) اورپہاڑوں میں مکان تراشتے ہو (ف۱۴۳) تو اللہ کی نعمتیں یاد کرو (ف۱۴۴) اور زمین میں فساد مچاتے نہ پھرو

(ف141)

اے قومِ ثمود ۔

(ف142)

موسمِ گرما میں آرام کرنے کے لئے ۔

(ف143)

موسم سرما کے لئے ۔

(ف144)

اور اس کا شُکر بجا لاؤ ۔

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖؕ-قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۷۵)

اس کی قوم کے تکبر والے کمزور مسلمانوں سے بولے کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کے رسول ہیں بولے وہ جو کچھ لے کر بھیجے گئے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں (ف۱۴۵)

(ف145)

ان کے دین کو قبول کرتے ہیں ، ان کی رسالت کو مانتے ہیں ۔

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ(۷۶)

متکبر بولے جس پر تم ایمان لائے ہمیں اس سے انکار ہے

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ(۷۷)

پس (ف۱۴۶) ناقہ کی کوچیں(قدم) کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ (ف۱۴۷) جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو

(ف146)

قومِ ثمود نے ۔

(ف147)

وہ عذاب ۔

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ(۷۸)

تو اُنہیں زلزلہ نے آلیا توصبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ(۷۹)

تو صالح نے ان سے منہ پھیرا (ف۱۴۸) اور کہا اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچادی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی(پسندکرنے والے) ہی نہیں

(ف148)

جب کہ انہوں نے سرکشی کی ۔ منقول ہے کہ ان لوگوں نے چَہار شَنبہ کو ناقہ کی کونچیں کاٹی تھیں تو حضرت صالح علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اس کے بعد تین روز زندہ رہو گے ، پہلے روز تمہارے سب کے چہرے زَرۡ د ہو جائیں گے ، دوسرے روز سُرخ ، تیسرے روز سیاہ ، چوتھے روز عذاب آئے گا چنانچہ ا یسا ہی ہوا، یک شنبہ کو دوپہر کے قریب آسمان سے ایک ہَولناک آواز آئی جس سے ان لوگو ں کے دل پھٹ گئے اور سب ہلاک ہو گئے ۔

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ(۸۰)

اور لوط کو بھیجا (ف۱۴۹) جب اس نے اپنی قوم سے کہاکیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی

(ف149)

جو حضرت ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بھتیجے ہیں آپ اہلِ سَد وم کی طرف بھیجے گئے اور جب آپ کے چچا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے شام کی طرف ہجرت کی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سر زمینِ فلسطین میں نُزول فرمایا اور حضرت لوط علیہ ا لسلام اُرۡدن میں اترے ۔ اللہ تعالٰی نے آپ کو اہلِ سَدوم کی طرف مبعوث کیا آپ ان لوگوں کو دینِ حق کی دعوت دیتے تھے اور فعلِ بد سے روکتے تھے جیسا کہ آیت شریف میں ذکر آتا ہے ۔

اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ(۸۱)

تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو (ف۱۵۰) عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے(ف۱۵۱)

(ف150)

یعنی ان کے ساتھ بَد فعلی کرتے ہو ۔

(ف151)

کہ حلال کو چھوڑ کر حرام میں مبتلا ہوئے اور ایسے خبیث فعل کا ارتکاب کیا ۔ انسان کو شہوت بقائے نسل اور دنیا کی آبادی کے لئے دی گئی ہے اور عورتیں مَحلِّ شہوت و موضوعِ نسل بنائی گئی ہیں کہ ان سے بطریقۂ معروف حسبِ اجازتِ شرع اولاد حاصل کی جائے ، جب آدمیوں نے عورتوں کو چھوڑ کر ان کا کام مَردوں سے لینا چاہا تو وہ حد سے گزر گئے اور انہوں نے اس قوّت کے مقصدِ صحیح کو فوت کر دیا کیونکہ مَرد کو نہ حمل رہتا ہے نہ وہ بچّہ جنتا ہے تو اس کے ساتھ مشغول ہونا سوائے شیطانیت کے اور کیا ہے ! عُلَمائے سِیَر و اَخبار کا بیان ہے کہ قومِ لُوط کی بستیاں نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں غَلّے اور پھل بکثرت پیدا ہوتے تھے زمین کا دوسرا خِطّہ اس کا مِثل نہ تھا اس لئے جا بجا سے لوگ یہاں آتے تھے اور انہیں پریشان کرتے تھے ، ایسے وقت میں اِبلیسِ لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان سے کہنے لگا کہ اگر تم مہمانوں کی اس کثرت سے نَجات چاہتے ہو تو جب وہ لوگ آئیں تو ان کے ساتھ بَد فعلی کرو ، اس طرح یہ فعلِ بَد انہوں نے شیطان سے سیکھا اور ان میں رائج ہوا ۔

وَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْۚ-اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ(۸۲)

اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان (ف۱۵۲) کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں(ف۱۵۳)

(ف152)

یعنی حضرت لوط اور انکے مُتّبِعین ۔

(ف153)

اور پاکیزگی ہی اچھی ہوتی ہے وہی قابلِ مدح ہے لیکن اس قوم کا ذوق اتنا خراب ہوگیا تھا کہ انہوں نے اس صفتِ مدح کو عیب قرار دیا ۔

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ ﳲ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۸۳)

تو ہم نے اسے(ف۱۵۴)اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی (ف۱۵۵)

(ف154)

یعنی حضرت لوط علیہ السلام کو ۔

(ف155)

وہ کافِرہ تھی اور اس قوم سے مَحبت رکھتی تھی ۔

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًاؕ-فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠(۸۴)

اور ہم نے ان پر ایک مِینہ برسا یا (ف۱۵۶) تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا (ف۱۵۷)

(ف156)

عجیب طرح کا جس میں ایسے پتھر برسے کہ گندھک اور آ گ سے مرکَّب تھے ۔ ایک قول یہ ہے کہ بستی میں رہنے والے جو وہاں مقیم تھے وہ تو زمین میں دھنسا دیئے گئے اور جو سفر میں تھے وہ ا س بارش سے ہلاک کیے گئے ۔

(ف157)

مجاہد نے کہا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نازِل ہوئے اور انہوں نے اپنا بازو قومِ لوط کی بستیوں کے نیچے ڈال کر اس خطہ کو اکھاڑ لیا اور آسمان کے قریب پہنچ کر اس کو اوندھا کر کے گرا دیا اور اسکے بعد پتھروں کی بارش کی گئی ۔